کشمیری شک میں ہیں کہیں پاکستان نے کشمیر کا سودا تو نہیں کرلیا‘لیاقت بلوچ

215
کشمیری شک میں ہیں کہیںپاکستان نے کشمیر کا سودا تو نہیں کرلیا‘لیاقت بلوچ

لاہور (نمائندہ جسارت) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ کشمیریوں کے شک و شبے کو تیزی سے تقویت مل رہی ہے کہ پاکستان نے کشمیر پر سودے بازی کر لی ہے۔ سقوط ڈھاکا کے بعد پاکستان سقوط سری نگر کے لیے تیار ہو چکا ہے۔ کشمیر کو شہ رگ قرار دینے والی حکومت کا تقریر ، ٹوئٹ ، فون اور بے جان احتجاج کے علاوہ کوئی اقدام نظر نہیں آ رہا۔ بھارت کو تجارتی رعایت دینے کے لیے افغان راہداری کھولنا بے حسی اور مجرمانہ اقدام کی انتہا ہے۔ ایران نے اپنے تمام ترقیاتی منصوبوں سے بھارت کو بے دخل کردیا ہے ۔پاکستان بھی جرأت پیدا کرتے ہوئے ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے کو سرد خانے سے نکال کر بحال کرے ۔ کشمیر پر متفقہ قومی لائحہ عمل وضع کیا جائے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے بارے میں ایجنڈا دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا۔ تاحال جماعت اسلامی سے رابطہ نہیں کیا گیا ۔ 4 اگست کو ’’کشمیر قومی مشاورت ‘‘ ہو گی ۔ 5 اگست کو ایک سالہ بھارتی لاک ڈاؤن کے خلاف ملک گیر یوم سیاہ ہو گا ۔ اسلام آباد میں بہت بڑے احتجاجی مظاہرے کو منظم کیا جا رہا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی میاں محمد اسلم ، ضلعی امیر نصر اللہ رندھاوا اور دیگر رہنما بھی موجود تھے ۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی لاک ڈاؤن کو 365 دن مکمل ہونے والے ہیں ۔ رمضان المبارک اور عیدین مظلوم کشمیریوں نے لاک ڈائون میں گزارے ، کشمیری انسانی مذہبی حقوق سے محروم ہیں ۔ 5 اگست کو بھارت کے فاشسٹ مودی نے آئین میں رد و بدل کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور ایسے فیصلوں جس میں خود بھارت شریک رہا انحراف کیاکیونکہ ان فیصلوں کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت نے اپنے اپنے آئین میں کشمیر کو متنازع علاقہ تسلیم کیا اور اب بھارت نے 370اے اور دیگر شقیں حذف کر دیں ۔ کشمیر کو ہڑپ کرنے کے لیے بھارت قدم بہ قدم ظالمانہ اقدامات میں پیشرفت کر رہا ہے ۔ دوسری طرف قابض بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر نسل کشی اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کی انتہا کر رہی ہے ۔ میڈیا انٹرنیٹ پر بندش ہے عالمی اداروں اور بنیادی انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر کے وزٹ کی اجازت نہیں ہے ۔ جعلی ڈومیسائل کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریتی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لیے بھارت ہر ظالمانہ اقدام کر رہا ہے ۔ہر روز مقبوضہ کشمیر میں سنگین واقعات ہورہے ہیں کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا جا رہا ہے ۔ لیاقت بلوچ نے او آئی سی کی طرف سے بھارتی مظالم کی مذمت کا خیر مقدم کیا ہے ۔ ڈیموکریٹک امریکی صدارتی امیدوار کے منشور میں بھارتی فاشزم کی مذمت اور ناپسندیدگی کے اظہار کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ ترکی ایران ملائیشیا پوری جرأت مندی سے کشمیریوں کی حمایت کر رہے ہیں ۔ پہلی بار انسانی حقوق کی تنظیموں نے باقاعدہ ریاست جموں و کشمیر کے وزٹ کا بھارت سے مطالبہ کیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ حق خود ارادیت کے لیے کشمیریوں نے لازوال جدوجہد کی ہے ۔ اپنی جانوں کی قربانی کے ذریعے جدوجہد کی نئی تاریخ رقم کی اور کسی جبر کے سامنے پسپائی اختیار نہیں کی ۔ بد قسمتی سے پاکستان سے کشمیریوں کو مسلسل منفی پیغام دیا جا رہا ہے ۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ ایک طرف بھارت نے مظالم کی انتہا کر دی ہے دوسری طرف پاکستان کے عوام اپنے تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کشمیریوں کے پشتی بان بن چکے ہیں مگر حیران کن طور پر 17 جون 2020ء کو پاکستان نے سلامتی کونسل میں بھارتی نمائندگی کے لیے ووٹ دیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حق میں ہر روز آواز بلند کرنے ، پاکستانی پرچم لہرانے اور جانوں کی قربانی کے باوجود پاکستان کی طرف سے بھارت کو فضائی راستے کی سہولت دی جا رہی ہے ۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان بحرانوں سے دوچار ہے ۔کورونا ، اقتصادی تنزلی ، پارلیمانی سیاسی ، آئینی بحران مسلسل بڑھ رہا ہے وفاق اور صوبوں میں تلخیاں بڑھ رہی ہیں جس سے وفاق کو حقیقی خطرات لاحق ہو گئے ہیں ۔ اپوزیشن قیادت کی طرف سے بھی غیر ذمے داری اور غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان کشمیریوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے بجائے کشمیر پر قومی ترجیحات کا تعین کرے ۔ سلامتی کے تحفظ اور بحرانوں سے نجات کے لیے متفقہ قومی ایکشن پلان بننا چاہیے ۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومتی ناکامی اور نکمے پن کی وجہ سے اپوزیشن قریب آ رہی ہے ۔ اے پی سی کے حوالے سے رابطے ہو رہے ہیں ۔ جماعت اسلامی سے جب رابطہ ہو گا ہم اے پی سی کا ایجنڈا دیکھ کر اس کے بارے میں فیصلہ کریں گے ۔ ویسے بھی جماعت اسلامی کرپشن دیگر قومی مسائل مہنگائی بے روزگاری بد امنی کے خلاف مسلسل میدان عمل میں برسرپیکار ہے ۔ کشمیر کے حوالے سے سفارتی محاذ پر متفقہ قومی حکمت عملی نہیں ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کشمیر کے سفیر کا دعویدار وزیر اعظم اس معاملے میں ناکام ہے ۔ پہلے بھی سفیر ناکام رہے یہ سفیر بھی ناکام ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سید علی گیلانی کے لیے سینیٹ آف پاکستان نے متفقہ طور پر نشان پاکستان دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ خود پاکستان کے اعزاز کی بات ہے ۔ سید علی گیلانی کے لیے اصل اعزاز یہی ہے کہ متحد ہو کر کامل یکسوئی سے متفقہ کشمیر پالیسی بنائی جائے کشمیری قیادت کا باہمی اختلاف اصل میں پاکستان کی طرف سے مؤثر مدد نہ کرنے پر مایوسی کا عکاس ہے ۔ مسئلہ کشمیر کا واحد حل جہاد فی سبیل اللہ ہے ۔

اسلام آباد، جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ پریس کانفرنس کررہے ہیں،میاں اسلم و دیگر بھی موجود ہیں