بھارت میں ایک اور مسلمان ہندو انتہا پسندی کی نذر

193

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں بی جے پی سرکار کی ہندوتوا پالیسی کے تحت اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف پرتشدد واقعات تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔ تازہ واقعے میں عید الاضحی کے موقع پر ایک اور مسلمان ہندو انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق بھارت کے شہر گڑگاؤں میں ہندو انتہا پسندوں نے گائے کا گوشت لے جانے کے شبہے میں ایک مسلمان نوجوان کو گھیر کر ہتھوڑے برسا دیے، اس دوران اسے زخمی حالت میں سرعام گھسیٹا گیا اور شدید زد و کوب کیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق 27 سالہ نوجوان لقمان بارہا یقین دلاتا رہا کہ یہ گوشت گائے کا نہیں، تاہم بھارت میں حکمران جماعت سمیت دیگر سیاسی پارٹیوں اور انتہا پسند تنظیموں کے زیر سایہ دہشت مچانے والے غنڈوں نے بے خوف ہوکر تشدد جاری رکھا جب کہ اس موقع پر پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ بعد ازاں مسلمان نوجوان کی حالت غیر ہونے پر پولیس نے مداخلت کی اور زخمی کو اسپتال منتقل کیا۔ واقے کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے جب کہ عوامی دباؤ کے پیش نظر پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث ایک ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دیگر ملزمان کی بھی شناخت کرلی گئی ہے، جنہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مقامی مسجد مارکیٹ کے صدر کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے تشدد کے دوران مداخلت کرنے والوں پر بھی حملہ کیا۔ حکام کے مطابق گوشت کی جانچ کے لیے نمونے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق 2015ء سے 2018ء تک بھارت میں گائے کے گوشت کے نام پر تشدد کے واقعات میں کم از کم 44 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے گزشتہ برس جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دور میں اقلیتوں کے خلاف مذہبی تشدد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔