نریندر مودی ایک عالمی مہرہ

330

اکرم ثاقب

بھارتی جنونی وزیراعظم نریندر مودی چین کے ساتھ 1962ء کی جنگ میں اپنے ملک کی طرف سے کی گئی غلطی یاد کرنے سے گریزاں ہیں۔ مودی چین کی حکمت عملی پر اس وقت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو کی طرف سے کی گئی غلطیوں کو دہرا رہے ہیں، کیوں کہ انہوں نے روس نواز معاون وی کے کرشنا مینن کے مشورے پر زیادہ بھروسا کیا تھا۔ مودی بھی اپنے خارجہ امور کے وزیر سبرا منیم جے شنکر پر انحصار کرتے ہیں، جو اس بات ہی کو درست سمجھتے ہیں کہ امریکا کے ساتھ اتحاد بھارت کے مفادات کےلیے انتہائی لازم ہے۔ حالانکہ تاریخ اور وقت دونوں اس کے خلاف گواہی دیتے ہیں۔ ہنری کسنجر کے یادگار الفاظ دنیا نہ جانے کیوں بھول جاتی ہے کہ ہماری دشمنی سے زیادہ خطرناک ہماری دوستی ہے۔ مگر کیا کیا جائے اس انتہا پسند بھارتی وزیراعظم کا، جو اپنے اقتدار کی خاطر پوری دنیا کو آگ میں جھونکنے سے بھی نہیں کترا رہا۔
نریندر مودی بھارتی عوام کو بھی انتہا پسندی کا راستہ دکھانے کے ساتھ انہیں یہ خواب بھی دکھا رہا ہے کہ ساری دنیا میں ہندو راج ہوگا۔ بھارتی انتہا پسند ہندو تنظیموں، اقلیتوں خصوصاً مسلم دشمن سیاسی جماعتوں کے زیر اثر نریندر مودی نے اپنی حکومت کو قائم رکھنے اور طول دینے کےلیے بھارت کا سیکولر چہرہ، جو پہلے ہی سیاہ دھبوں سے بھرا ہوا ہے، بالکل معدوم کردیا ہے۔ طویل حکمرانی کی خواہش مکمل کرنے کے لیے بھارتی وزیر اعظم نے اندرونی پالیسی کے بجائے خارجہ پالیسی کو اپنا ہتھیار بنا رکھا ہے، یعنی وہ اپنے ووٹر کو کئی برسوں سے بے وقوف بنانے کے ساتھ ساتھ حقائق چھپا کر دھوکے میں رکھے ہوئے ہیں جب کہ دنیا کو بھی محض بیانات کے ذریعے حقائق سے بے خبر رکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب دنیا خاص طور پر بڑی طاقتوں نے بھارتی وزیر اعظم کی اس کمزوری کو بھانپ لیا ہے اور اب وہ نریندر مودی کو اپنے آلہ کار کے طور پر استعمال کررہی ہیں۔
دوسری مرتبہ وزیراعظم کی حیثیت سے اپنی نشست کو محفوظ بنانے اور ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مودی نے ایک بار پھر پاکستان اور اسلام مخالفت کو انتخابی ایجنڈے کے طور پر استعمال کیا۔ مہم کے دوران مقبوضہ کشمیر سے متعلق متنازع بیانات، اندرونی معاملات میں ہر محاذ پر ناکامی کے باوجود مقامی میڈیا کو خرید کر اپنی مقبولیت میں اضافہ کرانے کی کوشش اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، چینی صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن جیسے رہنماؤں کے ساتھ اپنی مصروفیات ظاہر کرکے ووٹرز کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے رہے۔ دنیا جانتی ہے کہ سپرطاقتوں کے حکمرانوں سے گلے ملنے کی بھی ایک خاص قیمت ہوتی ہے، جو چھوٹے ملک ہی کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ مودی نے صدر پیوٹن سے گلے ملنے اور مصافحہ کرنے کےلیے ایس 400 میزائل دفاعی نظام کی 43 ارب امریکی ڈالر کی قیمت ادا کی۔ فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں کے ساتھ رافیل معاہدہ 30 ارب ڈالر کا تھا۔ یہ واضح قیمت تھی جو مودی نے ادا کی۔ مودی نے ٹرمپ کے ساتھ ہاوڈی مودی پروگرام میں اپنی نمایش کی۔ اسی طرح ٹرمپ نے رواں سال 22 فروری کو بھارتی ریاست گجرات میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد کی شرکت سے ہونے والے پروگرام میں شرکت کی، جس میں مودی نے اپنے اور ٹرمپ کے درمیان زبردست تعلق ثابت کرنے کی کوشش کی۔ امریکی صدر نے بھی اپنی تقریر میں بھارتی وزیر اعظم کو ایک غیر معمولی رہنما کے طور پر پیش کیا۔ یہ سب مودی کے غبارے میں ہوا بھری جارہی تھی تاکہ بھارت کو چین کے خلاف استعمال کیا جاسکے اور مودی استعمال ہوگئے۔
لداخ میں چین اور بھارتی عسکری کشیدگی پر نہ تو خود امریکی صدر نے اور نہ ہی بھارت کے کسی دوست اور اتحادی نے بھارت کے حق میں کوئی بیان جاری کیا۔ یہ بات طے ہے کہ اگر بھارت کی چین کے ساتھ پورے پیمانے پر جنگ شروع ہوجائے تو بھارت کو پتا چل جائے گا کہ کوئی بھی اس کے ساتھ کھڑا نہیں ہے، مگر مودی میں تاریخ سے سبق سیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ اسے تو اپنی برتری اور بہت بڑا رہنما ہونے کا زعم مارے جارہا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم یہ خواب لیے آگے بڑھ رہے ہیں کہ وہ امریکا کا ہم نوا بن کر اور چین یا پاکستان کو زیر کرکے خطے کی بڑی طاقت بن جائے گا جب کہ تاریخ شاہد ہے کہ بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تعلقات بناتی ہیں، انہیں دوسرے کے مفاد یا نقصان کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ امریکا خود چین کے ساتھ کئی اختلافات کے باوجود تجارتی معاہدے کا خواہش مند ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ نومبر کے صدارتی انتخابات کے بعد چین سے تجارتی معاہدہ طے پانے کے امکانات ابھی باقی ہیں۔