اُڑن طشتری، آج تک ایک معمہ

434

یہ نامعلوم شے دنیا کے کئی ملکوں میں طرح طرح سے اُڑتی دیکھی گئی ہیں۔ کسی کو وہ طشتری کی طرح دکھائی دی کسی کو غبارے کی مانند، کہیں انہیں روشنی کی صورت میں دیکھا گیا کہیں بادلوں کی طرح دکھائی دیے ۔ ابتداء میں انہیں اُڑن طشتری Flying Saucer کا نام دیا گیا لیکن نہ کسی کو اس کی ماہیت کا سراغ ملا اور نہ اس کی منزل یا مقصد کا صحیح علم ہوسکا چنانچہ ریسرچرز نے انہیں نامعلوم فضائی اجسام unidentified flying object، عرف عام میں U.F.O کا نام دیا۔

اڑن طشتریوں نے ہمارے اس کرۂ ارض پر کب سے پرواز شروع کی، اس کے متعلق تو سائنسدان یامؤرخ بھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرسکے۔ البتہ واقعات کا سلسلہ ملانے سے چند واقعات بیسویں صدی کی ابتداء سے اخبارات کے ریکارڈ پر ملتے ہیں۔ 1910ء میں جب ہوائی جہاز کسی باقاعدہ اُڑنے والی مشین کی صورت میں دنیا کے سامنے نہیں آیا تھا اور آج کا طیارہ کسی نے کبھی خواب میں بھی نہ دیکھا تھا، امریکی ریاست ٹینسی کے علاقے میں ایک روز لوگوں نے ایک سفید طیارہ نما شے اُڑتی دیکھیا اور یہیں سے 75 میل دور ایلاباما کے لوگوں نے بھی یہ سفید شے دیکھی۔ دوسرے روز یہی سفید شے ایک اور شہروں پر بھی نظر آئی اور اگلے روز امریکیوں نے اسے ایک بار پھر دیکھا۔

اسی سال اکتوبر کی ایک شام برج واٹر کے شہر کی فضا سے یہی شعاع نکلی اور زمین پر گھومنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد شعاع آسمان کی طرف اُٹھی، اندھیری فضا میں گھومی اور غائب ہوگئی۔ اُس دور میں غبارے اُڑا کرتے تھے لیکن تحقیقات سے پتہ چلا کہ جس وقت یہ شعاعیں نظر آئیں اُس وقت کوئی غبارہ فضا میں نہیں تھا، اگر ہوتا بھی تو غباروں میں اس وقت سرچ لائٹیں نہیں ہوتی تھیں۔

اس ضمن میں جنگِ عظیم اوّل (1919-1914) کا ایک واقعہ بیان کرنا ضروری ہے جو تقریباً نصف صدی تک عسکری تنظیموں اور سائنس دانوں کے لیے ایک ناقابلِ حل معمہ بنارہا۔

28 اگست 1915ء کو انگریزوں اور ترکوں کے درمیان گیلی پولی کے محاذ پر گھمسان کی لڑائی ہورہی تھی۔ برطانوی افواج ایک پہاڑی پر مقیم تھی جو ضلع سالویا کے نزدیک واقع ہے قریب ہی نیوزی لینڈ کا ایک ہراول دستہ نگرانی کے لیے متعین تھا۔ اس نے دیکھا کہ انگریزوں کی ایک پوری رجمنٹ جس میں ایک ہزار کے قریب سپاہی تھے کمک کے لیے آرہی ہے۔ یکایک ایک بادل اُن کے راستے میں حائل ہوگیا اور جب وہ ہٹا تو انہوں نے دیکھا کہ اس فوج کا پورا دستہ غائب ہے اور ایک آدمی بھی کہیں نظر نہیں آرہا، کچھ پتہ نہ چلا کہ انہیں زمین کھاگئی آسمان اُچک لے گیا یا بادل نے سب کو ہڑپ کرلیا۔ جنگ کا زمانہ تھا، گمان یہی کیا گیا کہ دشمن نے پوری رجمنٹ کو نرغہ میں لے کر گرفتار کرلیا ہوگا۔ جب 1918ء میں صلح ہوئی تو برطانیہ نے ان اسیرانِ جنگ کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔ لیکن جب ادھر سے جواب ملاکہ ہمیں تواس قسم کی رجمنٹ سے واسطہ ہی نہیں پڑا تو محکمہ دفاع میں کھلبلی مچ گئی کہ ہمارے اتنے سپاہیوں کا کیا حشر ہوا….؟

دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے تقریباًدو سال بعد، منگل 24 جون 1947ء کو کینتھ آرنلڈ Kenneth Arnold نامی ایک امریکی نوجوان تاجر اپنے دو انجن والے جہاز سے ریاست واشنگٹن کے وسطی پہاڑی سلسلے رینئر کے پہاڑ ’’مائٹی‘‘ کے بجھے لاوے کی چوٹی کے گرد چکر لگا رہا تھا۔ مطلع بالکل صاف تھا اور آسمان بادلوں سے خالی تھا۔ آرنلڈ دراصل اس علاقے میں پراسرار طور پر غائب ہونے والا امریکی فضائیہ کا ایک جہاز تلاش کر رہا تھا، جس کا ملبہ تلاش کرنے پر امریکی فضائیہ نے 5ہزار ڈالر کے انعام کا اعلان کیا تھا۔ موسم تلاش کے کام کیلئے انتہائی موزوں تھا لہٰذا آرنلڈ تلاش کے کام میں پوری طرح سے کھویا ہوا تھا کہ اچانک کہیں سے سورج کی روشنی اس کے چہرے پر منعکس ہوئی۔ آرنلڈ نے یہ سوچتے ہوئے کہ شاید فضاء میں اڑنے والے کسی اور جہاز سے سورج کی روشنی اس کے چہرے پر منعکس ہوئی تھی، فوراً اپنی توجہ جہاز کو اڑانے پر بحال کی، لیکن اسے محسوس ہوا کہ ہر چیز بالکل خاموش تھی اور تا حد نظر ایسا کوئی جہاز نہیں تھا جس سے سورج کی روشنی منعکس ہوتی۔ ایسے میں آرنلڈ نے افق پر کسی چیز کی حرکت محسوس کی۔ وہ اسے کوئی جانے پہچانے جہاز نہیں لگے، بلکہ کچھ الگ سی پلیٹ نما چیزیں تھیں جو تقریباً اسی کی طرف پرواز کر رہی تھیں۔ آرنلڈ کے اندازے کے مطابق جو چیز وہ دیکھ رہا تھا وہ اس سے بہت دور تھی اور اگر مطلع صاف نہ ہوتا تو شاید وہ انہیں دیکھ ہی نہ پاتا۔ اس کے باوجود آرنلڈ نے روشنی کے انعکاس کی وجہ کچھ اور گردانتے ہوئے اپنی توجہ فضائیہ کے جہاز کی تلاش پر دوبارہ مرکوز کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ چیزیں واقعی بہت تیزی سے حرکت کر رہی تھیں اور چند ہی لمحوں میں اس سے کافی قریب آگئی تھیں۔
کچھ دیر بعد بہت قریب آنے پر کینتھ آرنلڈ نے ان اجسام کو براہ راست غور سے دیکھا اور بعد میں انہیں بیان کرتے ہوئے اس کا کہنا تھا کہ وہ کوئی واضح ابھار نہیں تھے۔ ان کی نہ دم تھی اور نہ ہی پر، بلکہ صرف پوری طرح سے گول پلیٹیں تھیں جو حیران کن حد تک چمکتی دکھائی دے رہی تھیں۔

اب تک لوگوں کے مشاہدات سے جو معلومات ملی ہیں اس کے مطابق ڈسک کی شکل یہ خلائی گاڑیاں دنیا کے کسی بھی خطہ میں اچانک عام اُڑتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ یہ یکایک نمودار ہوتی اور کوئی شور پیدا کئے بغیر یکایک غائب ہوجاتی ہے۔ 1947ء سے تاحال فضا میں جو پراسرار اشیاء اُڑتی دیکھی گئی ہیں ان مشاہدات کی تعداد دس ہزار سے زیادہ ہے۔ امریکہ کے ایک ادارےسرچ فار ایکسٹر اٹیرسٹریل انٹیلی جنس ( جسے عرف عام میں سیٹی Seti کہا جاتا ہے) سمیت دنیا کی تمام رصدگاہیں تحقیق میں مصروف ہیں لیکن ابھی تک کسی ایک کے متعلق بھی پتہ نہیں چلایا جاسکا۔