ہماری ڈوریں عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں ہیں‘ رضاربانی

79

اسلام آباد(آن لائن ) سابق چیئرمین سینیٹ اور پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما رضا ربانی نے بدھ کو سینیٹ میںفنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق بل کی منظوری پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ محسوس ہوتا ہے ہماری ڈور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے انہوں نے کہا کہ پارلیمان کی عزت و عظمت آج بھی موجود ہے، اپنی جماعت پر نظر ڈالی تو نظر آیا کہ ایک وقت میں پیپلز پارٹی کی نمائندہ ذوالفقار علی بھٹو کرتا تھا۔انہوں نے کہا کہ آج مجھ جیسا شخص جس کے ہاتھ اور گلے میں ڈوری ہے، وہ پارلیمان میں بیٹھا ہے، فرق اداروں میں نہیں بلکہ ہم میں ہے، پارلیمان ایک عظیم ادارہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ آئین کے تحت پارلیمنٹ بالادست ہے، ہماری پارلیمنٹ نے تاریخی فیصلے کیے، ان فیصلوں سے قوم اور وفاق کو مضبوط کیا گیا ہے ‘پارلیمنٹ کے تقدس پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضیا اور مشرف کی آمریت کے خلاف سینیٹ کھڑی رہی، آج سوچ رہا ہوں کہ اب پارلیمان کو کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محسوس ہوا کہ پارلیمان کو کھینچا گیا، محسوس ہوا کہ ہاتھ، پاؤں اور گردن پر ڈوریاں ہیں۔ سابق چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات ہے کہ میں کٹھ پتلی کی طرح ہاتھ پیر ہلاتا ہوں، جبکہ ڈور کہیں اور سے کھینچی جاتی ہے۔ حکومتی آرڈیننس پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جس شخص کے لے یہ آرڈینس آیا وہ بھارتی جاسوس اور دہشت گرد ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران اشرافیہ نے میری ڈور کھینچی اورعدالت کے متوازی نظام کھڑا کر دیا، میں نے ملٹری کورٹ کی صورت میں بل پاس کر دیا۔پارلیمنٹ سے پاس ہونے والے بلوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے کہا گیا کہ مدت میں توسیع کا بل پاس کرو، چلو تب تو ایک پاکستانی میری ڈوری ہلارہا تھا لیکن اب محسوس ہوتا ہے کہ میری ڈور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس آرڈیننس کے ذریعے ملٹری کورٹس پر نظر ثانی کا راستہ ہائی کورٹ کے ذریعے دیا جا رہا ہے، اگر پشاور ہائی کورٹ ملٹری کورٹ کے فیصلے کو ختم کرتا ہے تو اس پر اسٹے آرڈر آجاتا ہے۔ رضاربانی کا کہنا تھا کہ دوہرے معیار کی باتیں سنی تھیں، دو دہشت گردوں کے لیے مخلتف معیار کیوں ہیں، ایک کو سہولت دی جا رہی ہے جبکہ دوسرے کو عدالت نے سہولت دی تو روکا جارہا ہے۔