نقطہ نظر

134

’’موجودہ حالات میں حج اور امت مسلمہ‘‘
اسلام پُرامن مذہب ہے ہر کسی کے لیے سلامتی چاہتا ہے مگر موجودہ حالات میں مسلمانوں کا ہر عمل دشمن کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے، مغرب اپنے تمام چینل سمیت اس بات پر زور آزمائی شروع کر دیتا ہے کہ مسلمان انتہا پسند ہے اور اس کا یہ عمل غیر مسلموں کے خلاف ہے اور ان حالات میں ہمارے نام نہاد لبرل مسلمان بھی ساتھ دیتے ہیں اسلام کے امن پسند اور سلامتی کے اس پہلو کو کیش کرواتے ہیں۔
کورونا وبا کے باعث دنیا بھر کی مساجد خصوصاً حرمین شریفین بھی نمازیوں کے لیے بند کر دی گئیں۔ اور جب اجازت ملی بھی تو نمازوں کے دوران صفوں کے درمیان فاصلہ دیکھنے میں آیا۔ ایسے حالات میں دل خون کے آنسو روتا تھا کہ ربّ تعالیٰ اب اس وبا سے چھٹکارا دلادیں۔ بے شک ان حالات میں دنیا میں تیزی سے تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ اس بار دنیا بھر سے مسلمان حج کے لیے نہ جا سکے مگر اس سال پہلی بار سعودی عرب میں تمام شہریوں اور تمام خارجیوں کو حج کی مشروط اجازت دی گئی جو بہت خوشی کی بات ہے۔
پاکستان میں پی ٹی آئی کی حکومت کھل کر عوام کے سامنے آگئی۔ کے الیکٹرک کا معاملہ ہو یا پی آئی اے کا، پاک اسٹیل مل کا معاملہ ہو یا کورونا کے حوالے سے احساس فنڈ کا۔ آٹا، پٹرول اور شوگر کی قیمتوں کے معاملات ہوں۔ پی ٹی آئی حکومت کا چاند بھی بالکل اسی طرح ماند پڑ چکا ہے جیسے فواد چودھری کا چاند اس بار عیدالاضحیٰ سے قبل ہی ماند پڑ گیا۔ اسرائیل نے تمام حربے استعمال کرکے فلسطین کو گوگل میپ سے خارج کر دیا اور ساتھ ہی فلسطینیوں کے ساتھ ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے مگر فلسطینیوں کی پکار پر لبیک کہنے والی امت مسلمہ سو رہی ہے۔ دنیا بھر میں واحد مسلم طاقت ترکی کورونا وبا کے بعد بھی ایسے ہی تنومند نظر آرہا ہے، میوزیم کو مسجد بنانے کے واقعے کو تمام مسلم ممالک میں سراہا جا رہا ہے۔ اللہ کی وحدانیت و رب کی پکار اور اللہ اکبر کے نعروں کی گونج اس بار 9 ذوالحجہ سے قبل ہی ترکی کی آیا صوفیہ مسجد میں گونج اٹھی۔ تمام مغربی ممالک کو تلوار ہاتھ میں لے کر دیے گئے خطبے نے یہ پیغام پہنچا دیا کہ سلطنت عثمانیہ مسلم امہ کی قیادت کے لیے ازسر نو زندہ ہونے جا رہی ہے اب وقت آگیا ہے کہ الگ الگ قومیتوں کے جال سے نکل کر ایک ہو جائیں۔
بقول اقبال
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
صائمہ عبد الواحد، کراچی۔