تمام طالبان قیدیوں کو رہاکردیا جائے، امریکا۔ 3روزہ افغان جرگہ شروع

164

واشنگٹن/کابل (مانیٹرنگ ڈیسک+خبر ایجنسیاں) امریکانے افغان حکومت پر زوردیا ہے کہ تمام طالبان قیدیوں کو رہاکردیا جائے۔امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ہم جانتے ہیں طالبان قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ غیر مقبول ہے لیکن یہ مشکل کام تشدد کے عمل کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے افغان مذاکرات اور امن معاہدے کی راہ ہموار ہو گی، جنگ زدہ افغان قوم کے آگے بڑھنے کے لیے رہائی کا عمل مددگار ثابت ہو گا۔ادھر افغانستان کے دارالحکومت کابل میں400 طالبان قیدیوں کی رہائی سے متعلق 3روزہ لویہ جرگہ شروع ہوگیا۔ یونیورسٹی ہال میں قبائلی رہنمائوں اور دیگر شراکت داروں پر مشتمل روایتی جرگے کا آغاز کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ اگر ان طالبان قیدیوں کو رہا نہ کیا گیا تو طالبان نہ صرف جنگ جاری رکھیں گے بلکہ اس میں شدت میں لائیں گے لیکنآئین کی بنیاد پر ان 400 قیدیوں کی رہائی افغان صدر کے اختیار میں نہیں ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی رہائی قوم کے ساتھ مشاورت کے بغیر ناممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ طالبان کہہ چکے ہیں کہ اگر ان کے یہ 400 قیدی رہا کیے جاتے ہیں تو وہ آئندہ 3دن میں افغان حکومت اور سول سوسائٹی کے فریقین کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا آغاز کریں گے ۔دوسری جانب طالبان نے افغان حکومت کی جانب سے لویہ جرگہ(بڑا مشاورتی اجتماع) بلانے کی مخالفت کر دی۔ترجمان افغان طالبان کاکہنا ہے کہ طالبان قیدیوں کی رہائی کے فیصلے کے لیے بلائے گئے لویہ جرگے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔طالبان نے لویہ جرگہ میں شرکت کرنے والے افغان عمائدین کو پیغام دیا ہے کہ تمام فریقین کو امن کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے سے باز رہنا چاہیے، افغانستان کی آزادی اور اسلامی نظام نافذ کرنے کے خلاف کوئی بھی عمل ناقابل قبول ہوگا۔