بھارت کا علاج چائے سے نہیں گولی سے کیا جائے

346

نریندر مودی نے کشمیر کے اسٹیٹس کو تبدیل کرکے پاکستان کی شہ رگ پر کاری وار کیا ہے، نئی دہلی سرکار کا یہ اقدام اب فیصلہ کن گھڑی کا لمحہ اور پیغام لے کر آن پہنچا ہے اور وہ خود کہہ رہا ہے اور چاہ بھی رہا کہ اس کا علاج چائے سے نہیں بلکہ گولی سے کیا جائے۔ پانچ اگست کا اقدام بلاشبہ کشمیریوں اور پاکستان کا کڑا امتحان ہے اس امتحان میں کمزوری دکھائی گئی تو ذلت و رسوائی اور پسپائی ہمیں پاتال میں لے جائے گی یہ حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ ثابت کرے۔ آئین پاکستان اور ریاست پاکستان کے پیغام کے عین مطابق فیصلے کرے اور اب پہلی فرصت میں کنٹرول لائن پر تحمل کی پالیسی کا جائزہ لیا جائے یہاں دشمن کی گولیاں اگلتی ہوئی بندوقوں کے دہانے تباہ کرنے کا وقت آن پہنچا ہے، کشمیر کے شہداء سے سجے ہوئے قبرستان ہمیں پکار رہے ہیں۔ یہ بات تسلیم نہیں کی جا سکتی اور ہضم بھی نہیں ہورہی کہ بھارت نے یہ اقدام اچانک کردیا، وہ تو شروع دن سے ایک ہی بات کرتا چلا آہا ہے، جب1997 میں پاک بھارت مذاکرات ہوئے تو بھارت کی جانب سے سلمان حیدر سیکرٹری خارجہ آئے، تین کے دن کے مذاکرات کے بعد واپس دہلی پہنچے تو بیان دیا کہ وہ تو آزاد کشمیر کی بات کرکے آئے ہیں۔ ہمیں سلمان حیدر اور ان سے قبل ہر بھارتی وزیر خارجہ اور سیکرٹری خارجہ کی ایک ہی بات اور رٹ سننے کو ملتی رہی کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ ہمیں ان کی زبان، لہجہ اور ارادوں کو بھانپ لینا چاہیے تھا اور اسی کے مطابق جوابی کارروائی کے لیے تیار رہنا چاہیے تھا مگر‘ کیا کیجیے‘ کہ ہمیں جو بھی حکمران اور حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں کے سربراہ ملتے رہے ہیں اور ہمیں میٹھی زبان میں بات کرنے والے زہر کا پیالہ پلانے شاہ محمود قریشیوں کی بھی کمی نہیں رہی‘ لہٰذا نتیجہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ اب بھی لگتا یہی ہے کہ بس ہم مذمت اور احتجاج ہی کرتے رہیں گے۔
گزشتہ سال مودی سرکار کا کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ اچانک تو نہیں تھا وہ تو برسوں سے اس کی تیاری میں تھا‘ مودی کی انتخابی مہم ہی اس نعرے پر تھی اور پھر پانچ اگست سے کئی ہفتوں سے وہ کشمیر میں تازہ دم دستے تعینات کرتا رہا آثار بتاتے تھے کہ کچھ ہونے جارہا ہے اور وہ کوئی خوفناک قدم اٹھائے گا اس وقت ہماری وزارت خارجہ کے بابو کہاں تھے؟ ہمارے ہاں پہلا اجلاس اس وقت ہوتا ہے جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے اور ہمیں ’’کامیاب سفارت کاری‘‘ کا لالی پاپ دے کر بہلایا گیا ہمیں یہ دھوکا دیا گیا کہ ٹرمپ کشمیر کے معاملے میں ثالثی کرے گا۔ بھارت کشمیر کو ہضم کرنے جارہا ہے، اور ہم‘ ٹرمپ کے بیان اور سراب پر ہی رقص کرتے رہیں گے۔ حکومت کچھ بھی کہے‘ یقین اسی بات پر ہی ہے کہ کشمیر بزور شمشیر ہی لیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ ہم ابھی تک یہ فیصلہ ہی نہیں کر سکے کہ ہمیں کہنا کیا ہے اور کرنا کیا ہے؟ جب کہ ایک سال ہوچکا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق بھارتی آئین میں درج آرٹیکل 370 کو ختم کیا جاچکا ہے۔ راجیہ سبھا میں بل پیش کرکے اس پر رائے شماری کے ذریعے جموں وکشمیر اور لداخ کو الگ کیا جاچکا ہے اور بھارت آہستہ آہستہ وہاں مقامی ضرورت کے مطابق قانون سازی کیے جارہا ہے کہ فیصلہ یہی ہے کہ جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی ہوگی لیکن لداخ اس حق سے محروم رکھا گیا ہے اسے بھارتی وفاق سے نتھی کرکے ’یونین ٹیریٹری‘ کا درجہ دیا گیا ہے اس فیصلے کے بعد آج تک سری نگر میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ ہے، دنیا سے وادی کا رابطہ منقطع ہے اسے ایک قید خانے اور نازی دور کے عقوبت خانے میں بدل دیاگیا ہے۔ بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے لیے کام کرنے والے سیاست دان‘ حکمت عملی کے تحت گھروں میں نظربند کیے گئے ہیں صرف بزرگ مرد درویش سید علی گیلانی پورے قد کے ساتھ کھڑے ہیں اور آہنی دروازے کے پیچھے کھڑے ہوئے بھارتی فوجیوں کو للکارتے نظرآتے ہیں۔
370 آرٹیکل کے تحت مقبوضہ جموں وکشمیر کا بھارت کے ساتھ نام نہاد الحاق کیاگیا تھا۔ ماضی میں اس کے ہر اس اقدام پر پاکستان کی شکایت پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنی قراردادوں کے ذریعے اس پر پابندی لگادی تھی اور قرار دیا تھا کہ جموں وکشمیر متنازع علاقہ ہے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت یہاں اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری کے انعقاد تک آبادی کے تناسب میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی لداخ کو جموں اور کشمیر سے الگ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جنگ کے نتیجے میں وہ اس حکمت عملی کے ذریعے لداخ کا علاقہ بدستور اپنے زیر قبضہ رکھ سکے لداخ کوہ قراقرم کے سلسلہ سے عظیم ہمالیہ تک پھیلے برفیلے سیاچن کے ساتھ واقع خوبصورت خطہ ہے۔ یہاں انڈو آرین اور تبت نژاد آباد ہیں۔ اس کی ثقافت تبت سے زیادہ منسلک بتائی جاتی ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ بلتستان کا حصہ ہے جو پاکستان کا حصہ ہے۔ یہ چینی خطہ سنکیانگ سے بھی جڑا ہے۔ عکسائے چین کا علاقہ بھارت اور چین کے درمیان متنازع ہے۔ چین ہوتن کائونٹی کے حصے کے طور پر اس کا انتظام چلاتا ہے۔ 1962ء میں چین اور بھارت نے عکسائی چن اور اروناچل پردیش میں مختصر جنگ بھی لڑی۔ 1993ء اور 1996ء میں دونوں ممالک نے ’لائن آف ایکچوئل کنٹرول‘ کا معاہدہ کیا تھا۔ لداخ کی اہمیت اس کی تجارتی راہ گزر ہونے کی وجہ سے ہے لداخ کا سب سے بڑا ٹائون یاقصبہ لیہہ ہے جس کا نام آتے ہی ذہن میں کارگل آجاتا ہے۔ بھارتی حکومت نے یہاں کے انتظامی امور کو چلانے کے لیے چھ ماہ کا دورانیہ مقرر کررکھا ہے۔ اس کا صدر مقام چھ ماہ کارگل اور پھر چھ ماہ لیہہ میں ہوتا ہے‘ یہاں سب سے زیادہ تعداد تبت کے بودھ بھکشوئوں کی ہے 39.7 فی صد ہے جبکہ ہندووں کی تعداد12.1 فی صد ہے۔ لداخ کی اکثریتی آبادی 46.4 فی صد مسلمان ہے قانونی ماہرین کے مطابق بھارت کے اس اقدام سے تنازع کشمیر کی قانونی حیثیت ختم نہیں ہوتی۔ یہ ایک مسلمہ عالمی تنازع ہے جس میں تین فریقین کو تمام عالمی دستاویزات میں تسلیم کیاگیا ہے۔ اس مسئلہ پر نہ صرف عالمی قراردادیں موجود ہیں بلکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ معاہدات بھی شامل ہیں جن میں شملہ معاہدہ اور اعلان لاہور بھی موجود ہے۔ ان میں خود بھارت نے تسلیم کر رکھا ہے کہ یہ ایک متنازع معاملہ ہے۔
مودی سرکار نے منسلک آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان کے شمالی علاقہ جات پر بھی اپنی بدنظریں گاڑ رکھی ہیں۔ کنٹرول لائن سے ملحقہ شہری آبادیوں پر کلسٹر بم چلانے کی نوبت بھی آ گئی ہے۔ مودی سرکار کشمیر کو پلیٹ میں رکھ کر ہمارے حوالے کرنے والی نہیں بلکہ وہ کشمیر کی خاطر سب کچھ تہس نہس کرنے کی جنونیت والا راستہ اختیار کر چکی ہے۔ مودی سرکار نے ان کے کھلم کھلا قتل عام کی منصوبہ بندی کی ہوئی ہے جس کے تحت مقبوضہ کشمیر میں مزید ایک لاکھ 80 ہزار بھارتی فوجی کشمیر میں داخل کر دیے گئے ہیں۔ تو کیا اس بھارتی ہٹ دھرمی کو اپنی جیتی جاگتی آنکھوں سے دیکھ کر بھی ہم مودی سرکار سے خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کرتے اور امن و آشتی کی توقع باندھتے رہیں… بس اب بہت ہوچکا‘ … ہمیں اب قومی غیرت و سلامتی کے تقاضوں کے عین مطابق جیسے کو تیسا والی حکمت عملی طے کرنا ہو گی، ہمیں اب ٹیڑھی انگلی سے گھی نکالنے کی حکمت عملی ہی طے کرنا ہو گی۔