لبنان: غربت کا عفریت نصف آبادی کو نگلنے کے لیے تیار

195

بیروت (انٹرنیشنل ڈیسک) لبنان میں جاری بدترین اقتصادی بحران کے باعث نصف آبادی شدید غربت اور کسمپرسی کا شکار ہو گئی۔ اقتصادی بحران کے نتیجے میں ملازمین کی ایک بڑی تعداد کو فارغ کر دیا گیا ہے۔ ملک میں اشیائے صرف کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں،جب کہ کرنسی کی قیمت انتہائی حد تک گر چکی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق لبنان 92ارب ڈالر کے قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، جو ملکی پیداوار کا 170فیصد بنتا ہے۔ قبل ازیں لبنانی وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا کہ حکومت کی جانب سے معاشی بحالی کا منصوبہ تیار ہونے کے بعد ملک آئی ایم ایف سے مدد طلب کرے گا۔ 13مئی کو لبنان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے، جس کے بعد کرنسی کے تبادلے میں خورد برد کے شبہے میں کئی بینک کاروں کو حراست میں لے لیا گیا۔ گزشتہ ماہ کے آخر میں فرانسیسی وزیر خارجہ جان ایف لودریاں نے لبنان کا دورہ کیا اوراقتصادی بحران سے نمٹنے کے لیے لبنانی حکام کی جانب سے پیش رفت نہ ہونے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ لودریاں کا کہنا تھا کہ لبنان تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔