دم بھر کے لیے آنکھ لگی تھی

658

 دن بھر عجیب بے قراری رہی۔ جانا تو سب کو ہے۔ مگر بھلا یوں بھی کوئی جاتا ہے؟ ہم تو یہ سنا کرتے تھے کہ اُٹھے اور چل دیے۔ بھلا یہ کیسا جانا ہوا کہ لیٹے اور چل دیے۔
اسلام آباد کے وقت کے مطابق علی الصبح سات بجے معوذ کا فون آیا۔
’’ابھی سوئے نہیں؟ امریکا میں تو رات ہو چلی ہے‘‘۔
’’میں تو کراچی آیا ہوا ہوں چچا۔ آپ نے کچھ سنا؟ ابھی مجھے صبح صبح اطلاع ملی ہے کہ …‘‘
اور معوذ نے وہ سناؤنی سنادی جو نہ سناتے تو اچھا تھا۔ خبر کیا سنائی دل پر گھونسا رسید کرکے فون بند کر دیا۔ یقین نہیں آیا۔ جھٹ برادر مظفر اعجاز کو فون کیا۔ اُس بندۂ خدا نے بھی اس بُری خبر کی تصدیق ہی کی۔ بتایا کہ اُنھی کے گھر کی طرف جا رہا ہوں۔ کہنے لگے:
’’ابھی رات ہی کو تو اُن سے میری بات ہوئی تھی۔ علالت کی وجہ سے دو دن سے دفتر نہیں آئے تھے۔ کہنے لگے آج ان شاء اللہ آ جاؤں گا۔ مگر ابھی کمزوری محسوس ہو رہی ہے۔ میں نے کہا کمزوری محسوس ہو رہی ہے تو ابھی آرام کریں‘‘۔
مگر پتا یہ چلا کہ صبح نمازِ فجر کے وقت بچوں نے جگانا چاہا تومعلوم ہواکہ وہ تو آخری آرام گاہ کی طرف روانہ ہو گئے۔
حماد کو فون کرنے کی کوشش کی تو فون بند ملا۔ نیلو بھابھی کو فون کرنے کی ہمت ہی نہ پڑی۔ ابھی اسی حیص بیص میں تھے کہ تقریباً دس بجے دوبئی سے مولانا عبدالمتین منیری کا فون آگیا۔ کہنے لگے:
’’تعزیت کے اصل مستحق تو ہم لوگ ہیں۔ آئیے ہم ہی ایک دوسرے سے تعزیت کرلیں‘‘۔
مولانا عبدالمتین منیری نے دوپہر ڈھلنے کے بعد دوبئی سے دوبارہ فون کر کے ڈھارس بندھائی۔ دن بھر تعزیتی فون کرنے والوں کا تانتا بندھا رہا۔ کس کس کے فون آئے اب تو یاد بھی نہیں رہا۔ ہاں اتنا یاد ہے کہ میرپور (آزاد کشمیر) سے صبح صبح غازی علم الدین صاحب کا فون اس خبر کی تصدیق کے لیے آیا تھا۔ انہیں بھی مشکل سے یقین آیا۔ وہ اُن کے مستقل کالم ’’خبر لیجیے زباں بگڑی‘‘ کے مستقل شریک تھے۔
منیری صاحب نے سچ کہا۔ تعزیت کے اصل مستحق تو ہم لوگ ہیں۔ اس عاجز کا اُن سے اکتالیس برس سے زائد کا ساتھ تھا۔ شاید اتنا طویل ساتھ تو ابھی اُن کی اہلیہ ڈاکٹر نیلوفر ہاشمی کا بھی مکمل نہ ہوا ہو۔ ان کے تینوں بیٹے حماد، فواد، صارم، اُن کی بہو مہ وِش اور پوتی اسمارا تو ابھی کل کی بات ہیں۔ ابھی تو ہم اُن کی شادی کا قصہ بھی نہیں بھولے۔ مزے لے لے کر سب کو سناتے پھرتے ہیں۔ کسی دن آپ کو بھی سنا دیں گے۔
قصے تو خیر اور لوگ بھی سنائیں گے۔ مگر سَو قصوں کا ایک قصہ یہ ہے کہ اب ہمارے کوچۂ صحافت میں آپ کو کوئی اطہر علی ہاشمی نہیں ملے گا۔ ہاشمی صاحب شاید اُس قیمتی قافلے کے آخری مسافر تھے جس نے اردو صحافت کو آبرو عطا کی۔ ان کے نزدیک صحافت محض ایک پیشہ اور ذریعۂ حصولِ زر نہ تھا۔ ایک مقصد، ایک نصب العین اور ایک مشن کی تکمیل کا ذریعہ تھا۔ ’’جسارت‘‘ میں تھے تو اُنہیں متعدد مال دار اداروں کی طرف سے اپنے یہاں چلے آنے کی پیشکش ہوئی۔ مگر اُنہوں نے ’جسارت‘ کو کبھی نہیں چھوڑا۔ چھوڑا تو اُس وقت چھوڑا جب سرزمین حجاز سے اُن کا بلاوا آگیا۔ پکار سنتے ہی اُنہوں نے ’’لبیک اللّٰھم لبیک‘‘ کہا اور جدہ جاکر ’’اُردو نیوز‘‘ کی بنیاد رکھنے والوں میں شامل ہو گئے۔ واپس آئے تو پہلے ایک اور اخبار میں اُن کے دوستوں نے اُنہیں کھینچ لیا۔ پھر پاکستان کے سب سے کثیر الاشاعت اخبار ہونے کے دعوے دار اخبار نے اُن کو اپنے یہاں آنے کی پیشکش کی۔ اُس اخبار کی پالیسیوں کے پیش نظر وہ پیش کردہ تنخواہ کی مقدار سے متفق نہ تھے۔ کہنے والے نے (بقول خود اُن کے) اُن سے کہا:
’’اسی تنخواہ پر گزارہ کرو۔ ’’جسارت‘‘ والے تمہیں چیف ایڈیٹر نہیں بنا دیں گے‘‘۔
مگر یہ نہیں مانے۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اُن ہی دنوں برادر شاہد ہاشمی نے اطہر ہاشمی صاحب سے درخواست کی کہ وہ ’’جسارت‘‘ کے مدیرا علیٰ کی حیثیت سے اپنی ذمے داریاں سنبھال لیں۔ ہاشمی صاحب یہ سنتے ہی مذکورہ اخبار کی طرف سے کی جانے والی پیشکش سے کہیں کم تنخواہ پرایک بار پھر ’’جسارت‘‘ میں آگئے۔ اُس کہنے والے کی کیا رہ گئی جس نے کہا تھا کہ ’’جسارت‘‘ والے تمہیں چیف ایڈیٹر نہیں بنا دیں گے۔
زبان و ادب پر جیسا عبور اطہر ہاشمی صاحب کو تھا، ہمارے زمانے کے صحافیوں میں سے شاید ہی کسی کو ہوگا۔ اُردو، ہندی، عربی، فارسی سمیت کئی زبانوں کے الفاظ کے درست املا اور درست استعمال پر قدرت رکھتے تھے۔ ’’جسارت‘‘ میں اس بات کا خاص اہتمام رکھتے تھے کہ اردو اخبار میں اردو اصطلاحات ہی اختیار کی جائیں۔ انگریزی اصطلاحات کی بے جا بھرمار سے اپنے اخبار کو بچا کر رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ کبھی کسی سے ڈرے نہ دبے۔ اپنے منصب سے سرکار دربار میں رسائی حاصل کرنے کی کوشش بھی کبھی نہیں کی۔
خاندانی اعتبار سے ہندوستان کے ایک ممتاز دینی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ دینی علوم پر بھی دسترس تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی تحریروں میں کبھی اُس جہالت و جاہلیت کا شائبہ تک نہیں ملتا جو آج کے ’’روشن خیال‘‘ لکھاریوں کا طرۂ امتیاز بنتا جا رہا ہے۔ سنجیدہ تحریروں (مثلاً اداریوں وغیرہ) میں بھی نہایت شگفتہ زبان استعمال کرتے تھے۔ اپنے زیر تربیت کام کرنے والوں اور اپنے زیر دستوں سے نہایت مشفقانہ اور مربیانہ سلوک کرتے۔ ان کے شاگردوں کی ایک بڑی تعداد مختلف مطبوعہ اور برقی ذرائع ابلاغ میں پھیلی ہوئی ہے۔
ہاشمی صاحب میں بزرگانِ سلَف کی سی وضع داری پائی جاتی تھی۔ جس سے ایک بار تعلق قائم ہو گیا پھر کبھی نہیں ٹوٹا۔ اسلام آباد تشریف لاتے تو اپنے اس کالم نگار شاگرد کے غریب خانے کو ضرور رونق بخشتے۔ ایک بار نیلو بھابھی بچوں کے ساتھ اسلام آبادآئیں تب بھی وہ بطور ِخاص یہ کہتی ہوئی تشریف لائیں کہ ہاشمی صاحب کی تاکید تھی کہ حاطب کے گھر ضرور جانا۔ ہر عید بقرعید پر اُن کا ’’عید پُرسی‘‘ کا فون لازماً آتا۔ بس حالیہ عید الاضحیٰ ایسی گزری کہ اُن کا فون آیا نہ اپنی علالت کی وجہ سے اور نمازِ عید اور قربانی کے بعد سوتے رہ جانے کے سبب سے خود ہمیں فون کرنے کی توفیق ہوئی۔
اُن کی شگفتہ مزاجی اور بذلہ سنجی کے بے شمار واقعات ہیں۔ بہت سے لوگ سنائیں گے۔ شاید ہم بھی کچھ سنائیں۔ مگر آج صرف ایک قصہ سن لیجیے کہ ایک بار ہم نے سوچا کہ ’’دامن کو آج اُن کے ظریفانہ کھینچیے‘‘ سو اُن کا ایک شخصی خاکہ لکھ مارا۔ یہ خاکہ ۵؍ اکتوبر ۲۰۰۱ء کو ’’فرائیڈے اسپیشل‘‘ میں شائع ہوا۔ پورا خاکہ ہاشمی صاحب کی تعریف و توصیف اور اُن کی شگفتگی کے واقعات سے بھرا ہوا تھا۔ دلچسپ کیوں نہ ہوتا؟ سارے میں اُس کی دھوم مچ گئی۔ رات کے وقت کراچی سے اُن کا غصہ بھرا فون اسلام آباد آیا:
’’میاں کیا لکھ دیا؟ صبح سے گھر پر تعزیتی فون آ رہے ہیں‘‘۔
اُن کے مزاج سے آشنا ہونے کے باوجود ہم ڈر گئے۔ سہمی ہوئی آواز میں کوئی جواب دیا تو پُچکار کر بولے:
’’چلو اچھا کیا، ہماری زندگی ہی میں لکھ دیا۔ مرنے کے بعد لکھا تو کیا لکھا‘‘۔
جب نہیں رہ گیا میں، تو میرے لیے
کوئی رویا تو کیا؟ اور نہ رویا تو کیا؟
ہاشمی صاحب نے اپنی اہلیہ سے ٹوٹ کر محبت کی۔ میاں بیوی میں مثالی ذہنی ہم آہنگی تھی۔ کچھ عرصہ گزرتا ہے کہ وہ شدید پریشانیوں کا شکار ہوئے۔ ایک تو خود سخت بیمار ہوئے۔ پھر اُن کی اہلیہ ایک موذی بلکہ مہلک مرض کا شکار ہو گئیں۔ اُسی وقت وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ گئے۔ مگر اپنی وضع داری برقرار رکھی۔ روز مرہ معمولات میں مشغول رہے۔ مولانا عبدالمتین منیری کہتے ہیں کہ اُن سے گفتگو میں ہاشمی صاحب نے اپنی اہلیہ کی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے کہا:
’’میں نے اُن سے کہہ دیا ہے کہ زندگی کا ساتھ نہ چھوڑیں۔ پہلے نہ جائیں‘‘۔
کسے معلوم تھا کہ یہ محض مزاح نہیں تھا۔ دردِ دل کی آرزو تھی۔
۶؍ اگست کی صبح بھی وہ دردِ دل ہی تھا جو اُٹھا۔ انہوں نے معمول کی تکلیف قرار دے کر دوا لی اور کروٹ لے کر سوئے تو ابدی نیند ہی سو گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
اب اگر نیلو بھابھی اُن سے پوچھیں کہ:
’’صاحب! آپ نے یہ کیا کیا؟‘‘
تو ہمیں یقین ہے کہ وہ اپنے مخصوص سنجیدہ لہجے میں انتہائی شگفتہ بات کہنے کا انداز اپناتے ہوئے یہ شعر پڑھ دیں گے:
تھک کر یونہی دم بھر کے لیے آنکھ لگی تھی
سو کر ہی نہ اُٹّھیں، یہ ارادہ تو نہیں تھا
اللھم اغفر لہٗ و اَرحمہٗ و عافہٗ و اعفُ عنہٗ و اکرم نزلہٗ و وسّع مدخلہٗ و اجعل قبرہٗ روضۃ من ریاض الجنۃ