آئین پس پشت ڈالنے والی حکومت زیادہ دیر نہیں چل سکتی‘ سراج الحق

201

لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ہوتے ہوئے اتنی بڑی تعداد میں آرڈی نینسز لانا حکومت کا اس آئین پر عدم اعتماد کا اظہار ہے ۔ آئین کو پس پشت ڈالنے والی حکومت زیادہ دیر نہیں چل سکتی ۔پاکستان کو آگے لے جانے کے لیے آئین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے ۔ پارلیمنٹ نے جو آئین بنایا ہے وہ واحد دستاویز ہے جس پر عمل کر کے ہم آگے بڑھ سکتے ہیں ۔ پاکستان کی بقا اور اس کی تعمیر و تر قی کے لیے یہ واحد دستاویز ہے جس پر پوری قوم اور تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق تھا اور ہے ۔ اس وقت اگر ملک کا نظام چل رہاہے تو اس میں اس آئین کی موجودگی کا اہم کردار ہے ۔ کلبھوشن کو سزا دینے کے دعوے کرنے والے آج اس کو اپیل کا حق اور سہولت دینے کی باتیں کر رہے ہیں ۔ اس حکومت نے ابھی نندن کو24 گھنٹے کے اندر واپس کیا اور اسی راستے پر چلتے ہوئے کلبھوشن کو رہا کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت خود بھی عالمی اداروں کی غلامی پر راضی ہے اور قوم کو بھی اس غلامی کی ہتھکڑیاں پہناناچاہتی ہے۔ حکومت غلط کو غلط کہنے کی ہمت نہیں رکھتی ۔اگر انہیں کلبھوشن کے بارے میں عالمی عدالت کے فیصلے پر عمل کرنے کا اتنا ہی خیال ہے تو پھر عالمی عدالت سے بھی سوال کرنا چاہیے کہ اسے کشمیر ، فلسطین اور برما میں مسلمانوں کا قتل عام کیوں نظر نہیں آرہا اور وہ ان مظلوم مسلمانوں کے حق میں کیوں آواز نہیں اٹھا رہی۔ہم اس صدارتی آرڈی نینس کو مسترد کرتے ہیں ۔آج اگر ہم نے عالمی عدالت کے اس فیصلے کو قبول کر لیا تو کل کو وہ ہمارے لیے وہی فیصلے کریں گے جو ایسٹ انڈیا کمپنی کرتی تھی۔ آج ہمارے پاس 2 راستے ہیں ایک غیر ت ، عزت اور آزادی کا راستہ یا بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی غلامی کا راستہ۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان ایک آزاد و خود مختار ملک ہے ، کلبھوشن کے ساتھ وہی ہوگا جو ہماری عدالت کا فیصلہ ہے ۔ ہم کسی دہشت گرد کو بیرونی عدالتوں کے دبائو پر آزاد نہیں کر سکتے ۔ ہم اپنی آزادی کا تحفظ کرنا جانتے ہیں۔ سینیٹر سراج الحق نے ایوان میں پیش کیے گئے 6 آرڈی نینسز کی مخالفت کے بعد آرڈی نینسز کی نامنظوری قرار داد زیرقاعدہ 145-(2) سیکرٹری کو پیش کردی ہے ۔