مرحوم اطہرعلی ہاشمی ادب وصحافت کامستند حوالہ تھے

74

کراچی (اسٹاف رپورٹر)مدیراعلیٰ روزنامہ جسارت اطہرعلی ہاشمی کی وفات کی خبرپرعلمی ،ادبی اورصحافتی حلقوں میںغم واندوہ کی لہردوڑگئی ۔ وفاق المدارس العربیہ کے صدر مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر، نائب صدر مولانا انوار الحق حقانی، ناظم اعلیٰ مولانا محمد حنیف جالندھری، صوبائی ناظم مولانا امداداللہ یوسف زئی اور میڈیا کوآرڈینیٹر مولانا طلحہ رحمانی نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی صحافتی وادبی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا، انہوںنے کہا کہ مرحوم کی وفات سے شعبہ ادب وصحافت ایک علم دوست شخصیت سے محروم ہوگیا۔ امیر تحریکِ اسلامی پاکستان حافظ سید زاہد حسین، نائب امیر پروفیسر عبداللطیف انصاری،قیم عطاء الرحمن، امیر کراچی سید عاصم علی نے مرحوم کی وفات پر دکھ کااظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ مرحوم پختہ نظریاتی صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ اردو زبان کے ممتاز ماہر تھے۔ان کا ہفتہ وارکالم “خبر لیجیے زباں بگڑی” زبان وبیان کی اصلاح کا ایک موثر اورمستندذریعہ تھا۔نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے مرکزی صدر شمس الرحمن سواتی ،صدرکراچی خالد خان، جنرل سیکرٹری محمد قاسم جمال نے کہاہے کہ اطہرہاشمی نے قلم کی حرمت کا ہمیشہ پاس رکھا، ان کی خدمات کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔ امیرجماعت اسلامی ضلع کورنگی عبدالجمیل خان، امیرجماعت اسلامی ضلع شمالی محمدیوسف،نعیم شروانی، پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے جنرل سیکرٹری اور جی ڈی اے کے ترجمان سردار عبد الرحیم،پی آئی اے کی پیاسی یونین کے سابق رہنما سید محتشم علی قادری اورپاکستان کوئز سوسائٹی انٹرنیشنل کے بانی چیئرمین سید عاصم علی قادری نے مرحوم کی علمی وادبی خدمات کوسراہتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور ان کی مغفرت اورلواحقین کے لیے صبرجمیل کی دعاکی ہے۔