کراچی بارش سے ڈوب گیا، کسی کو احساس نہیں: سندھ ہائی کورٹ

352

کراچی میں مون سون بارشوں سے گندگی اور نکاسی آب کے خراب نظام پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کردیا۔

سندھ ہائی کورٹ میں کراچی میں گندگی اور پانی کے نکاس سے متعلق سماعت ہوئی۔ سماعت جسٹس خادم حسین شیخ نے کی۔ سماعت پر سرکاری وکیل بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس خادم حسین شیخ نے کراچی میں کچرا نہ اٹھانے اور نکاس آب کے نظام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچرے کی وجہ سے برسات میں شہر ڈوب گیا، کراچی کا ڈوبنا بڑا المیہ ہے کسی کو احساس ہی نہیں۔

جسٹس خادم حسین شیخ نے کہا کہ غیر قانونی تعمیرات اور کچرا نہ اٹھانے کی وجہ سے کراچی ڈوبا، ہر ادارہ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالتا ہے۔

فاضل جج نے کہا کہ کسی نے دیکھا کراچی میں گاڑیاں بارش کے پانی میں ڈوبی ہوئی تھیں؟ لوگ گھروں سے اپنے بچوں کو نہیں نکال پا رہے تھے، برسات میں لوگوں کے گھر اور سامان سب تباہ ہوگیا۔

جسٹس خادم حسین شیخ نے سرکاری وکیل سے سوالات کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہم میں سے کوئی گندے پانی میں جاسکے گا؟ اب آلائشوں کو ٹھکانے لگانے کا کیا بندوبست کیا ہے؟

جس پر سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے متعلقہ اداروں کو فنڈز فراہم کرنے ہیں، پھر آلائشوں کو ٹھکانے لگانے کا بندوبست کیا جائے گا۔

سندھ ہائی کورٹ نے کے ایم سی، میئر کراچی کے دفتر سے ذمہ دار افسران کو طلب کرلیا۔