’یوم استحصال‘ پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے آن لائن کانفرنس کا انعقاد

185

مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارت کے مستقل غیر قانونی اقدامات اور دفعہ 370 کو آئین سے خارج کیے جانے کا ایک سال مکمل ہونے پر سفارت خانہ پاکستان کی جانب سے 5 اگست ’’یوم استحصال‘ کے موقع پر خصوصی آن لائن کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت پاکستانی سفیر راجا علی اعجاز نے کی۔ کانفرنس میں سعودی عرب کے علاوہ دیگر ممالک سے مختلف سیاسی و سماجی مبصرین، سفارت کاروں، انسانی حقوق کارکنوں اور کشمیری نمائندوں نے شرکت کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
آن لائن کانفرنس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف نے خصوصی شرکت کی جب کہ دیگر مقررین اور مہمانوں میں قومی سلامتی کے سابق مشیر ناصر خان جنجوعہ، مشہور اسکالر اکبر ایس احمد، سابق سعودی سفیر علی اسیری، سابق سفیر عبدل باسط، کشمیری رہنما مشال حسین ملک، سابق سعودی سفارتکار ڈاکٹرعلی الغامدی اور سینئر تجزیہ نگار ارشاد سلیم شامل تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی سفیر راجا علی اعجاز کا کہنا تھا کہ 1989ء سے اب تک ہزاروں بے گناہ کشمیریوں کو شہید کیا جا چکا ہے جب کہ اس دوران کئی کشمیری بیٹیوں کی عزت بھی بھارتی درندوں کے ہاتھوں پامال ہوئی۔ راجا علی اعجاز نے تقریب میں صدر پاکستان عارف علوی، وزیر اعظم عمران خان، وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے۔
چیئرپرسن امن و ثقافت مشال ملک نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال اور یوم استحصال کے لائحہ عمل کے حوالے سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پوری پاکستانی قوم مشکل کی اس گھڑی میں اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ ہم سب نہتے کشمیریوں کی آواز دنیا کے ہر فورم پر اٹھائیں گے۔ انہوں نے پاکستان کے نئے سیاسی نقشے کی اہمیت پر بھی بات کی۔ مشال ملک کا کہنا تھا کہ ہماری توجہ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے بہترین ذرائع پر مرکوز ہونی چاہیے۔وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی معید یوسف کا کہنا تھا کہ پاکستان اب کشمیریوں کے حقوق کے لیے جارحانہ انداز میں جدوجہد جاری رکھے گا۔ بھارت کے پاس چھپنے کا کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔ کشمیر اب ہر حال میں آزاد ہوکر رہے گا کیوں کہ بھارت کے مسلسل جبرو استبداد اور دباؤ کے باوجود 5 اگست کے غیر قانونی اقدامات کو تمام کشمیری مسترد کر چکے ہیں ۔