بھارت ،لاک ڈائون کے باعث بچوں کے استیصال میں اضافہ

184

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) کورونا وائرس کے باعث لگائے گئے لاک ڈاون کی وجہ سے بھارت کے دیہی علاقوں میں رہنے والے بچوں کے جنسی اور جسمانی استیصال کا خطرہ بڑھ گیا ہے جب کہ مودی سرکار کی ناقص معاشی پالیسیوں سے بدحال شہری بے روزگاری اور اقتصادی مسائل کی وجہ سے اپنے بچوں سے مزدوری کرانے کے لیے مجبور ہوگئے ہیں۔ نوبیل انعام یافتہ کیلاش ستیارتھی کے چلڈرنس فاونڈیشن کی طرف سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں لیبر قوانین کمزور پڑنے سے بچوں کی سلامتی شدید متاثر ہو جائے گی اور بچہ مزدوری ک معاملات میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔ رپورٹ میں بچوں کی سلامتی، حقوق اور بردہ فروشی جیسے امور پر کام کرنے والی رضاکار تنظیموں سے بات چیت کی گئی ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کورونا کی وجہ سے پیدا ہونے والے اقتصادی بحران کے سبب21 فیصد خاندان اپنے بچوں سے مزدوری کرانے کے لیے مجبور ہیں۔ تنظیم نے مشورہ دیا ہے کہ اس صورت حال سے بچنے کے لیے اطراف کے گاؤں میں نگرانی کا نظام کو مزید بہتر بنانا ضروری ہے ۔ رپورٹ میں لاک ڈاؤن کے بعد بچوں کی بردہ فروشی کے معاملات میں اضافہ پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق 89 فیصد غیر سرکاری تنظیموں کو خدشہ ہے کہ لاک ڈاون ختم ہونے کے بعد بالغوں کے ساتھ بچوں کی اسمگلنگ میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے ۔ جب کہ 76 فیصد تنظیموں کا کہنا ہے کہ لاک ڈاون کے بعد جسم فروشی کی تجارت کے لیے بردہ فروشی تیزی سے بڑھنے کا خدشہ ہے ۔ ان میں بچوں کی تعداد زیادہ ہوسکتی ہے۔ تنظیم نے اپنی رپورٹ میں نگرانی کا نظام بہتر بنانے کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو زیادہ چوکنا رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔