کشمیر ریلی دھماکے میں شہیدہونے والے کارکن کی نماز جنازہ ادا کردی گئی

370

کراچی:گزشتہ روز جماعت اسلامی کراچی کی ریلی میں بم دھماکے میں شدید زخمی ہونے والے جماعت اسلامی علاقہ قائد آباد (ضلع ملیر)کے ناظم علاقہ رفیق تنولی شہید کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے نیو ایم اے جناح روڈ پر نماز جنازہ کی امامت کروائی، شہید کا جسد خاکی تدفین کیلئے آبائی علاقے مانسہرہ روانہ کر دیا گیا ہے، نمازجنازہ میں شدید بارش کے باوجود عوام کی بڑی تعدادنے شرکت کی،اس موقع پر جماعت اسلامی کے کارکنان نے پر جوش نعرے لگائے۔ 55سالہ رفیق تنولی شہید علاقہ قائد آباد کے ناظم تھے،شہیدکے پسماندگان میں تین بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے جنازے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ روز کے حادثے کے حوالے سے اگلے لائحہ عمل کا اعلان امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کریں گے،شہید رفیق تنولی کا لہورائیگاں نہیں جائے گا،  ریلی پر حملہ بزدلانہ فعل ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ  مقامی ایجنٹس کی سرپرستی کے بغیر بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹ حملہ نہیں کرسکتے ،یہ بھارتی دہشت گردی کی ایک اور بدترین مثال ہے، حکومت قاتلوں کے پورے نیٹ ورک کو قوم کے سامنے لائے، حکومت اور انتظامیہ ملزمان کو قوم کے سامنے بے نقاب کرے،  ملزمان کا تعلق کس دہشت گرد تنظیم سے ہے؟ اور دیگر تفصیلات سامنے لائی جائیں۔

امیر کراچی کا کہنا تھا کہ کشمیر سے اظہار یکجہتی کیلئے گزشتہ روز ریلی میں ہونے والے بم دھماکے کے باجود کارکنان ثابت قدم رہے اورآج شدید بارش کے باوجود نماز جنازہ میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

انہوں نے کہاکہ  جماعت اسلامی نے ہمیشہ کشمیر کیلئے آواز بلند کی ہے،اسی لئے جماعت اسلامی کو نشانہ بنایا گیا، لیکن دشمن سن لیں جماعت اسلامی ایسے بزدلانہ حملے سے خوف زدہ ہونے والی نہیں ہے، گزشتہ روز ہونے والی ریلی میں ہمارے 35سے زائد کارکنان زخمی ہوئے تھے، جس میں سے ایک کارکن عبدالاحد کی حالت انتہائی نازک ہے۔

 حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمران خواہ کتنا ہی معذرت خواہانہ رویہ اختیار کریں، عوام کشمیریوں کے ساتھ ہیں اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی اور شہداء کا خون ضرور رنگ لائے گا۔