ڈونرز کی جانب سے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کی ستائش

70

اسلام آباد (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی تصنیف کردہ احساس ایمرجنسی کیش رپورٹ کے حوالے سے ڈونرز، عالمی ڈیولپمنٹ پارٹنرز اور اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کے ساتھ احساس کی طرف سے ایک ویب سیمینار کا انعقاد، ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام پر عملدرآمد کے دوران پیش آنے والے تجر بات اور کلیدی نتائج شیئر کیے۔ ڈونرز کی طرف سے احساس ایمرجنسی پروگرام کو شفاف اور مؤثر انداز میں لاکھوں خاندانوں کو مالی امداد بہم پہنچانے پر سراہا گیا، پروگرام کے ڈیزائن کی تعریف کی گئیہے۔ عالمی اداروں کی جانب سے اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا کہ احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تجربات دوسرے ممالک کیلیے بھی اہم اثاثہ ثابت ہوں گے۔ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ایشین ڈیولپمنٹ بینک، اقوام متحدہ اور ڈی ایف آئی ڈی کے سربراہان اور کنٹری ڈائریکٹرز نے اس ویب سیمینار میں شرکت کی۔ احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے حوالے سے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بتایا کہ پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے جس کی 24 ملین آبادی ایسے افراد پر مشتمل ہے جو دیہاڑی دار ہیں یا غیر رسمی لیبر سیکٹر میں کام کرتے ہیں۔ ان کیلیے کورونا لاک ڈاؤن کے باعث زندگی کا پہیہ چلانا بہت مشکل ہوگیا تھا، وسیع درجے پر بیروزگاری کے باعث ملک میں بے چینی اور احتجاج کا خدشہ تھا، اس چیلنج سے نمٹنے کیلیے حکومت نے احساس پروگرام ترتیب دیا جوکہ ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا سماجی تحفظ کا پروگرام ہے۔ یہ پروگرام لاک ڈاؤن کے نفاذ کے 10 روز کے اندر شروع کیا گیا۔ 16.9 ملین خاندانوں کی مالی امداد کیلیے 1.23 بلین ڈالر کی رقم مختص کی گئی۔ اگر پاکستان میں آبادی کے عمومی سائز کو دیکھا جائے تو مجموعی طور پر 109 ملین افراد اس پروگرام سے مستفید ہوں گے۔