آسمان صحافت کا سورج غروب ہوگیا

198

پاکستان کے مایہ ناز صحافی اور روزنامہ جسارت کے ایڈیٹر انچیف سید اطہر علی ہاشمی کا کراچی میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال ہو گیا، جس پر مرحوم کے دیرینہ ساتھیوں اور جرنلسٹس فورم کے ارکان نے نمایندہ جسارت سید مسرت خلیل سے اپنے دکھ اورتاثرات کا اظہار کیا جو قارئین کی نذر ہے۔
سینئر صحافی اور کالم نگار شہزاد اعظم نے بتایا کہ اطہر ہاشمی کے انتقال کی خبر جمعرات 6اگست کو پی جے ایف، جدہ کے رکن محمد عامل عثمانی کے پیغام سے ملی۔ اللہ کریم انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل سے نوازے۔ انہوں نے کہا کہ اطہر علی ہاشمی قلماً ہی صحافی نہیں تھے بلکہ وہ عملاً، لساناً، عادتاً، مزاجاً حتیٰ کہ ’’نشستن اور برخاستن‘‘ بھی صحافی تھے۔ وہ صحافت و دنیائے ادب کا اجالا تھے۔ وہ شعر کہتے تھے مگر شاعر نہیں تھے۔ سوچوں میں بلندیوں پر پرواز کرتے تھے مگر طائر نہیں تھے۔ جب ہم اُردو نیوز میں خدمات کی انجام دہی کے لیے جدہ روانہ ہوئے تو وہ میرے ساتھ تھے۔ جدہ میں دفتر کے 4 افراد ایک فلیٹ میںاکٹھے رہے، تب بھی وہ ہمارے ساتھ تھے۔ وہ میرے محسن تھے اور ہمیشہ رہیں گے۔ میں نے اُن کی پیشانی پر کبھی بل نہیں دیکھا اور انتہائی حیرت انگیز بات یہ کہ ہم طویل عرصے گھر اور دفتر میں ایک ساتھ رہے مگر میں نے انہیں کبھی غصے کی کیفیت میں نہیں پایا۔
معروف شاعر اور صدر عالمی اردو مرکز سعودی عرب اطہر نفیس عباسی کا کہنا تھا کہ شاہد نعیم نے انتہائی دُکھ اور افسوس کے ساتھ اطلاع دی کہ پاکستان کے مایہ ناز صحافی و مصنف، روزنامہ جسارت کے ایڈیٹر انچیف سید اطہر علی ہاشمی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ اطہر ہاشمی سے میری پہلی ملاقات جدّہ میں مرحوم ظفر مہدی کے ہاں ایک شعری نشست میں ہوئی تھی اور پھر اس کے بعد یہ سلسلہ ان کی جدّہ سے کراچی واپسی تک جاری رہا۔ کراچی میں روزنامہ امت اور جسارت کے دفتر کے علاوہ آرٹس کونسل اور کراچی پریس کلب میں مختصر ملاقاتیں رہیں۔
جدّہ میں جب ہم کسی تقریب میں ایک ساتھ شرکت کرتے تو کہتے کہ آج کی تقریب میں اطہر عین شریک ہیں۔ آرٹس کونسل کراچی میں ایک کتاب کی تقریب رونمائی تھی، میں بھی ان دنوں کراچی میں تھا۔ یہ سوچ کر کہ دوستوں سے ملاقات ہوجائے گی، پہنچا تو وہاں اطہر ہاشمی بھی موجود تھے۔ ملاقات ہوئی تو کہنے لگے، اچھا آپ آئے ہوئے ہیں۔ دیکھیے کس خوبصورت انداز میں ہماری خبرلی اور کہنے لگے ’’مجھے یاد نہیں کہ جدّہ میں کبھی ہماری لڑائی ہوئی ہو‘‘۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحوم پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے اور جنت الفردوس میں بلند درجات سے نوازے۔
نومبر 2000ء کو جدّہ میں اطہر ہاشمی کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد ہوئی تو میں نے ان کے نام ایک نظم کہی تھی۔ آج ان کی بے شمار یادوں کے ساتھ وہی نظم احباب کی خدمت میں پیشِ کررہا ہوں۔
اطہر ہاشمی کے نام ۔۔۔۔ ایک نظم

نامور صحافی و کالم نگار رؤف طاہر نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا اطہر ہاشمی میرے بڑے بھائیوں کی طرح تھے۔ 1981ء میں، میں نے جسارت کا لاہور آفس جوائن کیا تو وہ کراچی ہیڈ آفس میں بہت اہم ذمے داریاں ادا کر رہے تھے۔ ان سے رابطہ رہتا، ان کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی میرے بہت کام آئی۔ پھر جدہ میں ہم نے ایک ہی چھت تلے کام کیا۔اب میں ان کے رفیق کار سے بڑھ کر گھر کا ایک فرد بن گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اطہر بھائی کو جنت الفردوس میں بلند مقام سے نوازے اور اہل خانہ کو زندگی کا سنگین ترین صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
پی جے ایف کے صدر شاہد نعیم نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اطہر ہاشمی بھائی سے تعلق جب سے رہا، جب جسارت منظر عام پر آیا۔ 1969ء سے میں جسارت کا قاری بھی رہا اور کچھ نہ کچھ بچوں کے صفحے اور پھر جوان ہونے لگے تو نوجوانوں کے صفحے اور پھر ادبی صفحے کے لیے اپنی نگارشات بھیجتا رہا۔ انہوں نے ہمیشہ حوصلہ افزائی کی۔ اردو نیوز نے جب سعودی عرب سے اپنی اشاعت کا آغاز کیا تو اس ٹیم میں مظفر اعجاز، عبدالسلام سلامی، جنید سلیم آئے، پھر اطہرہاشمی بھائی بھی تشریف لائے۔ سب فیصلیہ کے فلیٹ میں اکھٹے رہتے تھے۔ نرم مزاج، شفقت سے لبریز۔ انہوں نے ایک روز میری ڈیوٹی لگائی کہ میاں! تمہارے دوست خالد خورشید عمرے پر آئے ہوئے ہیں، انہیں سواری کی سہولت مل جائے تو بڑی بات ہوگی۔ خالد چونکہ جنگ لندن ڈیسک سے تشریف لائے تھے، لہٰذا تعارف کے بعد وہ گھل مل گئے۔ کچھ شاپنگ کرنے کے بعد ہاشمی بھائی کے کمرے میں قبضہ کرنےپہنچے۔ کمرے کے چاروں جانب اخبارات بکھرے تھے۔ میں نے خالد بھائی سے کہا، یار خالد بھائی آپ کہاں بیٹھیں گے، کدھر سوئیں گے، اِدھر تو ایک ہی مختصر سا گدا پڑاؤ کے لیے، میں نے کہا، ایک منٹ رکیے۔ جتنے بھی اخبارات پڑے تھے، سب یکجا کیا اور کونے میں ڈال دیا تو کچھ لگا کہ کمرہ ہے رہنے کے لیے۔ خالد بھائی میری حرکت پہ مسکراتے رہے کہ اطہر بھائی ناراض ہوں گے اور تمہاری کلاس لیں گے۔ میں بھی خوفزدہ سا ہو گیا، جب ساری کہانی اطہر بھائی کو بتائی توجواب ملا ’’ہاں بھئی، اخبار سے تعلق ہے تو میرا تواوڑھنا بچھونا ہی اخبار ہے‘‘. مجھ سےہنسی نہ رُکی۔ ان کے مزاج میں تیر ونشتر کے الفاظ کا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔ انہوں نے سعودی وزارت حج کے لیے اردو سپلیمنٹ کی ادارت بھی سنبھالی۔ بہت سی یادیں ہیں اطہر بھائی کی، میں انہیں جب کسی سامنے یہ کہہ کے متعارف کرواتا کہ یہ میرے استاد ہیں تو مسکراتے اور عاجزی سے کہتے کہ ’’ہا ں بھئی یہ کہتے ہیں، حالانکہ میں نے انہیں نہیں پڑھایا‘‘۔ جزاک اللہ اطہر بھائی آپ ہمیشہ زندہ رہیں گے اور یہی صدقہ جاریہ ہے۔
پاکستان جرنلسٹس (پی جے ایف) کے چیئرمین امیرمحمد خان نے کہا کہ اطہر ہاشمی بہت اچھے انسان اور عظیم صحافی تھے، جو اب ہم میں نہیں رہے لیکن ان کی یادیں ہمیشہ تازہ رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔
پی جے ایف کے جنرل سیکرٹری جمیل راٹھور نے کہا کہ اپنے پیارے اور عزیز چلے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ گزرے ہوئے خوبصورت لمحات ہمیشہ یاد رہتے ہیں۔ اللہ تعالی اطہر ہاشمی بھائی کو جنت میں اعلیٰ مقام اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
سینئر صحافی اسد اکرم نے کہا کہ اطہر ہاشمی 44 سال صحافت کے شعبے سے منسلک رہے۔ وہ اردو نیوز جدہ کے بانیوں میں سے تھے۔ گزشتہ برس ان کی طبیعت اچانک خراب ہوئی، تاہم اسپتال سے واپس آنے پر وہ کچھ بہتر محسوس کررہے تھے۔ اطہر ہاشمی کے انتقال سے ان کے تمام ساتھی اور شاگرد سب افسردہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔
سابق ایڈیٹر اردو نیوز جدہ سید ابصار نے کہا کہ ایک بڑا آدمی ہمیں چھوڑ کر چلا گیا۔ اطہر ہاشمی صاحِ کے انتقال کا سن کر بہت افسوس ہوا۔ اللہ انہیں غریق رحمت کرے۔
مکہ مکرمہ سے سینئر صحافی محمد عامل عثمانی نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اطہر ہاشمی کی خوبیاں احاطہ تحریر سے ماورا ہیں۔ اللہ پاک ان سے راضی ہو اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
صحافی و کالم نگار لیاقت انجم نے کہا کہ ایک عظیم صحافی، مہربان شخص اور اچھے استاد ، ہمیں چھوڑ گئے۔ اس تکلیف دہ خبر کے بعد اطہر ہاشمی سے متعلق مزید کچھ بیان نہیں کر سکتا۔ اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے۔
جسارت کے چیف ایڈیٹر سید اطہر ہاشمی کے انتقال پر محمد معروف حسین، محمد امانت اللہ، مصطفیٰ خان، خالد نواز چیمہ، زکیر بھٹی ، یحییٰ اشفاق، خالد خورشید اور فوزیہ خان نے بھی دعائے مغفرت کی۔