آئو اے پی سی‘ اے پی سی کھیلیں

299

بلاول زرداری کو بھی اپنے باپ کی طرح اے پی سی (آل پارٹیز کانفرنس) کا شوق چرایا ہے۔ چند روز پہلے وہ اس شوق کی تکمیل کے لیے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے درِ دولت پر حاضر ہوئے اور مینگو ڈپلومیسی برتتے ہوئے ان کے لیے آم بھی لے گئے تھے۔ شہباز شریف نے ان کا والہانہ خیر مقدم کیا، البتہ کورونا کے خوف سے ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے گریزاں رہے اور دونوں لیڈر تین فٹ کے فاصلے پر سینے پر ہاتھ باندھے مسکراتے ہوئے کھڑے ہوگئے۔ ہاں یاد آیا۔ شہباز شریف جب سے لندن سے آئے ہیں، قرنطینہ میں ہیں، قومی اسمبلی کے کسی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے بجٹ اجلاس میں ان کی شرکت بہت ضروری تھی لیکن موصوف نے اجلاس میں شریک نہ ہو کر حکومت کو واک اوور دے دیا اور وہ نہایت آسانی کے ساتھ بجٹ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔ اس دوران نیب نے جائداد کے ریفرنس میں انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی۔ پولیس کی بھاری جمعیت کے ساتھ گھر پر چھاپا مارا۔ بتایا جاتا ہے کہ موصوف گھر پر موجود تھے لیکن سلیمانی ٹوپی پہننے کی وجہ سے پولیس کو نظر نہ آسکے۔ اگلے دن وہ اسی گھر سے برآمد ہو کر لاہور ہائی کورٹ گئے اور ضمانت کرالی۔ ان دنوں وہ ضمانت پر ہیں اور حکومت کے ساتھ فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کررہے ہیں۔ موصوف کا معاملہ کچھ یوں ہے۔
باغباں بھی خوش رہے راضی رہے صیاد بھی
وہ حکومت کے خلاف کسی تحریک کے موڈ میں نہیں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ حکومت اپنے ہی بوجھ میں دب کر ختم ہوجائے گی۔ شاید حکومت کو بھی اس بات کا احساس ہوگیا ہے اس لیے وہ اپنا بوجھ کچھ کم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ دو مشیروں کے استعفے اس کا واضح ثبوت ہے۔ کہا جارہا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں مزید مشیروں اور معاونین خصوصی کے استعفے آنے والے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کی دوہری شہریت پہلے ہی موضوع بحث بنی ہوئی ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان کے تقرر کے خلاف کیس زیر سماعت ہے۔ ممکن ہے کہ عدالتی فیصلہ آئے تو یہ لوگ پہلے ہی فارغ ہوچکے ہوں۔ بات چلی تھی شہباز بلاول ملاقات سے اور کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔
ذکر جب چھڑ گیا قیامت کا
بات پہنچی تری جوانی تک
قیامت اپوزیشن ڈھانا چاہتی ہے اور جوانی کا تعلق عمران خان کی نٹ کھٹ حکومت سے ہے جو کسی ضابطے اور قاعدے کو خاطر میں نہیں لارہی۔ بلاول زرداری یہ خواہش لے کر شہباز شریف کے پاس گئے تھے کہ وہ اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے حکومت کے خلاف تحریک کی قیادت کریں اور حکومت کو رخصت کرکے جشن فتح منائیں۔ شہباز شریف ایک خرانٹ، گھاٹ گھاٹ کا پانی پیے ہوئے ہیں وہ جانتے ہیں کہ حکومت مخالف تحریک کی قیادت کا مطلب خود کو کانٹوں میں گھسیٹنا ہے جس کا بہرکیف وہ بوجھ نہیں اُٹھا سکتے۔ چناں چہ جب بلاول انہیں تحریک کی قیادت کرنے کی دعوت دے رہے تھے تو انہوں نے مسکرا کر نوجوان لیڈر کی طرف دیکھا اور کہا کہ قیادت اب نوجوانوں ہی کو سجتی ہے۔ اس پر ایک قہقہا پڑا اور بات ختم ہوگئی۔ تاہم یہ واضح ہوگیا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں ہی حکومت مخالف تحریک کی قیادت سے گریزاں ہیں کیوں کہ نیب سے دونوں کی کور دب رہی ہے اور نیب اس وقت حکومت کے فرنٹ مین کا کردار ادا کررہا ہے جس پر عدالت نے بھی کڑی تنقید کی ہے۔ اگر یہ دونوں جماعتیں حکومت مخالف تحریک نہیں چلاپاتیں تو واحد آپشن حضرت مولانا رہ جاتے ہیں جو حکومت کے خلاف دھرنا دے کر اپنی صلاحیت ثابت کرچکے ہیں اگر چودھری برادران درمیان میں نہ آتے تو وہ عمران حکومت کو رخصت کرکے ہی ٹلتے لیکن ایک طرف وہ چودھری کی ’’مصالحانہ پالیسی‘‘ کا شکار ہوگئے اور دوسری طرف مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی بھی ان کی ٹانگ کھینچتی رہیں۔ چناں چہ انہیں دھرنا ادھورا چھوڑ کر رخصت ہونا پڑا۔ وہ ایک زیرک سیاستدان ہیں اور چودھریوں کے وعدے کے بارے میں ان کا موقف وہی ہے جو غالبؔ کا تھا۔ یعنی
ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان چھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا
حضرت مولانا اپنی قوتِ بازو پر بھروسا رکھتے ہیں اگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پاراٹی ان کا ساتھ دیں تو وہ اب بھی حکومت مخالف تحریک کی قیادت کرکے اسے انجام تک پہنچا سکتے ہیں لیکن ان کی قیادت اِن دونوں پارٹیوں کو ’’وارا‘‘ نہیں کھاتی اور ان کی باریننگ پوزیشن کو کمزور کرتی ہے۔
پھر تیسرا راستہ کیا ہے؟ اس کا جواب ہے اے پی سی۔ چناں چہ دونوں اپوزیشن پارٹیوں نے اے پی سی، اے پی سی کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے اور شہباز بلاول ملاقات میں طے پایا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے بعد اے پی سی بلائی جائے گی جس میں حکومت کے خلاف لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ دونوں لیڈروں نے حضرت مولانا سے بھی مشورہ کرلیا ہے وہ بھی راضی ہیں کہ چلو تحریک نہ سہی، اے پی سی ہی سہی کہ اس میں ہینگ لگتی ہے نہ پھٹکری البتہ رنگ چوکھا آجاتا ہے۔ اللہ بخشے نواب نصر اللہ خان مرحوم بھی اے پی سی، اے پی سی کھیلنے کے بڑے شائق تھے۔ لیکن وہ اسے بے نتیجہ نہیں ہونے دیتے تھے۔ اب اس میدان کے کھلاڑی وہ ہیں جنہیں ایک اسٹروک بھی کھیلنا نہیں آتا۔ عمران خان خوش قسمت ہیں کہ انہیں ایک نالائق اپوزیشن سے واسطہ پڑا ہے۔ کسی زمانے میں حکومت کے خلاف یہ نعرہ بہت مقبول ہوا کرتا تھا ’’گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو‘‘ اب اپوزیشن میں یہ دھکا دینے کی سکت نہیں رہی۔ تو آئیے اے پی سی، اے پی سی ہی کھیلتے ہیں۔