اقوام متحدہ‘ یورپی یونین اور پوپ فرانسس سب جانبدار ہیں

330

عثمانی سلطنت کے حکمران سلطان محمد ثانی نے 1534ء میں استنبول کو فتح کرنے کے بعد آیا صوفیہ کے گرجا گھر کو مسجد میں تبدیل کردیا تھا۔ یہ فتح استنبول (قسطنطنیہ) کی علامت تھی۔ گزشتہ صدی میں پہلی جنگ عظیم کے بعد مصطفی کمال اتاترک نے ملک کو سیکولر شناخت دی، اس کے لیے آیا صوفیہ کو میوزیم کا درجہ دے دیا اور یہاں نماز پڑھنے پر پابندی عائد کردی۔ آج مغرب اور مغرب نواز سیکولر حضرات میوزیم کو دوبارہ مسجد کا درجہ دینے پر معترض ہیں۔ کیا 86 سال قبل اس ذہن کے لوگوں نے مسجد کو میوزیم بنانے پر اعتراض کیا تھا؟ عثمانی سلطنت کے حکمران نے استنبول فتح کیا تھا لہٰذا اس عظیم الشان عمارت کو اپنی فتح کی علامت کے طور پر مسجد میں تبدیل کرنا اس کا حق تھا۔ سلطان نے گرجا گھر کو نہ اصطبل بنایا اور نہ تباہ و برباد کیا۔ سلطان محمد ثانی ہی نہیں کسی مسلمان حکمران نے ایسا کوئی قدم بعید یا قریب کی تاریخ میں کبھی نہیں دوہرایا۔
یورپی یونین کے ستائیس ارکان اس بات پر معترض ہیں ان میں سے کسی نے کبھی عراق، افغانستان اور شام میں مساجد کی تباہی، میوزیم کے ورثہ کی لوٹ مار پر کوئی آواز اٹھائی؟ کوئی سوال کیا؟۔ آج اگر برٹش میوزیم شام، عراق اور افغانستان سے لوٹے گئے نوادرات کو اپنے میوزیم کی عمارتوں میں سجا کر نازاں ہے کہ اس نے ان تاریخی ورثوں کی اور نوادرات کی حفاظت کی۔ حالاں کہ سچ یہ ہے کہ جھوٹ پر مبنی الزامات لگا کر ان ممالک کو پہلے تباہ کیا اور پھر وہاں کے نادر و نایاب قیمتی نوادرات لوٹ کر اپنے ملک کے میوزیم میں سجادیے گئے۔ اور پھر اس کو اپنا بڑا کارنامہ قرار دیا گیا۔ برٹش میوزیم کے ڈائریکٹر میک گریگر اس کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم شام اور عراق میں غیر قانونی طور پر چرائے جانے والے تاریخی ورثے کی حفاظت کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ شام میں تباہ ہونے والے عجائب گھروں، قیمتی اشیاء اور آثار قدیمہ کو دوسری جنگ عظیم کے بعد ’’سب سے زیادہ تباہ ہونے والے ورثے‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ سب سے زیادہ تباہ کیے جانے والے ورثے کا اعتراف کرنے والے ملک مجرم ملک آج کیسے آیا صوفیہ کے بارے میں اعتراض کرسکتے ہیں؟۔ ابھی چند برس قبل ہی تو شام پر وحشیانہ بمباری کی گئی، آبادیوں کی آبادیاں کھنڈر بنادی گئیں، خوبصورت شام کو کھنڈر بنانے میں اپنی تئیں مہذب اقوام نے مل کر اپنا اپنا کردار طے کیا اور اُسے ادا کیا۔ غوطہ میں بمباری کے درمیان مارے ہمدردی کے پانچ گھنٹوں کا وقفہ کرنے کا اعلان کیا گیا۔ واہ کیا ہمدردی کا جذبہ ہے کہ چوبیس گھنٹوں میں سے پانچ گھنٹے ہم بارود نہیں برسائیں گے۔ اقوام متحدہ تو کشمیر کی طرح یہ کہہ کر فارغ ہو گئی کہ جنگ بندی کی قرار داد منظور کرلی ہے۔ اقوام متحدہ کا کام یہیں تک ہی تھا۔ عمل درآمد صرف وہاں کرایا جاسکتا ہے جہاں مسلمان ممالک کو دبانا مقصود ہو۔ شام کے شہروں میں کلورین بم تک استعمال کیے گئے۔ لیکن اقوام متحدہ پر اثر ہوا نہ یورپ اور امریکا پر۔ مسلمان ملکوں میں بہتا خون کیا خون نہیں پانی ہے۔ ننھے معصوم بچوں کی لاشیں سسکتے ہوئے زخمی بچے، بوڑھے، عورتیں یہاں تک کہ چند ماہ کے بچے بھی دشمن گردانے گئے اور مار دیے گئے۔ اسپتال، اسکول، مساجد کہیں کوئی استثنا نہیں۔ ترکی کے وزیر خارجہ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ آیا صوفیہ ترکی کے ثقافتی ورثہ کے طور پر مسجد کی حیثیت سے تھا لہٰذا ضروری ہے کہ اس کا استعمال مسجد کے طور پر ہو۔ پھر یہ مسجد مسیحی زائرین اور دوسرے غیر ملکی سیاحوں کے لیے کھلی ہے اور کھلی رکھی جائے گی۔
پوپ فرانسس ویٹیکن میں سینٹ پیٹرز اسکوائر میں اپنی رہائش گاہ کی کھڑکی سے جھانک کر آیا صوفیہ کو مسجد کے طور پر کھولنے کے اقدام پر اپنی اداسی کا ذکر کرتے ہیں۔ کاش انہیں شام، عراق اور افغانستان کی کھنڈر مساجد کا دھیان بھی آتا اور وہ اپنی پُرسکون امن پسند طبیعت کے اظہار کے طور پر ہی صحیح مسلمانوں کے بہتے خون اور کھنڈر بنے شہروں کے لیے بھی کبھی اپنی کھڑکی سے جھانک کر اُداسی کا اظہار کرتے۔ چلیں مسلمانوں کے قبلہ اوّل پر یہودیوں کی آئے دن کی یلغار کی طرف توجہ دے لیں۔ سچ یہ ہے کہ آیا صوفیہ کی مسجد کی حیثیت سے بحالی دنیائے اسلام کے لیے نوید ہے۔ دُعا ہے کہ آیا صوفیہ کی مسجد کی بحالی مسجد اقصیٰ کی آزادی کی کنجی بنے، آمین۔