معروف نعت گو اور مزاحیہ شاعر پروفیسر عنایت علی خان خالق حقیقی سے جاملے

393

کراچی(این این آئی)معروف مزاحیہ شاعر پروفیسرعنایت علی خان کراچی میں انتقال کرگئے، ان کی عمر85 برس تھی اور وہ کئی ماہ سے علیل تھے۔وزیراعلیٰ سندھ نے پروفیسرعنایت علی خان کے انتقال پر افسوس کا اظہارکیاہے۔شہرہ آفاق نعت کے خالق،چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والی بے شمار نظموں کے شاعر پروفیسر عنایت علی خان ٹونکی اتوارکی صبح کراچی میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ان کی نمازجنازہ بعد نماز ظہر مسجد کائنات عائشہ ماڈل کالونی میں ادا کی گئی،نمازجنازہ میں ادب سے وابستہ افراد، مرحوم کے عزیزواقارب اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی،انہیں جناح ٹرمینل قبرستان میں سپردخاک کردیاگیا۔پروفیسر عنایت علی خان مرحوم 1935 ء میں ہندوستان کے شہر ٹونک میں پیدا ہوئے ۔قیامِ پاکستان کے بعد ان کے خاندان نے 1948 ء میں سندھ کے شہر حیدرآباد ہجرت کی۔ انہوں نے اپنی ابتدائی و ثانوی تعلیم اسی شہر میں حاصل کی۔1962 ء میں انہوں نے ماسٹرز میں یونیورسٹی میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ پروفیسر عنایت علی خان کا قلمی نام عنایت تھا۔ پروفیسر عنایت علی خان کا تعلق ایک علمی اور ادبی گھرانے سے تھا۔ان کے والد اور والدہ دونوں ہی ادب اور شاعری کا ذوق رکھتے تھے بلکہ پروفیسر عنایت علی خان کے والد ہدایت اللہ خان ناظر ٹونکی باقاعدہ مزاح نگار تھے۔ اردو کی درسی کتب برائے مدارس صوبہ سندھ مقابلہ کی بنیاد پر لکھیں اور چھ کتابوں پر انعام حاصل کیا ۔ پروفیسر عنایت علی خان کے کئی مجموعے شائع ہوچکے ہیں، جن میں ازراہِ عنایت، عنایات اور عنایتیں کیا کیا ، عنایت نامہ اس کے بعد کلیات عنایت شامل ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ دو کتابیں بچوں کی نظموں اور کہانیوں پر مشتمل ہیں۔پروفیسر عنایت علی خان40 برس سے زاید درس و تدریس سے وابستہ رہے ۔پروفیسرعنایت علی خان کی نظم بول میری مچھلی کئی مزاحیہ قطعات زبان زد عام ہوئے۔ حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا ، لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر، یہ مشہور شعر بھی انہی کا ہے۔ان کی شاعری کے موضوعات میں طبقاتی منافرت ،سماجی مسائل نمایاں رہے ۔ وہ ہلکے پھلکے طنز و مزاح کی صورت میں سماج و معاشرے کے سنجیدہ اور دکھتے ہوئے مسائل کو اجاگر کرتے تھے ۔ طنزومزاح کی تاریخ میں ان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ،رہنمامتحدہ خالد مقبول صد یقی ‘میئر کراچی وسیم اخترودیگرنے پروفیسر عنایت علی خان کے انتقال پر افسوس کا اظہارکیااوردعاکی کہ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔