آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا

1477

 اللہ، اس حیی وقیوم کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اُسے نیند آتی ہے اور نہ اونگھ۔ اُسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی آخری کتاب کی روشن آیات سامنے تھیں کہ ایک ہمدم دیرینہ کا فون آگیا۔ رندھی ہوئی آواز میں بتارہے تھے کہ وہاں جو یہاں کے لوگ جاکر آباد ہو رہے ہیں اطہر ہاشمی صاحب بھی ان میں شامل ہوگئے ہیں۔ سخی حسن قبرستان میں تدفین ہے۔ آپ پہنچیں۔
تمام راستے آنکھیں بھیگتی رہیں۔ موٹر سائیکل چلانا دشورا ہوگیا۔ قبرستان پہنچے۔ ہم نے پھر دیر کردی۔ انہیں مٹی دی جارہی تھی۔ اس خاکدان سے نجات پاکر اب وہ بلندیوں سے خود کو اور دنیا کو دیکھ رہے ہوں گے۔ طویل وقفوں سے آنے پر وہ اکثر ہم سے شاکی رہتے تھے۔ چند ہفتے پہلے ہم جسارت کے دفتر پہنچے۔ موٹر سائیکل کھڑی کر کے مڑے ہی تھے۔ دیکھا گیٹ کے پاس وہ گاڑی سے اتر رہے تھے۔ ہم نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔ اپنے مخصوص کھٹ میٹھے انداز میں بولے ’’کون ہو میاں‘‘ ہم نے حیرت سے کہا ’’سر! آپ نے پہچانا نہیں‘‘ آگے بڑھ کر گلے سے لگا لیا ’’اتنے دن بعد آئو گے تو کیسے پہچانیں گے۔ تمہیں پتا ہے آج تم کتنے مہینے بعد آئے ہو‘‘ ہم نے معذرت کی۔ بولے ’’چلو چھوڑو اور بتائو گھر میں سب خیریت ہے‘‘۔ باتیں کرتے کرتے ہم لفٹ تک آگئے۔ بولے ’’ٹام بلّی نہیں بلّا ہے۔ لکھنے سے پہلے اتنا تو پتا کرلیا کرو‘‘۔ اس دن ٹام اینڈ جیری کے عنوان سے ہمارا کالم شائع ہوا تھا۔ ہم نے بلّی اور بلّے کے تعلق پر ایک پھلجھڑی چھوڑ دی۔ اس پر ان کی طرف سے بھی پھلجھڑیوں کی لائن لگ گئی۔ وہ اپنی بات پر زیادہ اصرار نہیں کرتے تھے۔ آخر میں بولے ’’چلو چھوڑو، بہرحال کالم اچھا تھا‘‘ ان کا یہ کہہ دینا اتنا بڑا اعزاز ہوتا تھا کہ ہر اعزاز اس کے آگے ہیچ ہے۔
مرنے والوں کی جبیں روشن ہے ان ظلمات میں
جس طرح تارے چمکتے ہیں اندھیری رات میں
جنید بغدادی سے پوچھا گیا ’’عافیت کس چیز میں ہے؟‘‘ فرمایا ’’عافیت گمنامی میں ہوتی ہے۔ گمنامی نہ ہو تو تنہائی میں، تنہائی نہ ہو تو خاموشی میں اور خاموشی نہ ہو تو صحبت سعید میں‘‘۔ اطہر ہاشمی صاحب ایسی ہی صحبت سعید کا نام تھا۔ ممتاز، معتبر اور موثر۔ وہ دھوپ کے ماروں کے لیے سایہ تھے، گھنا سایہ۔ دست شفقت۔ زندگی کے گھنے جنگل میں جب راہ سجھائی نہیں دیتی تھی۔ دل دکھ سے بھرا ہوتا تھا، حالات ناقابل برداشت ہوتے تھے، ان حالات میں وہ جینے کے آداب اس سادگی سے تعلیم کرتے تھے کہ رتی برابر رنج دل کے کسی گوشے میں باقی نہیں رہتا تھا۔ بڑی سے بڑی
بات اس سادگی اور آہستگی سے بیان کرتے کہ آدمی حیران رہ جاتا اور پھر وہ بات تازندگی دل پر رقم رہتی۔ ان کا کمرے میں ہروقت ہجوم عاشقاں جمع رہتا تھا۔ برادرم اجمل سراج، مظفر اعجاز اور وہ یکجا ہوتے تو ادبیت اور شفتگی کا وہ رنگ جمتا کہ آدمی دیکھتا اور سنتا رہے۔ ہم خاموش بیٹھے یہ مزے کی باتیں سنتے رہتے۔ ان کے پاس بیٹھنا فری ٹیوشن جیسا تھا۔ ہم نے جو کچھ لکھنا سیکھا ان ہی سے سیکھا ہے۔ وہ اب نگاہوں سے اوجھل ہیں لیکن ان کے وہ رنگ جو ان کے چاہنے والوں کے جسم وجاں کا حصہ بن گئے ان مٹ ہیں۔ سگریٹ بہت پیتے تھے۔ ان کی گفتگو سگریٹ کے کشوں کا درمیانی وقفہ ہوتی تھی۔ نجانے وہ راکھ کہاں گراتے تھے۔ ہم نے کبھی ان کے قریب ایش ٹرے نہیں دیکھی۔ ہم نے ایک مرتبہ تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’سر! نوّے فی صد کیسز میں سگریٹ نوشی کینسر کا باعث بنتی ہے‘‘۔ بولے ’’جو دس فی صد بچ جاتے ہیں ہم ان میں شامل ہیں‘‘۔ کئی برس پہلے ان پر فالج کا حملہ ہوا۔ اللہ نے کرم کیا۔ زبان میں معمولی سی لکنت آگئی تھی۔ اس پر بھی کچھ ہی دنوں میں انہوں نے قابو پا لیا۔ ملاقاتی زیادہ تشویش اور کرید کرتا تو انہیں الجھن سی ہونے لگتی تھی۔ وہ خود کو بیمار اور بوڑھا سمجھنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
جب پہلا کالم ان کی خدمت میں پیش کیا۔ چند سطریں پڑھ کر بولے ’’بیٹھ جائیے‘‘ ہمیں امید تھی کچھ غلطیاں نکالیں گے، اصلاح کریں گے، اپنی ایڈیٹری کا رعب جھاڑیں گے۔ انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ کاغذ پر سے نظریں ہٹاکر اپنی موٹی موٹی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے بولے ’’یہ کالم تم نے لکھا ہے‘‘ ہم نے اثبات میں سر ہلادیا۔ بولے ’’لکھا تو اچھا ہے لیکن میاں کوئی ڈھنگ کا کام کرو، اس کالم نگاری میں کیا رکھا ہے۔ ویسے کام کیا کرتے ہو‘‘ عرض کی ’’لیاقت آباد میں کپڑے کا کاروبار ہے‘‘ بولے ’’تو پھر کاروبار پر توجہ دو چھوڑو اس لکھنے لکھانے کو‘‘ لیکن اگلے دن کالم ادارتی صفحے پر نمایاں مقام پر لگا ہوا تھا۔ ہمیں روزنامہ جنگ سے لکھنے کی پیشکش ہوئی۔ بہت خوش ہوئے۔ ہر ہفتے جب بھی کالم لگتا پہلا فون ان کا ہوتا۔ اب جب کہ عادت پختہ ہوگئی ہے، معاشرے میں قلم کاروں کی بے وقعتی دیکھتے ہیں، پچھتاتے ہیں ان کا مشورہ کیوں نہ مان لیا۔ خراب وخوار ہونے اس سمت کیوں آنکلے۔ پھول کھلتے، بکھرتے اور مرجھاتے رہے۔ پتا ہی نہ چلا کتنا عرصہ بیت گیا۔ بیس برس، پچیس یا اس سے سوا۔ کبھی احساس ہی نہ ہوا کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب ہاشمی صاحب ہمارے بیچ نہیں ہوں گے۔ ماتحت ہوں یا کوئی اور وہ سب کے لیے نرم خو اور سادہ اطوار تھے۔ ہم نے انہیں کبھی کسی سے لڑتے، اونچے بولتے اور ناراض ہوتے نہیں دیکھا۔ بات کیسی ہی ہو ان کے لہجے اور طبیعت کا حسن برقرار رہتا۔ وہ کسی کو تنگ کرنے، کام لینے اور زحمت دینے کے قائل نہیں تھے۔ آخری وقت بھی انہوں نے کسی کو تیمارداری، علاج معالجے کی مشقت میں نہ ڈالا۔
ان کی قبر پر مٹی ڈالتے ہوئے ہم نے پو چھا ’’سر! یہ آپ نے کیا کیا‘‘ ہم نے اپنے کاندھے پر ان کا لمس محسوس کیا۔ لگا وہ ہماری دلداری کے لیے کہہ رہے ہیں۔
تھک کر یونہی پل بھر کے لیے آنکھ لگی تھی
سو کر ہی نہ اٹھیں یہ ارادہ تو نہیں تھا
ان کی تحریر بہت شگفتہ تھی۔ شاذ ہی اس میں تلخی ہوتی۔ ان کی تحریریں ان کی ذاتی شرافت، شائستگی اور لطافت سے آراستہ ہوتی تھیں۔ جس طرح ان کے لہجے میں ان کی طبیعت کا حسن جھلکتا تھا ان کے جملے بھی ایسے ہی چٹکتے، لہکتے ہوتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود رزم خیروشر میں شر اور باطل کی قوتوں کو وہ کوئی رعایت نہیں دیتے تھے۔ خیال وفکر کی وادیوں میں ہزار نشیب وفراز ہیں، قدم قدم شکاری جال بچھائے بیٹھے ہیں لیکن حق کے معاملے میں ہم نے کبھی انہیں منتشر اور متذبذب نہیں دیکھا۔ یکسو اور مطمئن۔ جسارت جیسے نظریاتی اخبار کی ادارت جس گہرائی، تہہ داری اور ظرف کا تقاضا کرتی ہے وہ اس کے مطابق تھے بلکہ اس سے سوا۔ وہ اپنی ذمے داری اس محنت اور سلیقے سے نبھاتے تھے کہ آج رب کی بارگاہ میں سرخرو ہوںگے۔ محترم الیا س بھائی جیسے منتخب شخص کے ادارتی صفحے کی ذمے داری سنبھالنے کے بعد وہ آسودہ اور مطمئن ہوگئے تھے لیکن اس سے قبل عرصے تک جب تک وہ ایک ایک سطر نہ پڑھ لیتے، غلطیوں کی اصلاح نہ کر لیتے کالم نگاروں کو ادارتی صفحے پر نہ چھوڑتے۔ وہ غلط آدمی کو برداشت کرلیتے تھے لیکن غلط زبان وبیان کو نہیں۔ اردو زبان سے ان کی محبت کا ثبوت ’’خبر لیجیے زباں بگڑی‘‘ کی قندیلیں ہیں۔ جو اردو کا اثاثہ اور حال ومستقبل کے اردو دانوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ بین السطور کے عنوان سے ان کے کالمز قیامت ہوتے تھے۔ جسارت کے سنڈے میگزین کے لیے بھی وہ ایک عرصہ قلمی نام سے لکھتے رہے۔ کیا چٹکیلے اور پھڑکتے جملے ہوتے تھے۔ خیال آتا ہے عالم بالا میں فرشتے ان کے پاس آئے ہوں گے تو انہوں نے چھوٹتے ہی پوچھا ہوگا ’’کیسے ہو میاں‘‘۔ حور اور ملائک جب عقیدت سے اس نووارد سے باتیں کررہے ہوں گے تو وہ ان کے تلفط اور زبان وبیان کی اصلاح کرتے ہوئے فرما رہے ہوں گے ’’میاں کبھی لغت بھی دیکھ لیا کرو‘‘۔
ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا
آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا