صہیونی جنگی مجرموں کیخلاف تحقیقات پر اسرائیلی تشویش

142

مرکز اطلاعات فلسطین
توقع کی جارہی ہے کہ بین الاقوامی فوج داری عدالت 2014ء میں غزہ پر جارحیت کے دوران فلسطینی عوام کے خلاف جنگی جرائم کے شبہے میں پراسیکیوٹر بینسوڈا کی درخواست قبول کر کے قابض اسرائیل کے فوجیوں، سیاسی رہنماؤں اور دیگر صہیونی عناصر کے جنگی جرائم کے خلاف تحقیقات کا جلد آغاز کرے گی۔
ہیگ کی فوج داری عدالت عن قریب ہی فلسطین میں اسرائیل کے جرائم کی تحقیقات کھولنے کے فیصلے کے ساتھ ہی عبرانی اخبار ہارٹز نے انکشاف کیا کہ اسرائیل ایک خفیہ فہرست تیار کر رہا ہے جس میں سیکڑوں اہلکار شامل ہیں، جن پر ہیگ میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ اس فہرست میں ان فوجیوں اور سیاسی رہنماؤں کو شامل کیا جا رہا ہے جو فلسطینیوں کے خلاف سنگین نوعیت کے جنگی جرائم میں ملوث رہے ہیں۔
گزشتہ دنوں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوج اور سیکورٹی سروسز کے فیصلہ سازوں اور عہدیداروں کی ایک خفیہ فہرست تیار کی گئی ہے، جنہیں بیرون ملک گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ اگر ہیگ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت جنگی جرائم کے شبہے میں تحقیقات کھولنے پر راضی ہوگئی تو ان عہدیداروں کے لیے عالمی سطح پر آمد ورفت مشکل ہوسکتی ہے۔ اخبار کے مطابق اس فہرست میں فی الحال 200 سے 300 افراد شامل ہیں اور کچھ دیگر نام مزید شامل کیے جاسکتے ہیں۔ ان میں فوج کے جونیئر افسر اور فلسطینیوں کے خلاف جرائم میں ملوث صہیونی عناصر شامل ہیں۔
اسرائیل کو سنگین تشویش
اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے یورپی امور کے ماہر اور محقق حسام شاکر نے کہا گے کہ اسرائیل میں جنگی مجرموں کی فہرست تیار کرنے کے بارے میں جو بات کی جارہی ہے اس سے اس کے رہ نماؤں ، افسران اور عہدیداروں کے بین الاقوامی مجرمانہ مقدمات چلانے سے متعلق کسی اقدام کے بارے میں قابض ریاست کی شدید تشویش کی تصدیق ہوتی ہے۔ انہوں نے مرکز اطلاعات فلسطین کو ایک خصوصی بیان میں زور دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے سے یہ تصدیق ہوتی ہے کہ صہیونی ریاست عالمی فوج داری عدالت کی طرف سے ممکنہ قانونی کارروائی کی روک تھام اور اپنے افسران اور عہدیداروں کو بچانے کے لیے بہت زیادہ مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرئیل اپنے لیڈروں کا پیچھا کرنے کے ہر امکان پر انتہائی سنجیدگی کے ساتھ احتیاط برت رہا ہے۔ قابض ریاست میں ایک ایسا نظام موجود ہے جو مقدمے کی سماعت کے کسی بھی موقع کو روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ جس کے بعد کچھ افسران اور فوجیوں کے لیے جنگی جرائم میں واضح طور پر ملوث ہونے کے شبہے کے بعد ان کے بیرون ملک سفر سے انہیں روکا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب فلسطینیوں میں عالمی فوج داری عدالت امید کی ایک نئی کرن بن گئی ہے۔ اگر ہیگ میں قائم عالمی عدالت جرائم میں ملوث اسرائیلیوں کے خلاف تحقیقات کھولتی ہے تو اس سے عالمی سطح پر صہیونی ریاست کے جرائم کو بے نقاب کرنے کا موقع ملے گا اور صہیونی ریاست دبائو میں آسکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی ایک اور جہت ہے اور وہ یہ کہ اسرائیل اپنے سینئر عہدیداروں اور افسروں کے لیے حفاظتی جال مہیا کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس سلسلے میں صہیونی ریاست کے پاس مواقع محدود ہیں کیونکہ محض سیاسی اور عسکری شخصیات کی 200 سے 300 کی فہرست کا اجرا ہی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ معاملہ اس کے لیے دن بدن مشکل ہوتا جارہا ہے۔ ایسی کسی قانونی چاری جوئی کی صورت میں ہرملک اس طرح کی تیاریاں کرتا ہے۔ بالخصوص ایسے ممالک جن پر صرف الزام نہ ہو بلکہ وہ کھلے عام جنگی جرائم کے مرتکب پاگئے ہوں اور اسرائیل ایسے ممالک میں سر فہرست ہے۔