پاکستان کیبلز میں مزدوروں کی حالت زار ؟

332

قموس گل خٹک
جناب نبی احمد صاحب مرتے دم تک پاکستان کیبلز ایمپلائز یونین کے مقبول ترین صدر رہے ان کا شمار پاکستان کے مزدور تحریک میں صفحہ اول کے رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ مزدور طبقے کیلئے ان کی جدوجہد ہمیشہ یاد رکھی جائینگی ٹریڈ یونین تحریک میں ڈسپلن دیانتداری اور وقت کی پابندی اس کے رہنما اصول تھے جب کبھی ملک کے حکمران دکھا وے کیلئے وفاقی سطح پر سہ فریقی لیبر کانفرنس کا انعقاد کیا کرتے تھے ۔ توآمرانہ دور حکومت میں تو چاروں صوبوں سے محکمہ لیبر کے معرفت مستند مزدور رہنماوں کو شرکت کا موقع مل جاتا تھا ۔ مگر جب ووٹ کے ذریعے منتخب ڈکٹیٹر برسراقتدار آجاتے ہیں تو پھر سہ فریقی لیبر کانفرنس کے نام پر اپنے پارٹی کارکنوں کو بلواکرکانفرنس ہال میں ان سے نعرے لگواکر یہ ظاہر کیا جاتاہے کہ ملک کی مزدور تحریک برسراقتدار پارٹی کی ہمنوا ہے ۔ وزیر اعظم گیلانی صاحب کے دور حکومت میں وزیر محنت پاکستان خورشیدشاہ صاحب کے لئے مزدور دوستی اور جمہوریت کے نام پر بھی ایسا میلہ سجایا گیاتھا جس میں اسی(80) فیصد شریک لوگ پارٹی کے سیاسی کارکن تھے ۔اسلئے اس سہ فریقی کانفرنس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا تھا اس موقع پر مجھے شہید ذوالفقار علی بھٹو صاحب سے وابستہ ایک واقع یاد آیا۔ بھٹو صاحب بحیثیت وزیر اعظم حیدرآباد سرکٹ ہاوس دورے پرتشریف لائے تھے۔ پیپلز پارتی والوں نے اسی طرح اپنے سیاسی کارکنوں کو اجرک ٹوپی پہنا کر جام صادق علی صاحب اور مسعود نورانی صاحب کی سرپرستی میں جب بھٹو صاحب سے ملوانے کی کوشش کی تو انہوں نے اس جم غفیر کو دیکھ کر فرمایا کہ اگلے بار جو مزدور لیڈر حیدرآباد میں مجھ سے ملے تھے کیا ان کو پولیس مقابلے میں ماردیا یا جیل میں ہیں ؟ کیا آپ لوگ مجھے یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ ملک کے تمام مزدور رہنما ہماری پارٹی سے وابستہ ہیں ؟ میں جانتا ہوں کہ ایسا نہیں ہے اور نہ اس کی ضرورت ہے ؟ آپ جن لوگوں کو مزدور رہنما بناکر لائے ہیں ان کو واپس نیچے لیجا کر کھانا کھلاکر احترام کے ساتھ گھر بھجوادیں اور وسیع اللہ قریشی ، رانا محمود اور قموس گل خٹک کو لاکرمجھ سے ملاقات کروائیں اسوقت ایڈیشنل ڈائریکٹر لیبر کے عہدے پر این اے تالپور صاحب تعینات تھے جس کا محکمہ لیبر سندھ میں تاریخی کردار رہا ہے ۔ تالپور صاحب میرے گھر تشریف لائے اور مجھے وزیر اعظم پاکستان سے ملوانے کو کہا ۔ میں نے تالپور صاحب کو جواب دیا کہ سندھ کے مزدوروں کے کسی بھی مسئلے کا تعلق وفاق سے نہیں میں محترم بھٹو صاحب سے مل کر کونسا مسئلہ پیش کرونگا انہوں نے کہا کہ بات مزدور مسائل پر ہویا نہ ہو میری نوکری کی ہے ؟ میں ان کے ساتھ چلاگیا باقی دو رہنما حیدرآباد میں موجود نہ تھے مجھے بھٹو صاحب نے دیکھ پوچھا کہ شمیم واسطی اور ڈاکٹر اعزاز نظیر کا کیا حال ہے ۔ میرے بچوں کے بارے میں پوچھا اور مزدوروں کے مسائل معلوم کئے بعض معاملات پر انہوں نے حکم صادر فرمایا میں اس کے سلوک اور خوبصورت چہرے کو آج دن تک نہیں بھولا یہ تھے وہ سیاستدان جو آج بھی لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کرتے ہیں ۔دنیا میں ایسے عظیم رہنما کبھی کبھی پیدا ہوتے ہیں۔
جب فوجی ڈکٹیٹر کے دورمیں سہ فریقی لیبر کانفرنس ہوتی تھی تو کانفرنس کے شرکا ء کمیٹیوں میں تقسیم ہوجاتے اور پھر آخری دن ان کمیٹیوں کے سربراہ اپنی کمیٹی کے سفارشات پیش کرتے اور آخر میں وزیر محنت پاکستان اور ایک مزدور لیڈر کانفرنس کے کلوزنگ پر تقریر کیا کرتے وہ ہمیشہ ملک بھر سے آنیوالے مزدوررہنما متفقہ طورسے جناب نبی احمد صاحب کو یہ اعزاز بخشتے تھے۔ وہ ہر دلعزیز مقبول ترین مزدور رہنما نبی احمد صاحب جو کراچی میں کئی اہم صنعتوں میں کام کرنیوالے مزدوروں کے ٹریڈ یونین کے اہم عہدیدار رہے جس میں پاکستان کیبلز ایمپلائیز یونین بھی شامل ہے جب ان کے وفات کے بعد مجھے اس یونین کا صدر منتخب کیاگیا تو میرے ذہن میں اسوقت پاکستان کیبلز کراچی کے بارے میں کئی اہم باتیں تھی۔ اول یہ کہ جس یونین کا صدر طویل عرصہ جناب نبی احمد صاحب رہے ہوں وہاں یقینا فیکٹری انتظامیہ اور یونین کے مابین بااصول تعلقات قائم ہونگے ۔ جس کی پاسداری دونوں اطراف سے ہورہی ہوگی کیونکہ میں اپنے لیڈر کی پالیسی اور اصولوں سے واقف تھا وہ جہاں مزدوروں کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے ۔ وہاں کہا کرتے تھے کہ فیکٹریاں چلیں گی تو مزدور حقوق اور یونین ہوگی اسلئے یونین کو فیکٹری کا بھی خیال رکھنا چاہیے اس وجہ سے مجھے یقین تھا کہ میں یونین اورفیکٹری انتظامیہ کے تعلقات کو زیادہ خوشگواراور مزدور حقوق کے تحفظ میں کامیاب رہوں گا ۔ دوسری بات یہ تھی کہ پاکستان کیبلز بہت بڑا ادارہ ہے اس ادارے کا مالک اور انتظامیہ کم از کم ایسی حرکتیں نہیں کرے گا جو کول کمپنیوں کے مالکان اورکاٹن جیننگ فیکٹری والے یا کنٹریکٹر ٹائپ لوگ مزدوروں کے ساتھ کرتے ہیں میں نے پہلے اس فیکٹری میں مزدوروں کو معاہدے کے تحت رعایتی کھانے اور فروٹ فراہم کرنے کی تعریف بھی سنی تھی۔ مگر مجھے یہ تو علم نہ تھا کہ جب میں اس یونین کا صدر بنوں گاتو مزدور اس کھانے کی رعایت اور فروٹ سے بھی محروم ہونگے اور وہ بھی کرونا وائرس کے دوران ہوگا۔جب لوگ کسی تعلق کے بغیر غریبوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔ تیسری بات یہ تھی کہ شائد محکمہ لیبر سندھ بھی لاقانونیت اور بے ضابطگیوں کو روکنے میں کردار ادا کریگی اگر یونین اور فیکٹری انتظامیہ کے مابین کسی معاملے پر تنازعہ ہواتو محکمہ لیبر کے حکام مصالحتی کاروائی سے حل کرسکتے ہیں ۔چوتھی بات یہ تھی کہ گلوبلائزیشن کے بعد دنیا میں ملکوں کے جغرافیائی حدود عملاً نہیں رہے ۔ جاپان میں جو کار بنتی ہے وہ دوسرے روز کراچی پہنچ جاتی ہے اسلئے پاکستانی ٹیوٹا کارکی بجائے لوگ استعمال شدہ ری کنڈیشن جاپانی کارکو زیادہ پسند کرتے ہیں اسی طرح مارکیٹ پر چائنا پروڈکٹ کا قبضہ بڑھ رہاہے اس سخت مقابلے میں جہاں یونین کو ملکی صنعت کو تحفظ دینا چاہئے وہاں فیکٹری انتظامیہ کو بھی یونین مخالف رویے ترک کرکے کارکنوں کو ورکنگ پاٹنر سمجھنا چاہئے مگر بھوکے پیٹ یہ نہیں ہوگا۔ ان کو فیکٹری چلانے کیلئے تندرست اور زندہ رکھنا ہوگا۔مگر مزدور دوست اورجمہوریت کی دعویدار حکومت میں محکمہ لیبر سندھ کا وہ پرانا کردار بالکل ختم ہوگیا ۔ جب اس محکمے کے افسران کچھ نا کچھ مزدوروں کو ریلیف دیا کرتے تھے اب تو اس محکمے میں ایسے افسران کو پوسٹنگ بھی نہیں ملتی میں پاکستان میں دوسری بڑی فیڈریشن کا سیکریٹری جنرل ہوں وزیر محنت ، سیکریٹری لیبر اور ڈائریکٹر لیبر کوئی بھی مزدوروں کے مسائل پر مزدور رہنماؤں سے ملنا گوارا نہیں کرتے صرف پیپلز لیبر بیورو کو وزیر محنت سندھ بلواکر ان کو مزدور تحریک تسلیم کرتے ہیں اور سندھ کا محکمہ لیبر ان چند افراد کے سامنے جوابدہ بنا دیا گیا جو صنعتی مزدوروں کے نمائندے ہی نہیں ہیں اور نہ مزدوروں کو جوابدہی کے ذمہ دار ہیں۔
مگر ہماری کوششوں کے باوجود پاکستان کیبلز کی انتظامیہ نے ان باتوں کا عملاً منفی اور مزدور مخالف سوچ سے جواب دیا مجھے ایسا محسوس ہوا کہ ان کی فیکٹری کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ یونین اور ریگولر مزدور ہیں اگر وہ تمام حاصل کردہ حقوق ؤ مراعات بشمول رعایتی کھانے اور فروٹ سے دستبردار ہوجائیں تو اس فیکٹری کو چار چاند لگ جائیں گے فیکٹری انتظامیہ کی نظر میں یہ اس وقت ممکن ہوگا جب تمام ریگولر مزدوروں کو بتدریج ملازمتوں سے نکال کر ان کی جگہ کنٹریکٹ پر نئے مزدور رکھے جائیں ۔ اس مقصد کے حصول کیلئے انتقامی کاروائیاں جاری رہتی ہیں ۔ میرا خیال ہے کہ اس ملک کے بہت سارے صنعت کاریہ بھی نہیں جانتے کہ یونین ہونے سے فیکٹری کو فائدہ ہوتاہے یا نقصان؟ مگر ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ یونین اور کارخانہ ایک ساتھ نہیں چل سکتے جیسے کہ محترم آصف علی زرداری صاحب نے فرمایا کہ عمران خان اور ملک یانیب اورملک ایک ساتھ نہیں چل سکتے لیکن یہاں کا معاملہ زرداری صاحب سے مختلف ہے کیونکہ اسی فیصد کارخانوں میں تو مالکان نے محکمہ لیبر کے تعاون سے ایک نہیں دو دو ٹریڈ یونین رجسٹرڈ کرواکر CBAبھی بنارکھے ہیں جس کے بارے میں متعلقہ فیکٹری کے مزدور نہیں جانتے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان کیبلز انتظامیہ بھی یہی چاہتی ہے کہ نام کی یونین پر اعتراض نہیں مگر وہ مزدوروں کے سہولیات کا مطالبہ نہ کرے ۔ایسا ہمارے لئے ممکنات میں سے نہیں اور نہ اس فیکٹری انتظامیہ سے تعلقات کی بھیک مانگنے کی ضرورت پیش آئے گی یہ ضرور خواہش رکھتے ہیں کہ جو کچھ انتظامیہ یکطرفہ کررہی ہے وہ دونوں فریقین کے مفاد میں نہیں ہے ۔اس پر غور کیاجائے ورنہ مزدوروں کا ردعمل یونین بھی نہیں روک سکے گی ۔آپ مزدوروں سے سب کچھ چھین لیں اور ان سے توقع رکھیں کہ وہ آپ کو ہار پہنائیں یہ انسانی تاریخ میں نہیں ہوا اور نہ ہوگا۔