کشیدہ ماحول میں ایران نے بلیسٹک میزائل داغ دیا

238
ایران: زیرزمین بنکر سے داغا جانے والا بیلسٹک میزائل آبنائے ہرمز میں موجود ہدف کی جانب روانہ ہورہا ہے

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران نے آبنائے ہرمز میں کئی روز جاری فوجی مشقوں کے آخری روز بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق پاسداران انقلاب کی مشقوں کے دوران بدھ کے روز خشکی پر زیر زمین بنکر سے داغے گئے میزائل نے سمندر میں اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ پاسداران کے کمانڈر جنرل عامر علی حاجی زادہ نے اپنے بیان میں بیلسٹک میزائل کا تجربہ کامیاب ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایران کی جانب سے اپنی نوعیت پہلا تجربہ ہے،جس میں زیر زمین چھپائے گئے میزائل نے سمندر میں اپنے ہدف کو نشانہ بنایا۔ دوسری جانب امریکا نے پھر زور دیا ہے کہ اگر ایران پر عائد ہتھیاروں کی پابندی کو مستقبل میں اٹھایا گیا، تو تہران کی جانب سے تباہ کن اور غیر ذمے دارانہ کارروائیوں میں اضافہ ہو جائے گا۔ یہ موقف اقوام متحدہ میں امریکی خاتون مندوب کیلی کرافٹ نے پیش کیا۔ منگل کی شب ایک ٹوئٹ کے ساتھ انہوں نے سلامتی کونسل میں اپنے خطاب کی تصویر بھی شیئر کی۔ کیلی کرافٹ نے کہا کہ امریکا اور اس کے حلیفوں نے ایک ماہ قبل یمن کے پانیوں میں ایک جہاز کا انکشاف کیا تھا۔ ایرانی ہتھیاروں سے لدا ہوا یہ جہاز حوثیوں کی جانب گامزن تھا۔ امریکی خاتون مندوب نے باور کرایا کہ ایران کی جانب سے حوثیوں کو مسلح کرنے کی کوششوں کے نتیجے میں یمن کا تنازع طویل ہو گا۔ کیلی کرافٹ نے مزید کہا کہ ایران اس وقت تنازعات بھڑکا رہا ہے، جب کہ اسے پابندیوں کا بھی سامنا ہے، لہٰذا یہ سمجھنا بے وقوفی ہے کہ پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد ان تباہ کن کارروائیوں میں اضافہ نہیں ہو گا۔ واضح رہے کہ ایرانی جہاز پر 200 آر پی جی گرینیڈ، 1700 سے زیادہ کلاشنکوفیں، زمین سے فضا میں مار کرنے والے 21 میزائل، کئی ٹینک شکن راکٹ اور دیگر اسلحہ لدا ہوا تھا۔ سلامتی کونسل کی قرار داد 2231 کے تحت ایران پر 13 برس سے ہتھیاروں کی پابندی عائد ہے، جو رواں سال 17 اکتوبر کو ختم ہو رہی ہے۔ تاہم امریکا اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ ایران کی جانب سے موجودہ خلاف ورزیوں کی روشنی میں اس پابندی میں دائمی توسیع کر دی جائے۔