سید منور حسن۔ ہمارے مربی و مرشد

378

سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان
سید منور حسنؒ آج ہم میں نہیں ہیں مگر ہمارے دلوں میں موجود ہیں۔ سید منور حسنؒ جماعت اسلامی پاکستان کے چوتھے امیر تھے۔ بعض شخصیات کو عام لوگ بعض خطاب دیتے ہیں جو ان کی زندگی کے عنوان بن جاتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے پہلے امیر اور بانی سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے لیے مفکر اسلام کی صدا لوگوں کے دلوں سے گونجی تھی۔ یہ گونج پوری دنیا میں سُنی گئی اور پوری دنیا نے اسے تسلیم کیا۔
جماعت اسلامی پاکستان کے دوسرے امیر میاں طفیل محمدؒ جنہوں نے اپنا سب کچھ جماعت کے لیے وقف کردیا، گورنمنٹ کالج کے ٹائٹل ہولڈر، انعامات کے حامل، قانون کے بہترین طالب علم دنیا بنانا چاہتے تو بہت ترقی کرسکتے تھے، لیکن ان کو دیکھ کر کوئی نہیں سمجھ پاتا تھا کہ یہ ایشیا کے بہترین تعلیمی ادارے کے بہترین طالب علم رہے ہیں۔ ان کی زندگی کو دیکھ کر لوگوں کے دلوں سے آواز نکلی کہ یہ معمار جماعت اسلامی ہیں۔ میاں طفیل محمدؒ نے کراچی سے چترال تک اور گوادر سے واخان تک اور کوئٹہ سے لے کر قلات اور کشمیر کے پہاڑوں تک جماعت اسلامی کے دفتروں کا ایک جال بچھا دیا۔ سید مودودیؒ نے جو بنیادیں رکھی تھیں ان پر دیورایں کھڑی کرکے چھت ڈال دی۔
جماعت اسلامی پاکستان کے تیسرے امیر جنہیں لوگ قاضی حسین احمدؒ ہی نہیں مجاہد ملت کے نام سے جانتے ہیں۔ مجاہد قاضیؒ، جو پاکستان ہی نہیں ترکی گئے تو اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں لوگوں نے ان کا دیوانہ وار استقبال کیا اور اسٹیڈیم ’’مجاہد قاضی‘‘ کے فلک شگاف نعروں سے گونج اُٹھا۔
جماعت اسلامی کے چوتھے امیر سید منور حسنؒ جو واقعی روشنی کا ایک مینار تھے جس دن ان کی وفات کی خبر آئی، سوشل میڈیا پر لوگوں، خاص طور نوجوانوں نے انہیں مرشد قرار دیا اور اپنی والہانہ محبت و عقیدت کا اظہار کیا۔ یہ مرشد اللہ کو راضی کرنے والے، اللہ کو دوست بنانے والے تھے۔ اللہ کو راضی کرنے کے لیے اس دنیا میں کچھ لوگ خالق کے ساتھ لو لگاتے ہیں اور خالق کے ساتھ محبت کو اپنا شیوہ بناتے ہیں اور اس محبت میں لوگ مسجد کے منبر و محراب کو اپنا مسکن بناتے اور عبادت و ریاضت میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ عابد اور زاہد ہوتے ہیں۔ سید منور حسن یقینا ان ساری چیزوں کے علمبردار تھے لیکن وہ صرف یہاں تک محدود نہیں تھے۔ وہ خالق کی محبت کے ساتھ ساتھ اس کی مخلوق کے ساتھ محبت کا بھی درس دیتے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ مخلوق کو خالق کے ساتھ ملایا جائے، مخلوق کا تزکیہ کیا جائے، گرے ہوئوں کو اُٹھایا جائے، بھٹکے ہوئوں کو سیدھی راہ دکھائی جائے اور انقلاب برپا کیا جائے۔ انہوں نے خود کو اس کار انبیا کے لیے بھی وقف کر رکھا تھا۔ سید منور حسنؒ عابد بھی تھے اور مجاہد بھی۔ سید منور حسنؒ نے کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کی دو ڈگریاں حاصل کیں، وہ انگریزی کے بہترین مقرر تھے۔ اگر وہ اپنی دنیا بسانا چاہتے تو دنیا کا مال و متاع ان کے قدموں میں پڑا ہوتا۔ آدمی خود درویش ہوسکتا ہے مگر اپنے خاندان تک کو اس درویشی اور فقیری کی راہ پر لے جانا بہت مشکل ہے۔ سید منور حسنؒ نے شعوری طور پر دنیاوی زندگی کی آسائشوں کے بجائے جنت کے حصول کو اپنا مطمح نظر بنایا، چند مرلے کے گھر میں فقیرانہ زندگی گزار دی لیکن کبھی اسے بنگلا اور کوٹھی میں تبدیل کرنے کے بارے میں سوچا تک نہیں، ہم کاروبار میں آپ کا حصہ رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ دعائیں میں ضرور کروں گا مگر حصہ کبھی نہیں لوگا۔ استقامت کے اصل معنی و مفہوم سے ہمیں سید منور حسنؒ نے آشنا کیا۔
سید منور حسنؒ رخصت کے نہیں عزیمت کے آدمی تھے۔ ایسی عزیمت جو زندگی کے ہر دائرے میں ہو۔ سید منور حسنؒ بتایا کرتے تھے کہ ان کی تربیت اسلامی جمعیت طلبہ نے کی ہے، اسلامی جمعیت طلبہ کی شب بیداریوں میں تربیت کا ایک انداز یہ تھا کہ مربی ہمیں مسجد سے نکال کر قبرستان لے جاتے تھے اور کسی پرانی اور بوسیدہ قبر کے سرہانے کھڑے کرکے گفتگو کرتے تھے کہ یہ ہے تمہارا اصل مقام اور
مستقبل! یہ لیٹا ہوا ہے تمہارا کیریئر۔ کہنے لگے کہ یہ بات تھی جو میرے دل میں بیٹھ گئی۔ سید منور حسنؒ منصورہ میں ہوتے تو رمضان میں کبھی تراویح کے لیے جامعہ اشرفیہ چلے جاتے۔ سید منور حسن جامعہ اشرفیہ سے واپس آتے تو ڈرائیور سے کہتے کہ آنے جانے کا یہ حساب میرے ذاتی کھاتے میں لکھ لیں، یہ سفر میں نے جماعت کے لیے نہیں بلکہ اپنے دل کی رغبت کے لیے کیا ہے۔ جماعت کی ذمے داریوں کی ادائیگی کے لیے منصورہ میں ایک کمرے میں مقیم تھے۔ جماعت کے شعبہ تنظیم کے رشید احمد بتاتے ہیں کہ جب سے وہ منصورہ میں آئے تھے اس وقت سے آخر تک ہر ماہ وہ اپنے کھانے پینے کا بل بیت المال میں جمع کرواتے تھے۔ امیر جماعت کی حیثیت سے انہیں ملک کے طول و عرض کے دوروں پر جانا ہوتا تھا، جس شہر کا دورہ ہوتا، اپنے ڈرائیور سے کہتے کہ وہاں نمازوں کے اوقات کا پتا کرلیں کہ کون سی مسجد میں نمازیں باجماعت ادا کرسکتے ہیں۔ عزیمت کے اس معیار کو ایک دن برقرار رکھنا مشکل ہوجاتا ہے مگر وہ نہ صرف پوری زندگی اس پر چلے بلکہ چلنے کا حق ادا کردیا۔ سید منور حسنؒ صبح کی اذان سے بہت پہلے مسجد میں موجود ہوتے تھے، تہجد انہوں نے کبھی قضا نہیں کی۔ یہ عزیمت ذاتی زندگی تو تھی انہوں نے اسے اجتماعی زندگی تک لانے کی کوشش کی۔ استعمار کو للکارا، مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی۔ ’’گو امریکا گو‘‘ کی تحریک چلائی۔ لاہور کے اندر امریکی دہشت گرد ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں تین پاکستانی شہریوں کے قتل پر جو تحریک چلی اس کے پیچھے سید منور حسنؒ تھے۔
امریکا کے خلاف جہاد کرنے والے افغانوںکے پشتیبان بنے۔ پاکستان کے اندر دہشت گردی اور تخریب کاری کی جو کارروائیاں ہورہی تھیں سید منور حسنؒ نے ہمیشہ ان کی مذمت کی، شہدا کو خراج تحسین پیش کیا۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں سلیم صافی کے ساتھ ایک تکرار ہوئی جسے فوجی اقتدار میں موجود لوگوں نے اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا۔ اگلے دن وضاحت ہوسکتی تھی مگر یہ وضاحت فوجی جنتا کے مقابلے میں پسپائی بن سکتی تھی۔ اس لیے اسٹیبلشمنٹ کو للکارا اور کہا کہ جماعت اسلامی کے امیر کو تم سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں۔ تمہیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ تم عسکری میدان چھوڑ کر سیاسی معاملات میں مداخلت کرو۔
سید منور حسنؒ تعلق کو شاندار انداز میں نبھاتے تھے۔ جماعت میں آنے سے پہلے وہ این ایس ایف میں تھے۔ اس دور کے جتنے لوگ تھے اور جس پارٹی میں تھے ان کے ساتھ اسی طرح تعلق رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے وقت میں برکت ڈال دی تھی۔ نمازوں کی پابندی، تہجد کا التزام، سفر، جلسوں اور اجتماعات سے خطاب، پریس کانفرسوں اور سیمینارز میں شرکت، لیکن اس سب کے باوجود اپنے دوستوں سے تعلقات میں کوئی کمی نہ آنے دیتے، جس نے ایک بار خط لکھ دیا یا ملاقات کی اسے ہمیشہ یاد رکھتے۔ کارکنوں کے ساتھ محبت اور شفقت کا ایسا تعلق کہ اپنے ڈرائیور کے گھر کئی بار قیام کیا۔ ان کے پورے خاندان سے تعلق بنایا اور نبھایا۔
میں ایک طویل عرصہ جماعت کا مرکزی سیکرٹری اطلاعات رہا، ملاقاتیں، انٹرویوز، کالم نگاروں کے گھروں میں جانا اور انہیں ملاقاتوں پر بلانا یہ سب چلتا رہتا تھا اور میں حیران تھا کہ سیدؒ صاحب یہ سب کیسے مینج کرلیتے ہیں۔ جب سید منور حسنؒ صاحب جماعت کی امارت سے فارغ ہونے کے بعد کراچی چلے گئے تو ایک معروف اخبار کا ایک کارکن صحافی میرے پاس آیا اور مجھے کہا کہ میں سید صاحب سے ملنے کراچی جانا چاہتا ہوں، اس کی آنکھوں میں نمی تھی، اس نے بتایا کہ سید منور حسنؒ جب سے منصورہ میں تھے مجھے سال میں ایک دو بار ضرور بلاتے، مجھ سے باتیں کرتے اور مجھے کبھی شہد، کبھی جوتوں اور کبھی کپڑوں کا جوڑا تحفے میں دیتے۔ سید صاحب سے جس نے جو سوال کیا انہوں نے اسے پورا کرنے کی ضرور کوشش کی، اس میں چھوٹے بڑے یا ادنیٰ و اعلیٰ کی کوئی تمیز نہ تھی۔ خود انہوں نے اپنے لیے درویشانہ زندگی کا انتخاب کیا، ان کا ڈرائیور بتاتا ہے کہ میں نے بارہا ان کے جوتے مرمت کرائے، وہ برسوں ایک ہی جوتا پہنتے رہتے تھے اور دو تین کپڑوں کے جوڑوں میں گزارا کرتے تھے۔
ایسا نہیں کہ ان کے پاس کپڑوں اور جوتوں کی کوئی کمی ہوتی، لوگ ان کو تحائف میں بھی یہ چیزیں پیش کرتے اور خواہش کرتے کہ سید صاحب ان کے دیے ہوئے جوتے اور کپڑے پہنیں مگر وہ سب کارکنوں میں تقسیم کردیتے اور خود اپنے انہی پرانے جوتوں اور کپڑوں میں گزارہ کرتے۔ سید منور حسنؒ انتہائی نفیس طبیعت کے مالک تھے، نفاست پسندی شاید ہی ان سے بڑھ کر کسی میں دیکھی ہو لیکن معیار زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے کبھی انہوں نے کسی طمع و لالچ کو اپنے قریب پھٹکنے کا بھی موقع نہیں دیا۔ وہ چیزوں کو ضائع ہونے سے بچاتے تھے انہوں نے کبھی کاغذ کا ایک چھوٹا ٹکڑا بھی ضائع نہیں کیا ہوگا۔ شادی بیاہ کے کارڈز کے پچھلے حصے کو بھی استعمال میں لاتے اور بوقت ضرورت کسی ذمے دار کو کوئی ہدایت کرنا ہوتی تو اس پر لکھ کر بھجوا دیتے۔
سید منور حسنؒ کے معاملات اور ان کے معمولات دور صحابہؓ کی یاد تازہ کردیتے تھے۔ تزکیے اور تربیت کے عادی تھے، چھوٹے چھوٹے جملوں میں حالات کے مطابق تربیت کرتے، ایک بار دفتر میں بیٹھے ہوئے طیب گلزار صاحب نے اخبار کی ایک سرخی بلند آواز میں پڑھی جس میں بھارت کی معروف مغنیہ نے کہا تھا کہ میں نے اپنے گلے کی حفاظت کے لیے آج تک آئس کریم نہیں چکھی، سیدؒ صاحب نے یہ بات سنی تو گویا ہوئے، فرمایا کہ یہ ہے اسلوب تقویٰ، جس چیز سے بچنا ہو ایسے بچا جاتا ہے، ایک چھوٹے سے جملے نے وہ تاثیر پیدا کی کہ ہمیں آج بھی یاد ہے۔ لفظوں سے کھیلنے اور جملوں سے تربیت کرنے والے مربی و مرشد۔ کبھی کبھی اور کہیں ان جملوں میں کاٹ بھی پیدا ہوجاتی تھی۔ اگر کہیں یہ کاٹ کسی فرد کے ساتھ ہوگئی تو انہوں نے اس کو ختم کرنے میں زیادہ وقت نہیں گزرنے دیا۔ اس نصیحت کے کڑوے پن کو اپنی آئندہ کی گرم جوشی سے خوشگوار بنادیتے تھے۔
سید منور حسنؒ کی زندگی کے شب و روز اس بات کے گواہ ہیں کہ وہ اللہ کی رحمت اور مغفرت کے مستحق ٹھیریں گے اور جنتوں میں ان کا مقام اعلیٰ علیین میں ہوگا۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق اور ہمت عطا فرمائے۔ آمین