مینگو ڈپلومیسی

321

خبر آئی ہے کہ صدر عارف علوی دوست ممالک کے سربراہوں کو آم کا تحفہ ارسال کریں گے۔ میڈیا کی زبان میں اِسے مینگو ڈپلومیسی سے تعبیر کیا جاتا ہے جس کا چرچا سب سے پہلے جنرل ضیا الحق کے زمانے میں ہوا تھا وہ تھے تو فوجی حکمران لیکن سیاستدانوں سے بڑھ کر سیاستدان تھے۔ انہوں نے ایک طرف پاکستانی سیاستدانوں کو قابو کر رکھا تھا۔ دوسری طرف ہمسایہ ملکوں کے سیاستدانوں خاص طور پر حکمرانوں کو بھی گانٹھنے میں مصروف تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سوویت یونین نے افغانستان پر فوجی یلغار کر رکھی تھی اور افغان عوام اسے پسپا کرنے کے لیے میدانِ کار زار میں نکلے ہوئے تھے۔ جنرل ضیا الحق کی تمام تر توجہ افغان مجاہدین کی امداد پر مرکوز تھی تا کہ وہ سفید ریچھ کو قابو کیے رکھیں اور اسے کسی صورت بھی آگے نہ بڑھنے دیں۔ ایسے میں انہیں ہمسایہ ملک بھارت سے خدشہ تھا کہ وہ سرحدوں پر چھیڑ چھاڑ کرکے ان کی توجہ افغانستان سے ہٹا سکتا ہے۔ چناں چہ انہوں نے پاکستان کی مشرقی سرحدوں کو ہر قسم کے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے بھارتی حکمرانوں پر ’’مینگو ڈپلومیسی‘‘ بھی آزمائی اور کرکٹ ڈپلومیسی کا جادو بھی جگایا۔ پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان میچ ہوتا تو جنرل ضیا الحق میچ دیکھنے کے بہانے بھارت پہنچ جاتے اور میچ کے دوران بھارتی حکمرانوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کے کان میں یہ بات ڈال آتے کہ اگر انہوں نے پاکستان کے خلاف کوئی مہم جوئی کی تو انہیں منہ کی کھانی پڑے گی۔ پاکستان نے اگرچہ ابھی تک کھلم کھلا ایٹمی دھماکے نہیں کیے تھے لیکن کولڈ ٹیسٹ کے ذریعے اپنی ایٹمی طاقت کو آزما چکا تھا۔ چناں چہ جنرل ضیا الحق نے بھارتی حکمرانوں پر واضح کردیا تھا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور اس کے خلاف محاذ آرائی انہیں بہت مہنگی پڑے گی۔ اس طرح جنرل ضیا الحق ایک طرف بھارتی حکمرانوں کو آم بھی بھیجتے رہے، دوسری طرف ان کا ’’تراہ‘‘ بھی نکالتے رہے اور بھارت افغان جہاد کے طویل عرصے کے دوران ایک بار بھی پاکستانی سرحدوں پر چھیڑ چھاڑ کا متحمل نہ ہوسکا۔ جنرل ضیا الحق کی شہادت کے بعد بھی اگرچہ بھارت کے ساتھ مینگو ڈپلومیسی کا سلسلہ جاری رہا لیکن اس ڈپلومیسی میں وہ گہرائی اور گیرائی باقی نہ رہی۔ بے نظیر، نواز شریف، جنرل پرویز مشرف … ہر دور میں بھارتی حکمرانوں کو آم کے تحفے بھیجے جاتے رہے لیکن اس میں ڈپلومیسی کے بجائے چاپلوسی کا زیادہ غلبہ ہوتا تھا۔ نواز شریف تو اپنے بھارتی ہم منصب کے علاوہ کاروباری دوستوں کو بھی سرکاری خرچ پر آم بھیجتے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ پاکستانی عوام نے انہیں بھارت سے دوستی کا مینڈیٹ دیا ہے۔ اس ’’دوستی‘‘ نے ہمیں جو دن دکھائے ہیں وہ کسی سے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔
صدر عارف علوی جن دوست ملکوں کو آم کا تحفہ بھیجیں گے ان میں بھارت کا نام شامل نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ بھارت اب پاکستان کے دوست ملکوں میں شمار نہیں ہوتا۔ جب سے نریندر مودی کی انتہا پسند حکومت آئی ہے اس نے پاکستان اور کشمیریوں کے ساتھ دشمنی کی حد کردی ہے۔ پاکستان پر آئے دن حملے کی دھمکی دیتی رہتی ہے۔ کشمیر کو اس نے غیر قانونی طور پر اپنے اندر ضم کرلیا ہے اور پوری کشمیری آبادی کو ایک سال سے لاک ڈائون کر رکھا ہے جب کہ کشمیری نوجوانوں کو روزانہ فوجی مقابلے میں مارا جارہا ہے۔ ایسے میں بھارت کے ساتھ دوستی کیا دشمنی بھی اس کے معیار کے مطابق ہونی چاہیے لیکن ہمارے دوستوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکمران اب بھی بھارت کے ساتھ دوستی کی آس لگائے بیٹھے ہیں اور اس سے کُٹّی کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن کا معاملہ ہی دیکھ لیجیے پاکستانی حکمران اسے بچانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ دوستوں کا دعویٰ ہے کہ صدر عارف علوی اپنے بھارتی ہم منصب کو بھی آم بھیجیں گے لیکن ’’خوفِ فسادِ خلق‘‘ سے اس کا چرچا نہیں ہوگا۔
لیجیے صاحب مینگو ڈپلومیسی کا تو تذکرہ ہوگیا اب کچھ آم کی ذات و صفات کا بھی بیان ہوجائے۔ یہ اپنی ذات میں بھی منفرد ہے اور صفات میں بھی، شاعروں نے ہمیشہ بادشاہوں کے قصیدے لکھے ہیں، آم بھی چوں کہ پھلوں کا بادشاہ ہے اس لیے شاعروں نے آم کی بھی قصیدہ خوانی کی ہے اور اسے راحتِ جاں قرار دیا ہے۔ جہاں تک اس کی ذات کا تعلق ہے تو ایک قلمکار نے لکھا ہے کہ آم کی دس بیس نہیں پوری پندرہ سو قسمیں ہیں دو درجن قسمیں تو انہیں بھی یاد تھیں جو انہوں نے بیان کی ہیں لیکن ہمارے نزدیک آم کی وہی ذات سب سے اعلیٰ ہے جس میں گودا زیادہ اور گٹھلی برائے نام ہو، وہ چوسنے اور کاٹ کر کھانے میں یکساں لطف دے۔ اس کی صفات میں سب سے بڑی صفت یہی ہے کہ اس کا گودا خوشبودار اور شہد کی سی مٹھاس رکھتا ہو۔ پاکستان میں بھی انواع و اقسام کے آم پیدا ہوتے ہیں اور دساور کو جاتے ہیں۔ البتہ اب کی دفعہ آندھی آنے کے سبب آم کے بور ضائع ہوگئے اور آم کی پیداوار نسبتاً کم حاصل ہوئی ہے۔ کورونا نے بھی آم کی فصل پر منفی اثر ڈالا ہے لیکن اس کے باوجود بازار آم سے بھرے ہوئے ہیں اور لوگ حسبِ استطاعت ان سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ یوں تو آم جون کے آغاز ہی میں بازار میں آجاتے ہیں لیکن یہ مہینہ شدید گرمی کا ہوتا ہے اس لیے آم زیادہ لطف نہیں دیتے البتہ جب گرمی کا زور ٹوٹتا ہے اور ساون کی پھوار پڑتی ہے تو آم کی اشتہا بھی چمک اُٹھتی ہے۔ ہم نے ابتدا میں مینگو ڈپلومیسی کا ذکر کیا ہے، یہ ڈپلومیسی سماجی رابطوں اور پی آر شپ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دوست و احباب ایک دوسرے کو آم کے تحفے بھیجتے اور آم پارٹیاں کرتے ہیں۔ سیاستدان بھی اپنا حلقہ اثر بڑھانے میں آم کی خدمات حاصل کرتے ہیں، بااثر صحافیوں کو آم کے کریٹس بھیجنے اور ان کے اعزاز میں آم پارٹیاں کرتے ہیں۔ ہمارے زمانے میں آم کے موسم میں پریس کلب میں بہت رونق ہوا کرتی تھی اور صحافیوں کے اعزاز میں آم پارٹیوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ اُس زمانے میں صحافی بھی گنے چنے ہوا کرتے تھے ان پر زیادہ خرچہ نہیں آتا تھا اب تو الیکٹرونک میڈیا نے صحافیوں کی اتنی بڑی فوج پیدا کردی ہے کہ اسے سنبھالنا مشکل نظر آتا ہے۔ خیر چھوڑیے اس بحث کو آئیے آم چوستے ہیں جو مزہ آم چوسنے میں ہے وہ آم کاٹ کر کھانے میں کہاں۔