بیروزگار خواتین کرکٹرز کی امداد کا اعلان

223

کراچی: پاکستان کرکٹ بورڈ نے ڈیوٹی آف کئیر پالیسی کے تحت خواتین کرکٹرز کے لیے 3 ماہ کے امدادی پیکج کا اعلان کردیا۔

خواتین کرکٹرز کی مالی امداد کی یہ تجویز عروج ممتاز کی سربراہی میں کام کرنے والے ویمنز ونگ نے پيش کی تھی، جسے چيرمين پی سی بی احسان مانی نے منظور کرلیا۔

اسکيم سے 25 خواتين کرکٹرز مستفید ہوں گی، جنہیں اگست سے اکتوبرتک  ماہانہ 25 ہزار روپے وظیفہ ملےگا۔ان  25 خواتين کرکٹرز کا اعلان کردہ اسکیم  کیلئے انتخاب اہلیت کے مقررہ معیار پر پورا اترنے کے بعدکیا گیا ہے۔

ڈوميسٹک سيزن 2019-20 کا حصہ ہونا، سيزن 2020-21 کے لیے کنٹريکٹ نہ ملنا اور فی الحال آمدن کا کوئی ذریعہ (نوکری، کنٹریکٹ یا کاروبار) نہ ہونا شامل ہے۔

قبل ازیں پاکستان کرکٹ بورڈ جون ميں خواتين کرکٹرز کے لیے کنٹریکٹ کا اعلان بھی کرچکا ہے۔ جس کے مطابق 9 سنٹرل کنٹريکٹ يافتہ اور اتنی ہی ایمرجنگ کھلاڑیوں کو دئیے گئے۔

پی سی بی کا کہنا ہے کہ حالیہ اعلان کے بعدفی الحال مجموعی طور پر 43 خواتین کرکٹرز کی امداد کررہے ہیں۔

دوسری جانب عروج ممتاز کا کہنا ہے کہ کوويڈ 19 کے باعث دنيا بھر ميں خواتين کرکٹ کی سرگرمياں رکی ہوئی ہیں،اس وبا سے ہماری خواتين کرکٹرز بھی بہت متاثر ہوئی ہيں اور ان ميں سے کچھ تو ایسی ہیں جو اپنے اہل خانہ کی واحد کفيل ہیں۔

عروج ممتاز نے کہا چونکہ خواتين کرکٹ آہستہ آہستہ فروغ پارہی ہے، لہٰذا یہ وقت کا تقاضہ تھا کہ پی سی بی اس اسکيم کے تحت نہ صرف اپنے کھلاڑیوں کی حفاظت کرتا بلکہ انہيں يہ یقین دلانا بھی ضروری تھا کہ بورڈ ان کی قدر کرتا ہے اور ان مشکل لمحات ميں ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

انہوں نے مزيد کہا کہ ڈوميسٹک سيزن 2019-20 ميں مجموعی طور پر 48 کھلاڑيوں نے حصہ ليا تھا، جس ميں سے 25 کھلاڑی تو اس اسکيم سے مستفيد ہوں گی جبکہ باقی ماندہ خواتین کرکٹرز يا تو پی سی بی کے کنٹريکٹ پر ہيں يا پھر وہ کہيں اور ملازمت کررہی ہيں۔

یاد رہے کہ پی سی بی اس سے قبل جون میں بھی ایسی ہی ایک اسکیم متعارف کرواچکا ہے، جس سے 161 اسٹيک ہولڈرز جن ميں سابق فرسٹ کلاس کرکٹرز ،ميچ آفيشلز، اسکوررز اور کيوريٹرز مستفید ہوئےتھے۔