سوڈان: قبائل کے درمیان تصادم میں مزید60 افراد ہلاک

121
سوڈان: مارے گئے افراد کے اہل خانہ لاشوں پر نوحہ کررہے ہیں

خرطوم ؍ نیو یارک (انٹرنیشنل ڈیسک) سوڈان میں مسلح افراد نے فائرنگ کر کے بچوں سمیت 60 افراد کو ہلاک کر دیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق کے علاقے سوڈانی علاقے دارفر میں قبائل کے درمیان تصادم شدت اختیار کرگیا ہے، جس کے نتیجے میں مزید ہلاکتوں کے خدشات ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 500 مسلح افراد نے مسالت برادری پر حملہ کرکے درجنوں کو قتل کر ڈالا اور لوٹ مار کے علاوہ ان کے گھروں کو بھی نذر آتش کردیا۔ عالمی ادارے سے وابستہ ایک سینئر اہلکار نے تصدیق کی کہ میستری شہر میں مسالت برادری کو ایک بار پھر نشانہ بنایا گیا ہے، اس دوران اب تک 60 افراد ہلاک اور تقریباً 60 ہی زخمی ہو چکے ہیں۔ خرطوم میں واقع اقوام متحدہ کے دفتر کے مطابق دارفر کے مختلف حصوں میں تشدد میں اضافے کی وجہ سے جہاں ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ پایا جا رہا ہے، وہیں بڑی تعداد میں بے گھر ہونے کے خدشات کے ساتھ زرعی موسم کے ضائع ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے، جس کے نتیجے میں ذریعہ معاش کی تباہی سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ دارفر میں کاشت کار قبائلی برادری اور عرب خانہ بدوشوں کے درمیان زمینی تنازعات سمیت مختلف امور پر جھگڑے چل رہے ہیں، جس میں اب غیر معمولی شدت آ چکی ہے۔ اس سلسلے میں سیکڑوں مقامی افراد نے علاقے میں بہتر سیکورٹی کے مطالبے اور تحفظ کے لیے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک حکام قاتلوں کے خلاف سخت کارروائی نہیں کریں گے، اس وقت تک لاشوں کو دفنایا نہیں جائے گا۔ ذرائع کے مطابق کسی بھی گروہ کی جانب سے حالیہ مسلح واقعات کی ذمے دری قبول نہیں کی گئی ہے۔ سوڈان کے وزیر اعظم عبداللہ حمدوک نے فسادات میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دارفر کے علاقے میں قیام امن کے لیے مزید فورسز بھیجی جائیں گی۔