آزادی اور اپنے

316

: شہلا خضر
اگست کے مہینے کا آغاز ہو چکا تھا ۔ہمیشہ کی طرح ہر طرف “جشن آزادی ” منانے کی تیاریاں زور وشور سے جاری تھیں ۔ آزادی جیسی بڑی نعمت کے احساس کی خوشی سے بچوں بوڑھوں اور جوانوں کے چہرے خوشی سے کھل رہے تھے ” ۔کرونا وبا ” کا زور ٹوٹ چکا تھا پر ابھی مکمل طور پر ختم نہ ہواتھا۔۔اسی لیےحفاظتی تدابیر کے مطابق اس اہم دن کے استقبال کے لیے سب ہى مگن تھے ۔
رات کے کھانے کے لیےانجم آراء کا چھوٹا سا کنبہ بیٹا روحیل ، بہو پریشے اور دو سالہ پوتی” زنیرہ “۔ سب میز پر موجود تھے ۔آج انجم آراء نے سب کی فرمائش پر اپنے بچوں کے لیے خاص ترکیب والی ” مصالحے دار نہاری” بنائی تھی جسے سب مزے سے نوش فرما رہے تھے ۔اچانک جہاں آراء کو زور دار چھینکوں کی بوچھاڑ شروع ہو گگئی ۔
پریشے نے ساس کی طرف چونک کر دیکھا اور تیزی سے زنیرہ کو کھینچ کر اپنے ساتھ چمٹا لیا ۔
“کیا ہوا امی جان ؟؟؟ خیریت تو ہے ؟؟؟ پہلے تو کبھی آپ کو اتنی چھینکیں نہیں آئی تھیں ؟؟؟؟؟
میں نے آپ کو کتنی دفعہ کہا ہے کہ کام والی خالہ کو دیر تک نہ بٹھایا کریں ،ﷲ خیر کرے کہیں اس نے آپ کو کوئی کرونا کا جراثیم تو نہیں لگادیا؟؟؟؟؟؟؟؟ اﷲ پاک رحم فرما ہم پر ۔۔۔۔۔۔۔”
ہونق، بنی پریشے نے خوفزدہ لہجے میں کہا
انجم آراء بہو کے اس تفتیشی انداز سے شرمندہ سی ہو گئیں ۔
“ نہیں بہو ایسا کچھ بھی نہیں ہے ، کام والی رشیدہ بہن تو بہت صاف ستھری اور نمازی ہیں وہ صبح سویرے سے شام تک گھروں میں کام کرتی ہیں ، اسی لیے میں انہیں کچھ دیر اپنے پاس سستانے کوبٹھا لیتی ہوں۔
تم بلا وجہ پریشان ہو رہی ہو ۔۔کل میں نے ٹھنڈا اورینج اسکاش پیا تھا اسی لیے شائد نزلہ کھانسی ہو گیا ۔”
انجم آراء نے بہو کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ۔۔۔
پر جناب پریشے نے توجیسے کوئی بھوت پریت دیکھ لیا ہو ،ساس کی چھینکوں سے ایسی خوفزدہ ہوئى کہ بیٹی کو لے کرکمرے میں گھس کر بیٹھ گئی ۔
روحیل نےجب سمجھانے کی کوشش کی تودونوں کے درمیان زوردار بحث وتکرار ہوگگئی ۔۔ پریشے کا کہنا تھا کہ وہ زنیرہ کی صحت کے حوالے سے کوئی خطرہ مول نہیں لیناچاہتی ۔
جہاں آراء ایک سمجھدار خاتون تھیں وہ جانتی تھیں کہ کرونا بہت موزی وبا ہے اور اگر انہیں کوئی ایسا مسئلہ درپیش ہوا تو وہ معصوم بچی کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ، لہٰذاانہوں نے بہو بیٹے کو خود ہی فیصلہ سنادیا
“ جب تک میری طبیعت مکمل طور سے بحال نہ ہوگی میں احتیاطا اپنے کمرے میں “کورنٹین “ میں رہوں گی ، اور اس طرح آرام ملنے سے طبیعت جلدی ٹھیک بھی ہوجائے گی “
ان کی یہ تجویز تھوڑی پس وپیش کے بعد روحیل نے مان لی۔
اور یوں جہاں آراء کے” سیلف کورنٹین “ کاآغاز ہوا ۔۔۔
جہاں آراء ایک محنتی اور باہمت خاتون تھیں ان کے والد” شہاب الدین ” تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن تھے۔ انگریز حکومت کے خلاف مسلم لیگ کے تمام احتجاجی مظاہروں اور جلوسوں میں پیش پیش ہوتے ۔تقسیم کے وقت جہان آراء بہت چھوٹی تھیں مگر ان کے یادوں میں وہ خون آشام رات آج بھی تازہ تھی جب وہ اپنے والدین دادا دادی اور چچا کے ہمراہ جالندھر کے علاقے سے بھارت کا بارڑر پار کر کے پاکستان کی سرحد میں داخل ہونے والے تھے اور ہندو بلوائیوں نے اچانک دھاوا بول دیا ۔سب کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر قتل کر دیا گیا ۔جہان آراء شدید خوف سے بے ہوش ہو گئیں اور ان کو جب ہوش آیا تو وہ پاکستان کے مہاجر کیمپ میں موجود تھیں ۔وہاں بہت سے بے سہارا افراد موجود تھے ۔جہاں آراء کو ایک بے اولاد جوڑے نے اپنا لیا اور جہان آراء کی نئی زندگی کا آغازہوا ۔برسوں گزر جانے کے باوجود بھی وہ یہ دردناک منظر بھول نہ پائیں تھیں ۔جہاں آراءپاکستان سے بےانتہاءمحبت کرتی تھیں کیونکہ اس آزاد وطن میں سانس لینے کے لیے ان کے آباء واجداد نے بے شمار مصائب دیکھے یہاں تک کہ اپنا لہو بھی نچھاور کر دیا ۔
شادی کے کچھ سال بعد ہی ان کے شوہر ایک حادثے کا شکار ہو کر داغ مفارقت دے گئے ۔ انہوں نے بیوگی کے باوجود دن رات کپڑوں کی سلائى کر کے اکلوتے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم دلوائی ۔روحیل بھی بہت لائق اور فرمانبردار تھا ۔زہین طلباء کی فہرست میں ہمیشہ اس کا نام سر فہرست رہتا ۔تعلیم مکمل کرتے ہی اسے ایک معروف کمپنی نے نوکری کےلیے ہاتھوں ہاتھ لے لیا گیا ۔۔۔۔بیٹا پیروں پر کھڑا ہو گیا تو جہاں آراء نے جان پہچان کے ایک گھرانے میں اس کا رشتہ طے کر دیا ۔۔ اور جلد ہی پریشے دلہن بن کر جہاں آراء کے سونے گھر کی رونق بن کر آگئی ۔۔۔
ویسے تو پریشے پڑھی لکھی اچھی لڑکی تھی ۔۔۔ پر مزاج کچھ تیکھا اور جارحانہ تھا۔ اسے ہر معاملے میں من مانی کی عادت تھی ۔
کچھ عرصے بعد ﷲ تعالیٰ نے انہیں پیاری سی پوتی” زنیرہ” سے نوازا تو ننھی شہزادی پر دل و جان سے فدا تھیں ۔۔۔ خوب لاڈ لٹائے جاتے ، مالش کرنا ،نہلانا، کپڑے تبدیل کرانا ،اس کے چھوٹے چھوٹے کام وہ بے انتہاء محبت وشوق سے کرتیں
وقت کا پہیہ یونہی چلتا جا رہا تھا ، زنیرہ اب دو سال کی ہو چکی تھی ۔۔کرونا کی وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا کہ اچانک آئی چھینکوں نے جہاں آراء کو “کورنٹین “ ميں پہنچا دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
جہاں آراء نے یہ فیصلہ تو کر لیا ، پر انہیں فارغ بیٹھنا محال لگنے لگا
اس سے بھی زیادہ مشکل اپنی جان سے پیاری پوتی سے دور رہنا تھا ۔
ان کا دل اپنی ننھی شہزادی کو گلے لگانے کے لیے مچل رہا تھا ۔۔۔پر صبر کے سوا کوئی چارہ نہ تھا ۔
جہاں آراء نے فرصت کے لمحوں کو کار آمد بنانے کا سوچا، کمرے میں رکھی اپنی پرانی “وفادار سلائى مشین “ کو نکالا ، صاف صفائ کی ، اور پوتی کے لیے خوبصورت فراک اور قمیض شلوار کی سلائ کرنے کی ٹھان لی ۔۔۔۔۔۔۔
سلائ کی ماہر تو وہ تھیں ہی، دو دن کے اندر اندر انہوں نے اپنے کٹ پیس کے تھیلوں میں سے زنیرہ کے لیے ڈھیروں پیارے پیارے کپڑے تیار کر ڈالے ۔۔۔۔
دوسری طرف پریشے بہت پریشان تھی ، گھر گھرہستی اکیلے سنبھالنا اسے پہاڑ سر کرنے کے مترادف لگ رہا تھا ،اور زنیرہ کی نگہداشت کا ذمہ تو شروع سے اس کی دادی کے سر تھا ، وہ حیران تھی کہ اتنے سارے کام امی جان کیسے کر لیتی تھیں ؟؟
(جاری ہے )
بے ترتیبی اور بد نظمی کے باعث کام نبٹ ہی پاتے ، الٹا پریشے ہلکان سی ہو جاتی ۔۔۔۔۔۔۔چند ہی دنوں میں پریشے کا چہرہ مرجھا گیا ۔۔زنیرہ بھی کافی چڑچڑی سی ہو رہی تھی ، بلاوجہ رونا اورضد کرنا بھی شروع کردیا تھا ۔۔۔۔
پریشے نے کپڑوں کی دھلائی کا کام کبھی نہ کیا تھا ، مگر بہت دنوں تک جب کپڑے نہ دھلے تو میلے کپڑوں کا ڈھیر لگ گیا ۔آخر کار چاروناچار اس نے انہیں دھونے کا فیصلہ کر لیا ۔واشنگ مشین لگائے ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ زنیرہ نیند سے جاگ کر رونے لگیں پریشے کو شدید غصہ آیا “ ابھی تو سُلا کر آئی تھی یہ کیسے اٹھ گئ ؟”
ڈھیروں کپڑے باقی ہیں ، اب سارا کام چوپٹ ہو جائے گا ۔۔۔۔”
شدید کوفت اور جھنجھلاہٹ میں وہ کمرے کی طرف لپکی ،پر فرش پر پھیلے صرف والے پانی کی طرف دھیان نہ رہا اور بری طرح پاؤں پھسل گیا اور وہ دھڑام سے نیچے آ گری۔
شدید درد کی لہر اس کے دائیں پیر میں اٹھی اور وہ زور سے چلائى ۔۔
جہاں آراء قرآن پاک کی تلاوت میں مشغول تھیں ، بہو کی آواز سن کر دوڑ کر باہر آئیں ، جلدی میں ماسک پہننے کا موقع نہ ملا پر انہوں نے دوپٹے کے پلو سے چہرہ ڈھانپ لیا ، ۔۔۔۔۔ بہو کو یوں نیچے گرے کراہتے دیکھا تو جلدی سے اسے سہارا دے کر اٹھایا اور کمرے کی طرف لے گئیں ،
زنیرہ نے رو رو کر چہرہ لال کر لیا تھا ، جہاں آراء نے پوتی کو اٹھا کر سینے سے لگایا ،دادی کی گود میں آتے ہی زنیرہ جيسے پرسکون ہوگئى اور دادی کے ساتھ چمٹ گئ۔
پریشے کے پیر میں شدید موچ آئی تھی ۔۔ جہاں آراء نے پہلے زنیرہ کو فیڈر بنا کر ماں کے ساتھ لٹا دیا ،پھر باورچی خانے سے ہلدی کا لیپ بنا کر لائیں اور بہو کے سوجے ہوئے پیر پر لگا دیا ، جس کے باعث درد کی شدت میں کمی آئى۔
جہاں آراء بہو کو آرام کا مشورہ دے کر کمرے سے باہر آگئیں۔
سب سے پہلے واشنگ مشین سے تمام کپڑے دھو کر نکالے پھر باورچی خانے کا رخ کیا ، پورا باورچی خانہ اوندھا پڑا تھا ،جسے کچھ ہی دیر میں جہاں آراء نے سمیٹ کر صاف ستھرا کرچکى تھى۔
روحیل جب بازار سے سودا سلف لے کر لوٹے تو گھر کا نقشہ ہی بدلا ہوا تھا ۔
تمام گھر سلیقے سے صاف ستھرا دکھ رہا تھا ، زنیرہ بھی مطمئن بیٹھی اپنے کھلونوں سے کھیل رہی تھی ۔باورچی خانے سے مزیدار پکوان بنائےجانے کی مہک آرہی تھی ۔۔۔ والدہ نے ساراماجرہ بتایا توروحیل نے پریشے کو تسلی دی اور کہا کہ ایک دو دن آرام ملے گا تو یہ موچ بلکل ٹھیک ہو جائے گی۔
۔روحیل نے دفتر سے چند دن کی چھٹی لے لی تاکہ گھر کے کام کاج میں اپنی والدہ کا ہاتھ بٹا سکے ۔جہا ں آراء نے ماں کی طرح پریشے کا خیال رکھا ، یہاں تک کہ کھانا بھی اسے کمرے میں دیتیں۔۔۔۔
کچھ دن مسلسل آرام ملا تو پریشے کی موچ بھی ٹھیک ہوگئ ۔اگلے دن چودہ اگست “آزادی ” کا جشن منایا جانا تھا ۔
جہاں آراء مغرب کے ازکار پڑھنے میں مشغول تھیں۔۔۔اتنے میں پریشے ان کے کمرے میں داخل ہوئ ،جہاں آراء نے میز پر پڑے ماسک کو پہننے کےلیے اٹھانا چاہا تو پریشے نے ان کے ہاتھوں سے وہ لے لیا اور جہاں آراء کے قدموں میں بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔
“امی جان آپ کے بغیر ہم سب ادھورے ہیں ۔۔۔۔۔۔، آپ کے دم سے گھر میں ساری برکت اور رحمت ہے ۔ میں بہت نادان اور نا سمجھ ہوں آپکی معمولی کھانسی کی وجہ سے بلا وجہ غیر ضروری پریشان ہو گئی تھی۔مجھے معاف کر دیں ۔۔۔میں نے آپ کا دل دکھایا ۔۔۔آپ نے تو ہمیشہ سگی ماں سے بڑھ کر میرا خیال رکھا چند دن میں نے اکیلے وہ سب کام کیے جنہیں آپ کےذمے ڈال کر میں بہت بے فکری سے رہتی ہوں تو مجھے اندازہ ہوا کہ آپ نے میری آسانی اور سہولت کے لیےکتنا زیادہ بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے آئندہ گھر کے سارے کام میں آپ سے سیکھوں گی اور آپ کو اکیلے کچھ نہیں کرنے دوں گی ۔”
پدیشے شرمندہ چہرہ لیے روئے چلے جارہی تھی ۔
جہاں آراء نے بہو کو سینے سے لگا لیا اور بوليں
“ ماں کبھی اپنے بچوں سے ناراض نہیں ہوتی ۔۔۔ مجھے کچھ بھی برا نہی لگا ۔۔۔ تمُ سب کی صحت وزندگی مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔۔چلو بس رونا بند کرو ، تم تو میری بیٹی ہو ، بہو نہیں ،۔۔۔۔”
روحیل بھی زنیرہ کواٹھائے کمرے میں آ گئی ۔وہ ان کی باتیں سن کر مسکرانے لگے ۔
جہاں آراء نے بڑا سا تھیلا پریشے کے ہاتھوں میں تھماتے ہوئے کہا
“ یہ لو پریشے بیٹی یہ تمُ دونوں ماں بیٹی کے لیے میری طرف سے جشن آزادی کاتحفہ ہے ۔کل ہم سب مل کر آزادی کی نعمت کا شکر ادا کریں گے اور اپنوں کا جو ساتھ ہمیں ملا ہے اس نعمت کا بھی شکر ادا کریں گے ۔۔ ہماری اصل آزادی تو يہ ہے کہ ہم کھلے دل سے ایک دوسرے کےوجود اور موجودگی کو تسلیم کریں اور انہیں اپنائیں ۔”
جہاں آراء کی باتیں سن کر پریشے نے محبت سے کہا “بلکل ٹھیک کہا امی جان یہ آزاد وطن اور اس میں موجود اپنے پیاروں کا ساتھ بلا شبہ اللہ کی بڑی نعمتیں ہیں ہمیں ان کی قدر کرنی چاہی ۔”
طمانیت اور خوشی کی چمک جہاں آراء کے چہرے پر جھلکنے لگی ۔۔