مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ہے،امریکی اراکین کانگریس

62

واشنگٹن (صباح نیوز،اے پی پی)امریکی ارکان کانگریس نے بھارتی حکومت کو خط لکھ کر مقبوضہ کشمیر میں عائد غیر قانونی پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین ایلیٹ اینجل اور ہوم لینڈ سیکورٹی کمیٹی کے سابق چیئرمین مائیکل میک کال نے مقبوضہ وادی میں پابندیوں کے حوالے سے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کو خط لکھا ہے۔ ری پبلکن اور ڈیموکریٹس کے اہم ارکان نے کہا ہے کہ 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے اب تک وادی میں حالات معمول پر نہیں آئے۔خط میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی
آزادیوں اور جمہوری اقدار پر عمل یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کو ایک سال مکمل ہوچکا ہے لیکن اب تک مقبوضہ وادی عملی طور پر لاک ڈاﺅن کی صورت حال میں ہے۔علاوہ ازیں اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے ذہنگ جون نے کہا ہے کہ چین کو مقبوضہ کشمیرکی موجودہ صورتحال اور بھارتی فوجی کارروائیوں پربڑی تشویش ہے۔ جمعرات کوچینی میڈیا کے مطابق ذہنگ جون نے کہا کہ ہندوستان نے یکطرفہ طور پر اگست 2019 میں آئینی ترامیم کے ذریعہ کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کیا جس سے خطے کو تناو¿ کا سامنا کرنا پڑا جبکہ اس حوالے سے صورتحال بہتر ہونے کی بجائے اس کے مزید بگڑنے کا خدشہ ہے اس لیے چین کومقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال اور اس سے متعلق فوجی فوجی کارروائیوں پربڑی تشویش ہے ۔ ترجمان کے مطابق ذہنگ جون نے سلامتی کونسل کے بند کمرے میں بحث کے دوران کشمیر سے متعلق چین کے اصولی موقف کے بارے میں بتایا ۔ انہوں نے متعلقہ فریقوںپر تحمل کا مظاہرہ کرنے اور احتیاط سے کام لینے پر زور دیا اور کہا کہ فریقین خاص طور پر صورتحال کو مزید بگاڑنے والا کوئی بھی اقدا م کرنے سے گریز کریں ۔ذہنگ جون نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر ماضی سے چھوڑا ہوا تنازع ہے اور اسے اقوام متحدہ کے چارٹر ، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور دو طرفہ معاہدے کے مطابق پر امن اور مناسب طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔