سعودی عرب سے ادھار تیل ‘معاہدے کی تجدید مؤخر

209

اسلام آباد (خبر ایجنسیاں ) سعودی عرب سے ادھار تیل کی سہولت رواں سال ختم ہوگئی ہے، معاہدے کی تجدید موخر۔ترجمان وزارت خزانہ نے کہا کہ سعودی عرب سے ادھار تیل لینے کی سہولت ایک سال کی تھی، سعودی عرب کے ساتھ معاہدے میں توسیع پر غور کیا جا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ترجمان وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے ادھار تیل کی سہولت رواں سال 9 جولائی کو ختم ہوگئی ہے۔کیونکہ سعودی عرب سے 3 ارب 20 کروڑ ڈالر کا تیل ادھار لینے کی سہولت ایک سال کیلیے تھی۔ مئوخر ادائیگیوں پر ادھار تیل لینے کا معاہدہ قابل تجدید ہے، سعودی عرب کے ساتھ معاہدے میں توسیع پر غور کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے پاکستان نے عالمی قرضوں کی ادائیگی میں ڈیفالٹ کرجانے کے ڈر سے سعودی عرب کو ایک ارب ڈالر کا قرضہ واپس کردیا ہے۔کیونکہ سعودی عرب نے مالی امداد کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اسی وجہ سے پاکستان نے ایک ارب ڈالر قرض واپس کردیا ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر ڈیڑھ سال قبل قرضہ لیا تھا جس میں سے ایک ارب ڈالر قرض کی رقم واپس کردی ہے۔ واضح رہے کہ سعودی امدادی پیکیج کی مزید 2 سال کے لیے تجدید کی گنجائش موجود ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے رواں سال مئی سے موخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی بند کررکھی ہے۔دوسری طرف بجٹ تخمینوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت سعودی عرب سے رواں مالی سال کے دوران ایک بلین ڈالر کا تیل ملنے کی امید لگائے بیٹھی ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کے ترجمان ساجد قاضی نے بتایا کہ سعودیہ سے 6.2 بلین ڈالر مالیت کے امدادی پیکیج کا معاہدہ مئی 2020ء میں ختم ہوچکا ہے۔ فنانس ڈویژن معاہدے کی تجدید کے لیے کوشش کررہا ہے تاہم ہنوز سعودی حکومت کی طرف سے اس ضمن میں پاکستان کی جانب سے کی گئی درخواست کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔