حکومتیں لازماً مالی بیلنس شیٹ بنائیں، سجید اسلم

234

سرکاری مالیات کی حقیقی صورت حال کے بارے میں زیادہ وضاحت مل سکے گی

صحیح دیکھ بھال کے لیے پبلک سیکٹر بیلنس شیٹ کا طریقہ استعمال کیا جائے

وبا کے دوران سرکاری اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہو اہے اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف)کے ایک تخمینے کے مطابق یہ رقم 9 کھرب امریکی ڈالرز تک پہنچ چکی ہے۔دی ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاو¿نٹنٹس
(اے سی سی اے)، عالمی بینک اور بین الاقوامی فیڈریشن آف اکاو¿نٹنٹس(آئی ایف اے سی) کے لیے تشویش کی بات یہ ہے کہ سرکاری شعبے کی مالی
ذمہ داریاں اور دست اندازیاں حکومتوں کے محاسبہ کرنے کے طریقہ کار کی وجہ سے درست طور پر گرفت میں نہیں آ رہی ہیں۔

حال ہی میں ”کووِڈ19-کے دوران مستحکم سرکاری مالیات کے نام سے شائع ہونے والی رپورٹ میں تینوں اداروں نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ وبا کے دوران اپنے مالی معاملات کی صحیح دیکھ بھال کے لیے پبلک سیکٹر بیلنس شیٹ کا طریقہ استعمال کریں اور سرکاری شعبے کی خالص مالیت ( worth net) پر توجہ دیں۔

اس بارے میں رپورٹ کے مصنف اور اے سی سی اے میں ہیڈ آف پبلک سیکٹر پالیسی، ایلیکس میٹ کاف(Alex Metcalfe) نے کہا:’ عالمی وبا سے پیدا ہونے والا یہ بحران حکومتوں کے لیے یہ انداز فکر کو اپنانے کی غرض سے ایک تحریک ہے جس کے ذریعہ نہ صرف فیصلہ سازی کو بہتربنایا جا سکتا ہے بلکہ نئے مالی اہداف کے لیے ایک بینچ مار ک کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور زیادہ خوشحال اور شمولیتی معیشتوں کی تعمیر کے لیے حکومتوں کو مدد فراہم کر سکتا ہے۔‘

بیلنس شیٹ کا انداز فکر اپنانے سے حکومتوں کو جن انداز میں فائدہ پہنچ سکتا ہے ا±ن میں سرکاری مالیات کی حقیقی صورت حال کے بارے میں زیادہ وضاحت کے ساتھ مزید سرکاری کارروائی کے لیے زیادہ مالی گنجائش کے بارے میں سمجھداری؛رقم کے لیے زیادہ بہتر قدر اور مالی طور پر مستحکم فیصلہ سازی؛ اورعوامی لچک میں اضافہ کے لیے اہم مالی میٹرکس کا بہتر انتخاب تاکہ کارکردگی کا انتظام آگے بڑھایا جا سکے، شامل ہیں۔

رپورٹ اس بات کی بھی تصدیق کرتی ہے کہ حکومتوں کو غیر ضروری نجکاری سے بھی بچنا چاہیے جو نقدی کی فوری ضرورت تو پورا کر دیتی ہیں لیکن سرکاری شعبے کی خالص مالیت کم ہو جاتی ہے۔ حکومتوں ٹیکسوں میں اضافے یا سادگی پر بھی بھروسے کو کم کرنے کے لیے مستحکم سرکاری مالیات کو فروغ دینا چاہیے۔

اس بارے میں عالمی بینک گروپ کے ڈائریکٹرگورننس گلوبل پریکٹس،ایڈ اولوو-اوکیرے(Ed Olwo-Okere)کہتے ہیں:”وبا کا تقاضا ہے کہ حکومتیں جہاں ، ایک جانب، معیاری مالی نظم و ضبط اور کنٹرول کے درمیان توازن قائم کریں وہیں، دوسری جانب، عوامی مالی دیکھ بھال میں تیزی اور لچک پیدا کریں۔ از سر نو بہتر تعمیر کے لیے، خزانے کی وزارتوں کو مختلف ٹولز کی ضرورت ہے تاکہ شہریوں کی بہتری اور بقا کے لیے سرکاری رقم کا بہت نظم و نسق کر سکیں۔“

بین الاقوامی فیڈریشن آف اکاو¿نٹنٹس(آئی ایف اے سی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ایلٹا پرنسل±و( Prinsloo Alta) نے کہا:”یہ ایک بہتر عالمی طریقہ ہے۔کوئی بھی حکومت تن تنہاایسا نہیں کر سکتی – وبا کی عالمی نوعیت نے یہ واضح کر دیا ہے۔ بہترین عالمی طریقوں کی جانب اِس مہم کا حصہ یہ بات یقینی بنانا ہے کہ ، ایک پیشے کے طور پر، ہم اپنے دوستوں اور پالیسی سازوں کے ساتھ سرکاری شعبے کے لیے مستقبل میں مالی رپورٹنگ کے بارے میں بات چیت کرتے ہیں۔ پیشہ ور اکاو¿نٹنٹس کے لیے ضروری ہے کہ وہ مالیات میں مہارت نہ رکھنے والے فیصلہ سازوں کے سامنے ، مالی صورت حال پیش کرتے وقت ایک واضح قابل اعتماد نکتہ نظر پیش کریں۔“

دی ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاو¿نٹنٹس(اے سی سی اے) پاکستان کے ہیڈ، سجید اسلم کی رائے میں:”موجود بحران کی سنجیدگی کامطلب ہے کہ سرکاری شعبے میں غیر معیاری اکاو¿نٹنگ ڈیٹا کی اب کوئی گنجائش نہیں ہے۔وقت آ گیا ہے کہ ہم موجودہ اقتصادی فریم ورک کو دوبارہ ترتیب دیں اور ایسے مالی اصولوں پر غور کریں جو بحالی کے مرحلے میں سرکاری فیصلہ سازوں کی راہنمائی کر سکیں۔سرکاری اثاثوں اور خدمات کی نجکاری پر نہایت محتاط غور و فکرکی ضرورت ہے تاکہ وہ رقم کے لیے قدر کی فراہم کر سکیں اور حکومت کے مالی استحکام میں اضافہ کر سکیں۔ اور ہمیں مہارتوں کے حصول اور تربیت پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ اقتصادی ترقی کا باعث بننے والے عناصر میں اہم کردار ادا کر سکیں۔“

رپورٹ میں حکومتوں کے لیے درج ذیل سفارشات کی گئی ہیں ان میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیشنل پبلک سیکٹر اکاو¿نٹنگ اسٹینڈرڈز(آئی پی ایس اے ایس) کو پوری طرح اختیار کریں یا ا±س کا حوالہ دیں جو سرکاری شعبے میں عمومی مقاصد کے لیے مالی رپورٹس کی تیاری کے لیے اکاو¿نٹنگ کے عالمی سطح پر قبول کردہ معیارات ہیں۔اسی کے ساتھ مالی پالیسی بنانے والے آزاداداروں کو ہدایات دینے کی بھی ضرورت ہے کہ وہ مستحکم مالی رپورٹنگ شروع کریں یا اس کی فریکوئنسی میں اضافہ کریں۔ وفاقی سرکاری محکموں کے لیے یہ بات ضروری قرار دی جائے کہ وہ مناسب انداز میں ان رپورٹوں کا عوامی سطح پر جواب دیں۔ علاوہ ازیں،آڈٹ کے اعلیٰ اداروں کو آزادی اور ضروری وسائل مہیا کیے جائیں تاکہ وہ پرفارمنس آڈٹ انجام دے سکیں اور ایسے معاملات کی نشاندہی ہو سکے جہاںCOVID-19 کے بحران سے نمٹنے کے لیے سرکاری رقم مو¿ثر، عمدہ یا باکفایت انداز میں استعمال نہیں کی گئی۔

مالیات سے تعلق رکھنے والوں کے لیے عالمی بینک، آئی ایف اے سی اور اے سی سی اے سفارش کرتے ہیں کہ COVID-19 سے نمٹنے کے لیے وسائل کی نئی سمت معاشرتی بہتری اور استحکام کے میٹرکس پر اثر انداز ہوتی ہے۔وقتاً فوقتاً مالی دباو¿کا ٹیسٹ کریں جس میں سرکاری بیلنس شیٹ پر منفی منظر نامے کے اثرات کی پیشگوئی کی گئی ہو۔ اِس میں کورونا وائرس کی دوسری لہر یا توسیع شدہ اقتصادی زوال کے اثرات بھی شامل ہوں۔مالی گوشواروںمیں مختصر لیکن قابل رسائی مواد ،مناسب بیانیہ اور نوٹس بھی تیار کریں۔ مالی گوشواروں کے ساتھ منسلک بیانیہ استعمال کرنے والوں میں اعداد کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس بیانیے کو جانبدارنہ نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی اس میں اہم مسائل کو نظر انداز کیا جا نا چاہیے۔

”کووِڈ19-کے دوران مستحکم سرکاری مالیات (Sustainable Public Finances through COVID-19)“ میں ایسی کیس اسٹڈیز بھی شامل ہیں جن میں-19 COVID کے نتیجے میں برازیل، کینیڈا، انڈونیشیا، اٹلی، جاپان ، نیو زی لینڈ ،جنوبی افریقہ، برطانیہ اور امریکا سمیت 10 ممالک سرکاری بیلنس شیٹ کے حوالے سے متعارف کرائی گئی مالی پالیسیوں کے اثرات کاتجریہ کیا گیا ہے۔رپورٹ میں شامل تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ نیو زی لینڈ مالی اعتبار سے ایک انتہائی مستحکم ملک ہے جس کی خالص مالیت ، سنہ 2019ءمیں ،جی ڈی پی کا 53فیصد تھی۔اِس کے مقابلے میں برطانوی حکومت کی خالص مالیت ، سنہ 2019ءمیں، جی ڈی پی کا منفی 49 فی صد تھی۔

یہ رپورٹ فروری، 2020ءمیں اے سی سی اے اور آئی ایف اے سی کی مشترکہ رپورٹ ”کیا نقدی ابھی بھی بادشاہ ہے؟(Is Cash Still King?) “ کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے جو ایسی عمل داریوں سے حاصل کے گئے سبق پیش کرتی ہے جہاں ایکروئیلز(accruals) پر عمل درآمد کیا گیا ہے اور جس کا مقصد ایکروئیلز کی تخلیق کے لیے عالمی تبدیلی نے حقیقی قدر پیدا کی ہے اور یہ ’تعمیل کی مشق‘سے زیادہ ہے۔