آپشن تو نہیں… لیکن خاموشی ہے

296

ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتر محمد نے کہا ہے کہ کشمیر پر خاموش رہنے کا آپشن نہیں۔ دنیا محاصرے کا نوٹس لے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں وہی کر رہا ہے جو اسرائیل فلسطین میں کر رہا ہے۔ ان کا یہ جملہ بین الاقوامی سیاست کے حوالے سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ جملہ یہودیوں اور ان کے سرپرستوں کو ضرور برا لگے گا۔ اگرچہ مہاتر محمد اب وزیراعظم نہیں لیکن ان کو اس پر نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔ مہاتر محمد نے بھارتی رویے کے بارے میں جو بات کہی ہے وہ اس کے موجودہ سربراہ اور ان کی حکومت کے رویے کی مکمل عکاس ہے۔ مہاتر محمد نے بھارت کو علاقے کا بدمعاش بننے سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے اور بھارتی حکومت اس کے سربراہ مودی اور اس کی کابینہ کا رویہ یہی ہے کہ وہ علاقے کے بدمعاش کا روپ دھار چکے ہیں۔ مہاتر محمد نے تو یہ باتیں کہہ کر اعادہ کیا کہ میں اقوام متحدہ میں جو کچھ کشمیر کے بارے میں کہہ کر آیا تھا اس پر قائم ہوں۔ بظاہر تو مہاتر محمد عالمی برادری سے بات کر رہے ہیں لیکن ایسا لگ رہا تھا کہ وہ حکومت پاکستان سے مخاطب ہیں یا وزیراعظم عمران خان کو توجہ دلا رہے ہیں کہ کشمیر پر خاموشی کا کوئی آپشن نہیں۔ بین الاقوامی برادری اس مسئلے پر الگ خاموش ہے لیکن اصل خاموشی تو پاکستانی حکمرانوں نے اختیار کر رکھی ہے۔ 5 اگست 2019ء کے اقدام کے فوراً بعد پاکستان کو ساری دنیا میں ہنگامہ کھڑا کر دینا چاہیے تھا۔ ایک ایک ملک میں دس دس وفود بھیجے جاتے۔ سیاسی، تجارتی، ثقافتی اور فوجی ہر سطح پر دنیا کو بار بار متوجہ کیا جانا چاہیے تھا۔ مہاتر محمد نے درست کہا کہ کشمیر پر خاموش رہنے کا آپشن نہیں لیکن حکومت پاکستان جو کچھ کر رہی ہے وہ بھارتی اقدام کا جواب تو ہرگز نہیں ہے۔ گانے اور ترانے بنانا۔ کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے ان کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعلان اور جو عملاً کھڑا ہے اس کی ریلی پر بم حملہ کرنے والے آزاد… یہ پاکستان ہے یا مقبوضہ کشمیر کہ یہاں کشمیریوں سے یکجہتی کرنے والوں کے خلاف دہشت گردی ہو رہی ہے۔ مہاتر محمد نے جس عالمی برادری کی بات کی ہے وہ یوں ہی نہیں جاگتی۔ جب تک اس کے مفادات پر زد نہیں پڑتی یا ایسا کوئی کام نہیں ہوتا جس سے ان کے عوام یا ووٹرز اپنی رائے بدلنے لگیں۔ اس کے فوراً بعد ان حکمرانوں میں بھی حرکت ہوتی ہے۔ اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جائے کہ چین میں ایغور مسلمانوں کے مسئلے پر مسلم دنیا اور امہ سے زیادہ امریکا اور برطانیہ کو تشویش ہے۔ کیونکہ انہیں اپنے ووٹرز کو مطمئن کرنا ہے اور چین کے گرد سیاسی و معاشی گھیرا تنگ کرنا ہے۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کی حکومت کی کوئی پالیسی نہیں۔ پاکستان کے کسی مفاد سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ مودی حکومت کے اقدامات کے جواب میں پاکستان کی حکومت اب تک جو کچھ کر رہی ہے اسے ردعمل تو نہیں کہا جا سکتا۔ ایسا لگتا ہے کہ بھارت جوتے مار رہا ہے اور ہمارے حکمران بچھے جا رہے ہیں۔ فوجی کارروائی کا بدل فوجی کارروائی ہوتا ہے۔ سیاسی کارروائی کا بدل سیاسی کارروائی ہوتا ہے۔ بھارت نے 5 اگست 2019ء کو کشمیر کی جغرافیائی اور آئینی حیثیت بدلنے کا قانون نافذ کیا۔ پاکستان اسی ہفتے نیا نقشہ جاری کرتا اور بھارتی افواج کو پاکستانی علاقے سے نکل جانے کا حکم دیتا۔ لیکن اس کام کے لیے ایک سال انتظار کیا گیا جب بھارت کے قدم بہت آگے جا چکے تھے۔ جہاں تک بھارت کے علاقائی بدمعاش بننے کی بات ہے تو مہاتر محمد نے بالکل درست توجہ دلائی ہے۔ بھارت کا رویہ بالکل ایسا ہی ہے۔ انہوں نے تو بہت واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ میں نے بطور وزیراعظم اقوام متحدہ میں کشمیر کے بارے میں جو کچھ کہا اس پر قائم ہوں۔ اور وہ اس پر قائم رہیں گے لیکن ان میں بھی وہ بات پنہاں ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ میں جو کچھ کہا تھا وہ اس پر کیوں قائم نہیں ہیں۔ انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر ہم لڑنے پر آئے تو ساری دنیا جانتی ہے کہ جب دو ایٹمی قوتیں لڑتی ہیں تو اس کے اثرات ان کی سرحدوں سے بہت دور دور تک جاتے ہیں۔ میں دھمکی نہیں دے رہا یہ بتانا چاہتا ہوں کہ بھارت کے اس رویے سے بڑی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ انہوں نے ایٹمی جنگ کے جس خطرے کا ذکر کیا تھا اس کے بعد وطن واپس آنے کے بعد سے وہ بھارت اور مودی کے لیے نرم چارہ بن گئے۔ کبھی کرتارپور راہداری کبھی کچھ۔ اب کلبھوشن کے لیے نرمی۔ بار بار مواقع دینے کی بات کی جا رہی ہے۔ کلبھوشن جاسوس اور کشمیری آزاد لوگ دونوں کے معاملے الٹ کیوں ہیں۔ بھارت کے خلاف یہ بیان بھی دیا جاتا ہے کہ افغانستان میں بھارت کی مداخلت سے پاکستان کو نقصان ہو رہا ہے۔ پھر اسے واہگہ بارڈر کھول کر راہداری دی جاتی ہے۔ مہاتر محمد کو بھی حیرت تو ہوگی کہ اقوام متحدہ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے مسئلے پر ایٹمی جنگ کے خطرے کا تاثر دینے کے بعد بھارت پر مہربانیاں کیوں ہو رہی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے مہاتر محمد کا شکریہ بھی ادا کیا ہے کہ انہوں نے کشمیر کے مسئلے پر جرأتمندانہ آواز بلند کی ہے اور حمایت کی ہے جس پر میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ عمران خان صاحب مہاتر محمد کا شکریہ ضرور ادا کریں لیکن اس بات کا جواب بھی سوچیں کہ کشمیر پر خاموشی کا آپشن نہیں۔ لیکن درحقیقت کشمیر پر خاموشی تو ہے۔ جو کچھ ہو رہا ہے وہ صرف خراب انجن والی گاڑی کا شور ہے۔