بھارت چین سے متعلق ویب سائٹ سے بیان ہٹانے پر مجبور

62

نئی دہلی (صباح نیوز)چین اور بھارت کے مابین سرحدی تنازعے میں بھارتی وزارت دفاع نے اپنی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان کچھ دیر بعد ہٹا دیا جس پر نگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی نے ایک ٹوئٹ میں لکھاہے کہ چین کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو جانا تو بھول جایئے، بھارتی وزیر اعظم تو چین کا نام بھی لے سکیں۔ اس بات سے انکار کر کے کہ چین ہمارے علاقے
میں داخل ہوا۔ وزارت دفاع کی ویب سائٹ سے دستاویزات ہٹا کر حقائق کو بدلا نہیں جا سکے گا۔واضح رہے بیان میں کہا گیا تھا کہ چینی بھارتی فوجی کشیدگی طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔ برطانوی نیوز ایجنسی کے مطابق یہ بیان جون میںجاری کردہ ایک اپ ڈیٹ تھا، جسے آن لائن جاری کرنے کے بعد دوبارہ آف لائن بھی کر دیا گیا۔ آن لائن اپ ڈیٹ میں کہا گہا تھا کہ چینی دستوں کی طرف سے ان سرحدی خلاف ورزیوں اور فوجی مداخلت کے بعدجو پرتشدد آمنا سامنا ہوا تھا، اس میں مغربی ہمالیہ میں بھارت کے 20 فوجی مارے گئے تھے جس کے بعد وزارت دفاع نے ویب سائٹ پر بیان اپ ڈیٹ کیا جس میں کہا گیا سفارتی اور فوجی سطح پر دوطرفہ مکالمہ جاری ہے، لیکن یہ صف آرائی طویل عرصے تک جاری رہے گی۔ بھارت کا یہ سرکاری بیان جمعرات 6 اگست کو بین الاقوامی نیوز ایجنسی کے پارٹنر مقامی خبر رساں ادارے اے این آئی نے بھی ٹوئٹر پر شیئر کیا اور کئی دیگر میڈیا اداروں نے بھی۔ لیکن پھر کچھ ہی دیر بعد وزارت دفاع نے یہ بیان اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دیا۔