مصنوعی مہنگائی کی وجہ نکمے ڈپٹی کمشنرزہیں،مشتاق غنی

116

پشاور(اے پی پی)اسپیکرصوبائی اسمبلی مشتاق غنی نے کہاہے کہ اضلاع میں نکمے ڈپٹی کمشنرزبیٹھے ہیں جن پر چیف سیکرٹری کاکنٹرول نہیں ،چیف سیکرٹری کو ہدایت کی تھی کہ تمام ڈپٹی کمشنرزکوحکم دیں کہ جہاں روٹی مہنگی ہے وہاں چھاپے مار یں دکاندار گرفتار کرکے متعلقہ ڈی سی کومعطل کریں لیکن افسوس چیف سیکرٹری اپنی ذمے داری پوری نہ کرسکا، اگر1300روپے آٹے کا تھیلا اور20روپے روٹی بک رہی ہے تو ڈی سی کس مرض کی دواہیں ، یہ مصنوعی مہنگائی ہے، چند کالی بھیڑیں راتوں رات امیربننے کے لیے حکومت کی بدنامی کاباعث بن رہی ہیں چیف سیکرٹری ڈپٹی کمشنرزسے جواب طلبی کیوں نہیں کرتا، جب سرکاری نرخ مقررہیں تو دکاندار ہوتے کون ہیں خودساختہ ریٹ مقررکرنیوالے۔ انہوںنے چیف سیکرٹری کوہدایت کی کہ تمام عملے کی مارکیٹوں میں ڈیوٹی لگاکر سرکاری نرخ پر عمل درآمدیقینی بنائیں ۔اسپیکر نے کہا کہ ہمیں مجبورنہ کریں چیف سیکرٹری صاحب آپ کو ایوان طلب میںکیاجائے۔وزیرمحنت شوکت یوسفزئی نے کہاکہ 20روپے کی روٹی عوام کی دسترس سے باہر ہے