کے الیکٹرک اور کیلے والا

482

کے الیکٹرک کے خلاف جدوجہد کا آغاز تو جماعت اسلامی نے کیا پھر اس میں شدت آتے ہی دیگر سیاسی جماعتیں اپنا ووٹ بینک بچانے کے لیے اوچھل کود کرنے لگیں اور تو اور حکمران جماعت کے کراچی کے کامیاب نمائندے بھی جاگ گئے اور کے الیکٹرک کے دفاتر کے سامنے دھرنا دینے لگے جن کی خاطر مدارات کے الیکٹرک انتظامیہ نے جوس کے ڈبے فراہم کرکے کی۔ کتنی عجیب بات ہے جن کو احکامات دینے چاہییں وہ مطالبات کررہے ہیں، ایسے میں ان کے اتحادیوں کو بھی ہوش آیا کہ کبھی ہم بھی کراچی کے والی وارث تھے اور آج نہیں ہر دور میں اتحادی ہی رہے اور صرف چند وزارتوں کے عوض خاموش تماشائی بن جاتے ہیں۔ پیپلز پارٹی جو اب صرف سندھ میں رہ گئی ہے ہر چیز کا الزام وفاق پر لگا کر بری الذمہ ہے۔ ان سب کے باوجود کے الیکٹرک ٹس سے مَس نہ ہوئی اور اس بات پر قائم ہے کہ لوڈشیڈنگ ختم نہیں کرسکتے اور نہ ہی اس کا دورانیہ کم ہوگا اوور بلنگ بالکل نہیں ہورہی اور عوام کی سہولت کی خاطر کسٹمرز سینٹر کھلے ہوتے ہیں۔ کسٹمرز سینٹر یقینا کھلے ہیں اور ان کے باہر سیکڑوں نہیں ہزاروں کی تعداد میں عوام کا جم غفیر کے الیکٹرک کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایک دن ہمارا بھی وہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ عوام کا رش دیکھ کر پہلے تو ہم گھبرائے پھر ہمارے ہاتھ میں انگلی کے پور کے برابر ایک پرچی تھمادی، جس پر نمبر درج تھا اور بس پھر چار گھنٹے تپتی دھوپ میں سینٹر کے باہر درختوں کے نیچے کھڑے رہے اس کے بعد کہیں سینٹر کے اندر جانے کی اجازت ملی۔ یہاں کچھ سکون تھا۔ ٹینٹ لگا ہوا تھا اور بیٹھنے کے لیے کرسیاں بھی موجود تھیں۔ یہاں بھی ایک ڈیڑھ گھنٹے کے بعد کائونٹر روم میں گئے تو پھر سے کمپیوٹر کے ذریعے ایک نمبر والی پرچی دی گئی جس پر ہماری آمد کا وقت ساڑھے تین بجے پرنٹ تھا یعنی ہمارا وقت شروع ہوتا ہے اب۔ اس سے پہلے کے چار پانچ گھنٹے کے الیکٹرک کے کھاتے میں نہیں۔ یہاں کا ماحول ٹھنڈا اور پرسکون تھا تو پاس پڑوس کے افراد کی روداد سنتے رہے اور ایسی ایسی کہانیاں سننے کو ملیں کہ تحریر کرنے بیٹھے تو کتاب مرتب ہوجائے۔ یہاں ہم صرف ایک واقعہ درج کرتے ہیں۔ کے الیکٹرک کی سنہری آفر۔ آپ کے بقایا جات کا آدھا آپ جمع کریں بقیہ کے الیکٹرک جمع کرے گی۔ ایک صاحب کا بل کچھ زیادہ تھا انہوں نے اس سنہری آفر سے فائدہ اٹھایا اور آدھا بل جمع کردیا مگر اگلے مہینے ہی وہ بقیہ آدھا بل ان کے بل کے ساتھ لگ کر پھر آگیا۔ جب کے الیکٹرک سے اس کی وضاحت طلب کی تو جواب ملا 12 ماہ تک یہ بل ایسے ہی آئے گا اگر آپ نے بارہ ماہ بل باقاعدگی سے بھرا تو 12 ماہ بعد ختم کردیا جائے گا اور اگر ایک ماہ بھی بل ادا نہیں کیا یا تاخیر سے بھرا تو یہ رقم واپس آپ کے بل میں جمع کردی جائے گی۔ واہ کیا سنہری آفر ہے اگر کسی مجبوری یا اوور بلنگ کی وجہ سے بل جمع نہ ہوا تو ہوگیا کام… ہم تقریباً ایک گھنٹے کائونٹر روم میں رہے، مجال ہے کسی کے بل میں ایک روپے کی بھی کمی کی ہو بس یہی کہنا تھا کہ اب تو یہ کمپیوٹر میں آگیا ہے یہ تو بھرنا ہی ہوگا۔ گویا کمپیوٹر نہ ہوا (نعوذباللہ) قرآن حدیث ہے۔ دراصل کائونٹر پر بیٹھے افراد کو بھاری بھرکم تنخواہوں کے ساتھ اس بات کی ٹریننگ بھی دی جاتی ہے کہ آپ کو عوام کو مطمئن کرکے رخصت کرنا ہے وہ آپ کے نرغے میں ہیں ان کو مجبور کرنا ہے کہ بل درست ہے بھرنا ہی بھرنا ہے۔ صرف قسطوں کی سہولت ہے وہ بھی واجبات بھرنے کے بعد۔ کے الیکٹرک کی کارکردگی ان کے بنائے گئے کسٹمرز سینٹر کے باہر لگے مجمع سے بخوبی لگائی جاسکتی ہے اور چوں کہ اب یہ روز کا معمول بن چکا ہے۔ چناں چہ ان سینٹرز کے باہر کھانے پینے کی اشیا کے اسٹال بھی مستقل بنیاد پر لگنے لگے ہیں کہیں دہی بھلے، چھولے کا ٹھیلہ ہے تو کہیں حلیم فروخت ہورہا ہے اور لیموں پانی والا تو عوام سے پیسے وصول کرنے کے ساتھ دعائیں بھی سمیٹ رہا ہے۔ یہیں پر ایک شخص کیلے کا ٹھیلہ لگائے کھڑا دھوپ میں تپ رہا تھا ایسے میں ایک کے الیکٹرک کے آفیسر گلے میں کے الیکٹرک کا پھندا لٹکائے آدھمکے اور ٹھیلے والے سے پوچھ بیٹھے کہ کیلے کیسے دیے؟ کیلے والے نے ایک نظر ان کے گلے میں لٹکے کارڈ کی طرف ڈالی اور بولا کس کے لیے لیں گے؟ آفیسر نے حیرانی سے پوچھا کیا مطلب؟ پھر کیلے والے نے یوں تفصیل بیان کی
-1 یتیم خانے کے بچوں کے لیے صرف دس روپے درجن
-2 آپ کے اپنے بچوں کے لیے صرف بیس روپے درجن
-3 گھر کے مہمانوں کے لیے تیس روپے درجن
-4 اپنے آفس والوں کے لیے پچاس روپے درجن
آفیسر نے غصے میں آکر کہا کیلے تو ایک ہی ہیں پھر ریٹ الگ الگ کیوں؟ کیلے والے نے بڑی معصومیت سے کہا۔ سرکار یہ تو آپ ہی نے سکھایا ہے بجلی تو ایک ہی کھمبے سے آرہی ہے مگر 50 یونٹ کے 5 روپے، 100 یونٹ کے 10 روپے، 200 یونٹ کے 20 روپے۔ دکان والے سے 20 روپے، مارکیٹ والوں سے 30 روپے کارخانے داروں سے 40 روپے۔ آفیسر سے کوئی جواب نہ بن پڑا اور پیر پٹختا واپس ہولیا۔ اس ٹھیلے والے کو ہم ان پڑھ تو کہہ سکتے ہیں مگر جاہل نہیں۔ ظاہر سی بات ہے بجلی کا یونٹ بڑھنے سے بجلی بنانے کا خرچہ تو نہیں بڑھتا تو پھر نرخ کیوں بڑھ جاتے ہیں جب کہ دیگر ممالک میں یہ طریقہ کار نہیں پھر یہ تو عام سی بات ہے جو چیز جتنی زیادہ استعمال ہوگی تیاری کے اخراجات کم اور منافع بڑھ جاتا ہے۔ ابھی کل ہی کی بات ہے ہم نے ٹماٹر والے سے پوچھا بھائی ٹماٹر کیسے ہیں؟ جواب ملا۔ ایک پائو کے 30 اور آدھا کلو کے 50 روپے۔ یہ ایک سادہ سی مثال ہے۔ آدھا کلو پر اس کو منافع زیادہ ہورہا ہے اسی لیے اس نے ڈسکائونٹ دے دیا وہ بھی 10 روپے کا۔ یعنی آدھا کلو پر اس کو 10 روپے سے بھی زیادہ منافع ہورہا ہے۔ یہ تو ایک عام سبزی فروشی کا شرح منافع ہے آپ تو اتنا بڑا ادارہ چلارہے ہیں۔ یہ تو بجلی والوں کا حال ہے، گیس والے تو ان کے بھی باپ ہیں یہاں تو سلیب ریٹ ڈبل ہوجاتے ہیں۔ ایک زمانے میں ایک متوسط گھرانے کا گیس کا بل ڈھائی تین سو روپے آتا تھا اب تو ہزار کا ہندسہ کراس کرگیا ہے۔ اس کا سادہ سا حل کیلے والے نے سمجھا دیا ہے سلیب ریٹ سسٹم ختم کردیا جائے اور بجلی ہو یا گیس یونٹ ریٹ فکس کردیا جائے جو صرف بجٹ میں طے ہو اور آئندہ بجٹ تک برقرار رہے۔ تب تو شاید بلوں میں اووربلنگ ختم ہوجائے گی کیوں کہ ان دونوں اداروں کا عملہ اپنے ادارے کے مفاد میں یونٹ آگے کرکے اگلا سلیب سیٹ کردیتے ہیں۔ ابھی ہم آرٹیکل کے اختتام ہی پر تھے کہ ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی کا بیان سامنے آیا کہ کے الیکٹرک ہمت کرکے ان علاقوں میں بھی جائے جہاں صرف بجلی جاتی اور عملہ جانے کی ہمت بھی نہیں کرپاتا۔ آخر میں مشیر احتساب کا بھی ذکر خیر ہوجائے موصوف فرماتے ہیں کہ کے الیکٹرک کا معاملہ احتساب کا نہیں ٹیکنیکل ہے۔ کے الیکٹرک کو ریلیف ملنا چاہیے۔ ضرور ریلیف دیں مگر بلوں سے انرجی چارجز کے علاوہ تمام ٹیکس اور چارجز ختم کرکے عوام کو بھی تو ریلیف دیں۔