کراچی میں دوسرے روز بھی شدید بارش ،سڑکیں زیر آب ،گاڑیاں بہہ گئیں،مزید 4 ہلاک

303
کراچی: لیاقت آباد میں شدید بارش کے بعد سڑک پانی میں ڈوبی ہوئی ہے‘ چھوٹی تصویر میں الخدمت کے رضا کار اورنگی ٹاؤن میں پانی میں پھنسے افراد کو ریسکیو کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف ر پورٹر)کراچی میں دوسرے روز بھی شدید بارش‘ سڑکیں زیرآب ‘ گاڑیاں بہہ گئیں‘ مزید 4 ہلاک۔شہر قائد میں طوفانی بارش کے سبب نظام زندگی درہم برہم ہوگیا، آدھا شہر بارش کے پانی میں ڈوب گیا، بجلی غائب ہونے سے شہر تاریکی میں ڈوب گیا، بدترین ٹریفک جام سے لاکھوں لوگ پھنس گئے،2روز میں بارش کے سبب کرنٹ لگنے اور دیوار گرنے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 10 ہوگئی۔پیر کو شہر قائد کے نصف حصے میں دھواں دار بارش ہوئی جس کے بعد متاثرہ علاقوں میں نظام زندگی درہم برہم ہوگیا۔ شہریوں کو بیک وقت کئی بڑے مسائل کا سامنا کرنا۔ بارش ہوتے ہی شہر بھر کی بجلی بند ہوگئی، سڑکیں ڈوب ہوگئیں اور وہاں بدترین ٹریفک جام ہوگیا اور لاکھوں لوگ گھنٹوں پھنسے رہے۔بارش شروع ہوتی ہی سیکڑوں فیڈر ٹرپ کرگئے اور شہر بھر کی بجلی بند ہوگئی۔ زیادہ بارش ضلع غربی اور وسطی میں ہوئی جبکہ دیگر اضلاع میں ہلکی اور تیز بارش کا سلسلہ رہا۔ لیاقت آباد3 نمبر سے گجر نالہ اوور فلو ہوگیا اور پانی قریبی آبادی میں داخل ہوگیا۔ بارش کے بعد فیڈرل بی ایریا ، گلشن اقبال،اورنگی ٹاؤن، بلدیہ ٹائون، سعید آباد، لیاقت آباد، کیماڑی، لیاری، ملیر، کورنگی، اولڈ سٹی ایریا سمیت دیگر علاقے شدید متاثر ہوئے۔مختلف علاقوں میں بجلی رات گئے تک بحال نہیں ہوسکی۔ بجلی کی بندش سے سب سے زیادہ ضلع وسطی اور غربی کے علاقے متاثر ہوئے۔ دونوں اضلاع کے 70 فیصد علاقے بجلی سے محروم ہوگئے۔ کچھ جگہ بجلی بحال کردی گئی لیکن بعض علاقوں میں بحالی کا کام ممکن نہیں ہوسکا جب کہ ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا تھا کہ بارش کے بعد کچھ علاقوں میں احتیاطی طور پر بجلی بند کی گئی۔نالوں کی صفائی نہ ہونے کے سبب آسمان سے برسنے والا ابر رحمت زحمت بن گیا اور پانی نالوں کے بجائے سڑکوں پر بہنے لگا، پانی سے ضلع وسطی اور غربی کی سڑکیں ڈوب گئیں جس سے شہر میں بدترین ٹریفک جام ہوگیا اور لاکھوں لوگ گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسے رہے۔سب سے زیادہ ٹریفک جام ضلع وسطی میں ہوا، گجر نالہ بھرنے کے سبب ناظم آباد، لیاقت آباد، غریب آباد، حسن اسکوائر، گولیمار، لسبیلہ اور ملحقہ تمام سڑکوں پر لوگ ٹریفک جام میں پھنس گئے۔ ناظم آباد سے لیاقت آباد آنے اور جانے والا اور ناظم آباد سے لسبیلہ جانے والا ٹریفک بدترین جام کا شکار رہے اور گاڑیاں رینگ رینگ کر چلتی رہیں۔بارش کے سبب سخی حسن پر واقع ڈی سی سینٹرل کے آفس میں بھی پانی داخل ہوگیا، نارتھ ناظم آباد میں سب سے زیادہ بارش ہوئی جس کے سبب کے ڈی چورنگی پر اتنا پانی جمع ہوگیا کہ گاڑیاں ڈوب گئیں۔شہریوں نے گھروں میں پانی داخل ہونے اور گاڑیاں ڈوبنے کی تصاویر اور وڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کردیں جو منٹوں میں وائرل ہوگئیں۔بارش کے بعد سپر ہائے وے پر ایشیا کی سب سے بڑی مویشی منڈی کی صورتحال انتہائی خراب ہو گئی۔بارش کے دوران کرنٹ لگنے اور دیگر واقعات میں پیر کو بھی 4 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد 2 روز کے دوران جاں بحق افراد کی تعداد 10 ہوگئی۔موچکو کے علاقے مواچھ گوٹھ سپارکو روڈ ماربل فیکٹری میں کرنٹ لگنے سے جھلس کر2 افراد جاں بحق ہوگئے جن کی شناخت 45 سالہ محمد موسی ولد غلام محمد اور 30 سالہ وحید ولد جان پوش کے نام سے ہوئی۔ وحید کا آبائی تعلق کالا ڈھاکا اور محمد موسی کا تعلق نواب شاہ سے ہے۔پاکستان بازار تھانے کے علاقے اورنگی ٹائون سیکٹر ساڑھے 11 غوثیہ بلوچ کالونی اسلام چوک گلی نمبر 2 مکان نمبر 11/23 میں کام کے دوران کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا،متوفی کی شناخت 45 سالہ محمد رفیق ولد محمد عیسیٰ خان کے نام سے ہوئی۔لیاقت آباد گجر نالے میں تغیانی کے باعث گھر کی دیوار گرنے سے ملبے تلے دب کر ایک شخص زخمی ہوگیا، اہلے محلہ نے ملبے تلے دبے شخص کو اپنی مدد آپ کے تحت نکال کر فوری طور پر طبی امداد کے لیے عباسی اسپتال منتقل کیا ،جودوران علاج دم توڑ گیا، متوفی کی شناخت 20 سالہ ماجد ولد ارشد کے نام سے ہوئی۔علاوہ ازیں گورنر سندھ عمران اسماعیل سے میئر کراچی وسیم اختر اور میئر حیدرآباد طیب حسین نے گورنرہائوس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں میئرکراچی وسیم اختر نے کراچی میں حالیہ بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال پر گورنر سندھ کو بریفنگ دی۔میئر وسیم اختر نے وفاقی حکومت سے کراچی کی صورتحال کا نوٹس لینے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ فنڈز کی کمی کی وجہ سے بارش کی تباہ کاریوں سے نمٹنا مشکل ہو گیا ہے۔ ملاقات میں میئر طیب حسین نے حیدرآباد کے حالات پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں ، حیدرآباد کے پاس فنڈز کی شدید کمی ہے یہی وجہ ہے کہ مختلف ترقیاتی اسکیمیں بھی تعطل کا شکار ہیں اور اس وقت بارشوں کے باعث صورتحال بہت زیادہ خراب ہے۔گورنرسندھ نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبے کے حالات سے بخوبی آگاہ ہے، کراچی کے شہریوں کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے،اسی طرح وفاقی حکومت کی حیدرآباد کے حالات پر بھی نظر ہے۔گورنر سندھ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے بات کرکے اس ضمن میں جامع حکمت عملی تیار کریںگے۔