کراچی سمیت سندھ بھر میں بارش‘ نظام زندگی مفلوج‘ سیلابی صورتحال‘ بجلی غائب‘ تمام دعوے پانی میں بہ گئے

211
کراچی: صدر میں بارش کے بعد سڑک پانی میں ڈوبی ہوئی ہے

کراچی/حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر +نمائندہ جسارت)کراچی اورحیدرآباد سمیت سندھ بھر میں موسلا دھار بارش سے نظام زندگی مفلوج ہوگیا۔ جمعرات کو کراچی میں شدید گرمی اور حبس کے بعد مختلف علاقوں میں مون سون کے چوتھا اسپیل سے ایک بار پھر سیلابی صورتحال پیداہوگئی۔عید سے قبل ہونے والی بارش کا پانی اور گندگی اب تک صاف نہ ہوسکی تھی کہ نئے اسپیل سے ان علاقوں کی صورتحال مزید خراب ہوگئی۔کشمیری محلے میں جمع سیوریج کا پانی اور کچرا اب تک ٹھکانے نہیں لگایا جاسکا، گندگی اور کچرے کے باعث کورنگی ندی کے بہاؤ میں بھی رکاوٹ پیدا ہوگئی جبکہ ماڈل کالونی میں جانوروں کی آلائشوں سے اٹھنے والے تعفن اور بارش سے مکینوں کی پریشانی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ کراچی میں بارش رحمت کے بجائے اس بار بھی زحمت بن گئی، صدر، اولڈ سٹی ایریا ، ائرپورٹ، گلستان جوہر، فیڈرل بی ایریا، ناظم آباد، اورنگی ٹاؤن، نارتھ کراچی، سرجانی ٹاون،ملیر، کورنگی اور دیگر علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش جاری ہے۔بارش ہوتے ہی آئی آئی چندریگرروڈ، شارع فیصل ، یونیورسٹی روڈ اور دیگر مصروف شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی اور پھر روایت کے عین مطابق کے الیکٹرک کے 600 فیڈر ٹرپ کرگئے جس سے نیوکراچی، اورنگی ٹاؤن، منگھوپیر، سرجانی، ناظم آباد، گارڈن، لیاری، بلدیہ، سعید آباد، لیاقت آباد سمیت سمیت کئی علاقے بجلی سے محروم ہوگئے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ بارش کے علاوہ بھی مختلف علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 3سے 9 گھنٹے تک پہنچا ہوا ہے جبکہ لوڈ مینجمنٹ کے نام پر بھی رات 2 بجے سے 5 بجے تک مختلف علاقوں کی بجلی بند کردی جاتی ہے جس سے شہری سخت اذیت میں مبتلا ہیں۔ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق شہر بھر میں کہیں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نہیں کی جاتی جبکہ کچھ مستثنا علاقوں میں عارضی لوڈمینجمنٹ کی جارہی ہے۔کراچی میں دوپہر 2 بجے سے رات 8 بجے تک کے دوران سب سے زیادہ بارش پی اے ایف بیس فیصل پر 56 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔محکمہ موسمیات کے مطابق سعدی ٹاؤن میں 54، صدر میں46، یونیورسٹی روڈ پر 38.2 ، اولڈ ائرپورٹ پر 37.5، سرجانی 19، بیس مسرور 14.5 ، کیماڑی میں12.5، جناح ٹرمینل 9.8، ناظم آباد میں 10 ملی میٹربارش ریکارڈ کی گئی۔اس کے علاوہ نارتھ کراچی 7.5، گلشن حدید میں 7 ملی میٹر اور لانڈھی میں اب تک 25.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جاچکی ہے۔کراچی میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے برساتی نالوں کی صفائی کا کام تیسرے روز بھی جاری ہے۔ ترجمان این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ گجر نالے، کورنگی نالے اور مواچھ گوٹھ نالے پر 42 مقامات پر چوک پوائنٹس میں سے 35 کلیئر کردیے گئے، گجر نالا 80 فیصد، کورنگی نالا 85 فیصد اور مواچھ گوٹھ نالا 75 فیصد تک صاف کیا جا چکا ہے۔سندھ کے ساحلی علاقوں میں رین ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور ماہی گیروں کو 8 اگست تک گہرے سمندر میں نہ جانے اور شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔سندھ اور بلوچستان کے مختلف شہروں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا سلسلہ ہفتے تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ ڈائریکٹر محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ہوا کا ایک کم دباؤ خلیج بنگال اور دوسرا دباؤ رن آف کچھ پر موجود ہے، سسٹم کے آگے بڑھنے پر اگر انہیں سمندر سے نمی ملتی ہے تو یہ مزید مضبوط ہوسکتا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں مون سون کے اس چوتھے اسپیل کے دوران 100 سے 130 ملی میٹر بارش کا امکان ہے۔