تباہ شدہ گودام میں ہمارا اسلحہ بارود نہیں تھا،حزب اللہ ،احتجاج میں شدت

142
بیروت: پارلیمان تک پہنچنے کی کوشش کرنے والے مشتعل نوجوانوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسوگیس برسائی جارہی ہے‘ مظاہرین نے صدر میشال عون، سربراہ حزب اللہ حسن نصر اللہ اور دیگر رہنماؤں کو علامتی پھانسی دے رکھی ہے‘ بندرگاہ پر دھماکوں میں جاں بحق ہونے والوں کو اہل خانہ ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ رہے ہیں

بیروت (انٹرنیشنل ڈیسک) لبنان کی ملیشیا حزب اللہ نے بیروت دھماکوں کا سبب بننے والے گودام سے لاتعلقی ظاہر کردی۔ خبررساں اداروں کے مطابق حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے واضح کیا ہے کہ ان کی ملیشیا نے اپنے ہتھیار جائے حادثہ پر ذخیرہ نہیں کیے تھے۔ انہوں نے اس تباہ کن واقعے کو بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا بندرگاہ میں کچھ نہیں رکھا تھا۔ نہ ہی ہتھیار، نہ میزائل، نہ بم، نہ گولیاں، نہ رائفلیں اور نہ امونیم نائیٹریٹ۔ حسن نصر اللہ نے کہا کہ بیروت دھماکوں کی غیر جانبدار تحقیقات ضروری ہیں۔ ٹیلی وژن پر خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ اس تباہی کے ذمے داران کا ان کی وابستگی سے قطع نظر محاسبہ کرنا ہوگا۔حسن نصراللہ نے سانحہ کے ابتدائی اوقات میں میڈیا کی ان قیاس آرائیوں کو ناانصافی قرار دے کر مسترد کردیا کہ حزب اللہ نے بندرگاہ میں میزائلوں کو محفوظ کیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ ان الزامات کا مقصد مزاحمتی گروپ کے خلاف لبنانی عوام کو اکسانا ہے۔ ان دھماکوں میں مرنے والوں کی تعداد بھی 158 تک پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب ہفتے کے روز بیروت دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی اجتماعی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ ہلاک وزخمی ہونے والوں کے خراج عقیدت پیش اور متاثرین کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا گیا۔ تقریب کے ایک منتظم نے بتایا کہ اجتماعی رسومات میں صرف عوام کو شرکت کا کہا گیا ہے اور کسی حکومتی عہدے دار کو دعوت نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام حکومت کی نااہلی پر شدید غصہ ہیں۔ اسی تناظر میں جمعرات کی شام سے بیروت میں شدید احتجاج جاری ہے۔ ہفتے کے روز اس احتجاج میں اس وقت شدت آگئی، جب مظاہرین نے پارلیمان کی عمارت تک پہنچنے کی کوشش کی۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین میں شدید جھڑپیں ہوئیں۔