فرانس میں تارکین وطن کی ایک اور بستی اجاڑ دی گئی

225
پیرس: پولیس نہر کے کنارے قائم خیمہ بستی سے تارکین وطن کو منتقل کررہی ہے

پیرس (انٹرنیشنل ڈیسک) فرانسیسی پولیس نے کورونا وائرس کے خلاف انتظامات کی آڑ میں دارالحکومت کے مہاجر کیمپ کو خالی کرالیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق پیرس شمال مشرق میں واقع سینٹ ڈینس نہر کے قریب کیمپ سے 1500 مہاجرین کو بے دخل کرکے انہیں دارالحکومت کے مضافات میں بنائے گئے عارضی کیمپوں میںمنتقل کیا گیا۔ اُدھر انسانی حقوق کی خاتون کارکن سلوینا گیتا نے مہاجرین کے خلاف حکومتی اقدامات کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو بظاہر دکھایا جارہا ہے کہ تارکین وطن کو شہر سے باہر پر فضا مقام پر منتقل کرکے ان کے حق میں اچھا فیصلہ کیا گیا ہے اور وہاں ان کی اچھی دیکھ بھال ہوسکے گی، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ عارضی کیمپوں میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق مہاجرین کی جانب سے بھی پیرس حکومت کی بے دخلی مہم پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ دوسری جانب اٹلی کے ساحلی محافظوں نے بحیرئہ روم میں 100تارکین وطن کو ڈوبنے سے بچالیا۔ اطالوی حکام کا کہنا تھا کہ تما م مہاجرین کو لیبیا کی سمندری حدود کے قریب سے ریسکیو کیا گیا۔ اس سے قبل ان کی کشتی پر ائر کرافٹ کے ذریعے حملہ کیا گیا تھا، جس کے باعث کشتی میں جا بجا سوراخ ہوگئے تھے اور وہ ڈوبنے کے قریب تھی۔ امدادی کارروائی کے دوران لیبیا کے ساحلی محافظوں نے کسی طرح کا تعاون نہیں کیا، جب کہ تمام مہاجرین لیبیا کی حدود میں تھے۔