تیشا باؤو (29 جولائی)، یہودیوں کا یومِ عبرت

501

29 جولائی کو غروبِ آفتاب کے بعد یہودی ‘تیشا باؤو’ کے نام سے یومِ سوگ مناتے ہیں۔ اس دن یہودی تاریخِ ماضی میں اپنے قوم پر آئی تباہیوں اور آفات کو یاد کرتے ہیں۔

یہودی اس دن قبل مسیح میں بابل کے ہاتھوں بیت المقدس کی تباہی، اپنے قتلِ عام، جلاوطنی اور 70ویں صدی میں رومن کے ہاتھوں ایک بار پھر ہوئے اپنے عبرت ناک انجام کو روتے ہیں۔

اس کے علاوہ اہل یہود پہلی جنگِ عظیم میں ہوئے ہولوکاسٹ اور اس سے قبل فرانس، ہسپانیہ اور انگلینڈ سے اپنی جلاوطنی کو بھی یاد کرتے ہیں۔

بابل یعنی قدیم اہل عراق کے ہاتھوں ہوئی تباہی یہودیت مذہب کے دل میں آج بھی ایک پھانس کی طرح پیوست ہے۔ یہی وہ حادثہ تھا جس کی شدت اور اس سے پیدا ہونے والے احساس محرومی نے یہودیوں کو حضرت عزیر علیہ سلام کی رہنمائی میں دوبارہ خدا سے اپنا تعلق مظبوط کرنے اور اپنی ساکھ کو نئے سرے سے قوی کرنے کیلئے ایک نیا جذبہ دیا تھا۔

تیشا باؤو کے دن یہودی خصوصی طور پر بائبل کی کتاب Psalm آیت 137 کا مطالعہ کرتے ہیں جو کہ دراصل 9 مصرعوں پر محیط ایک نظم ہے جو 25،000 سال پہلے لکھی گئی تھی۔ اس نظم میں یہودیوں کی جلاوطنی کا درد بھرا ننقشہ کھینچا گیا ہے۔