عالمی بینک کا پاک بھارت پانی تنازع پر ثالثی سے انکار

182

اسلام آباد(صباح نیوز) ورلڈ بینک نے پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے طویل تنازع کو حل کرنے کے لیے غیر جانبدار ماہر یا ثالثی عدالت کے تقرر سے متعلق آزادانہ فیصلہ کرنے سے عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کو دو طرفہ طور پر ایک آپشن کا انتخاب کرنا پڑے گا۔ اسلام آباد میں اپنی 5 سالہ میعاد پوری ہونے پر ورلڈ بینک کے سابق کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان پیٹچاموتھو ایلنگوان نے کہا کہ بھارت اور پاکستان دونوں کو مل جل کر فیصلہ کرنا چاہیے کہ کون سا آپشن اپنانا ہے۔ایک انٹرویومیں پیٹچاموتھو ایلنگوان نے کہا کہ پاکستان نے ثالثی عدالت(سی او اے) کے تقرر کے لیے درخواست دی تھی جبکہ بھارت نے غیر جانبدار ماہر طلب کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 1960ء میں ہونے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت 2 متضاد پوزیشنز کی وجہ سے عالمی بینک دونوں حکومتوں کو اختلافات کے حل اور آگے بڑھنے کے لیے راہیں تلاش کرنے میں مدد فراہم کررہا تھا۔ان سے جب سوال کیا گیا کہ کیا بینک اپنے کردار سے پیچھے ہٹ رہا ہے جبکہ یہ 1960ء کے معاہدے کا حصہ تھا تو انہوں نے کہا کہ معاہدے میں عالمی بینک کے آزادانہ فیصلہ لینے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ورلڈ بینک نے سندھ طاس پر ترقیاتی کاموں کا حصہ بننے کا وعدہ کیا تھا اور پھر بھی اس نے دیامر بھاشا ڈیم کو فنڈ دینے سے انکار کردیا اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بینک دریائے سندھ پر دوسرے منصوبوں کی حمایت کررہا ہے، بھارت نے ایک متنازع علاقے میں دیامر بھاشا کے مقام پر اعتراض اٹھایا تھا اور متنازع منصوبوں کی مالی اعانت کرنا عالمی بینک کی پالیسی نہیں ہے۔ معاہدے کے تحت اگر فریقین دوطرفہ طریقوں سے تنازعات حل کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں تو متاثرہ فریق کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ بین الاقوامی عدالت برائے ثالثی یا عالمی بینک کے زیر نگرانی غیر جانبدار ماہر کے دائرہ اختیار کی درخواست کرے۔