اسرائیل اور حزب اللہ میں سرحدی جھڑپ ،گولوں کا تبادلہ

111
لبنان اسرائیل سرحد: صہیونی فوج نے مزید ٹینک پہنچا دیے ہیں‘ شدید گولہ باری کے نتیجے میں دھوئیں کے کثیف بادل بن رہے ہیں

بیروت (انٹرنیشنل ڈیسک) لبنانی ملیشیا حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ سرحدی علاقے میں صہیونی فوج کے خلاف کارروائی کی ہے۔ اسرائیلی فوج نے پیر کے روز اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان کے ساتھ واقع شمالی سرحد پر جھڑپ کا ایک واقعہ رونما ہوا ہے۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق صہیونی فوج کا حزب اللہ ملیشیا کے ساتھ گولہ باری کا تبادلہ ہوا ہے۔ اسرائیل کے این 12 ٹی وی نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کا ایک حملہ ناکام بنا دیا ہے اور اسرائیلی فوج نے علاقے کے مکینوں کو اپنے گھروں ہی میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔ فوری طور پر کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا ہے کہ حزب اللہ نے شبعا فارمز کے متنازع علاقے میں درجنوں گولے داغے ہیں اور وہ اسرائیلی فوج کے ایک ٹھکانے کے نزدیک گرے ہیں۔ اس کے بعد علاقے میں آگ لگ گئی اور دھواں بلند ہورہا تھا۔ اس دوران کئی مکانات پر گولی گرے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر مادی نقصان ہوا۔ ایک لبنانی ذریعے کے مطابق حزب اللہ نے یہ حملہ شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں اپنے ایک جنگجو کی ہلاکت کے ردعمل میں کیا۔ ملیشیا کا یہ جنگجو گزشتہ پیر کو اسرائیلی فوج کے فضائی حملے میں ہلاک ہوگیا تھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس واقعے کی رپورٹس منظرعام پر آنے سے قبل کہا کہ لبنانی سرزمین سے کسی بھی حملے کے لبنان اور حزب اللہ ذمے دار ہوں گے۔ خیال رہے کہ اسرائیل شام میں حزب اللہ اور اس کے اتحادی ایران کی موجودگی کو اپنے لیے ایک تزویراتی خطرہ خیال کرتا ہے، اور اس نے شام میں 2011ء میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے ان دونوں کے ٹھکانوں اور جنگجوؤں پر سیکڑوں فضائی حملے کیے ہیں۔ ان فضائی حملوں کے ردعمل میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے کہا تھا کہ وہ شام میں اسرائیلی حملوں میں کسی بھی جنگجو کی ہلاکت کا بدلہ لیں گے۔