رزق کے ذرائع پر حملہ ہوگا تو بغاوت ہوگی ، محمود خان اچکزئی

186

 

کوئٹہ( نمائندہ جسارت) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سربراہ سابق رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان کا مسئلہ عمران خان نہیں بلکہ آئینی حکمرانی ہے، یہ ملک اس وقت تک نہیں چل سکتا جب تک آئین اور قانون کی بالادستی نہیں ہوگی۔ پشتونوں کی الگ متحدہ اسمبلی ہونی چایئے ،پاک افغان سرحد پر آمد و رفت کی پالیسی میں تبدیلی لانے کی پالیسی سے عوام اور قبائل پریشان ہیں۔ان خیا لات کا اظہار محمود خان اچکزئی نے کوئٹہ میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ پاک افغان بارڈر پر
صدیوں سے پشتون اور بلوچ قبائل آباد ہیں ، ان قبائل کی زمینیں دونوں ممالک میں ہیں ، 122 سال سے بغیرپاسپورٹ کے سرحد پر بسنے والے لوگ آمدورفت کر رہے ہیں ، لیکن اب پالیسی تبدیل کی جارہی ہے ، جس کی وجہ سے چمن اور دیگر سرحدی علاقوں میں رہنے والے قبائلی لوگ پریشان ہیں ، وہ صدیوں سے اسی طرح کاروبار کررہے ہیں ، اب ان سے روزگار چھینا جارہا ہے ، رزق کے ذرائع پر حملہ ہوگا تو پھربغاوت بھی ہوگی، ملک خانہ جنگی کی طرف بھی جاسکتا ہے ، محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان تعاون کریں تو آئندہ دس سال میں دونوں ملکوں کے درمیان پاسپورٹ والا نظام ختم ہوسکتا ہے، پاکستان چاہے توافغانستان میں امن ہوسکتا ہے جو اس خطے کے لیے بہت بہتر ہوگا ، ان کا کہنا تھا کہ مجھے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں سے گلہ ہے، تمام جماعتیں میوزیکل چیئر پر راضی ہوگئیں، پاکستان ہمارا ملک ہے ،یہ ملک جتنا ایک جرنیل اور جج کا ہے اتنا ہی ہمارا ہے، یہ ملک اس وقت تک نہیں چل سکتا جب تک آئین اور قانون کی بالادستی نہیں ہوگی ، چیئرمین پشتونخواملی عوامی کا کہنا تھا کہ کرپشن ہمارے اپنے اداروں کی پیداکردہ ہے ، عام انتخابات اور سینیٹ کے انتخابات میں کیا ہوا ، سب نے دیکھا سرعام ووٹ فروخت ہوئے، ان کا کہنا تھا کہ ہمیں الگ پشتون یونٹ چاہیے، جب تک پشتون بلوچ مسئلہ حل نہیں ہوگا ملک ترقی نہیں کرے گا ، بلوچ اسمبلی میں مجبوری سے بیٹھ رہے ہیں ، ہم متحدہ پشتون اسمبلی کا مطالبہ کرتے ہیں۔