حج… اور سعودی عرب کے مسائل

396

اس سال کتنے لوگ حج کا فریضہ ادا کرسکیں گے؟ یہ بات ابھی تک واضح طور پر بتائی نہیں گئی ہے۔ سعودی عرب کے وزیر برائے حج و عمرہ کا کہنا ہے کہ حکومت ابھی اس کے لیے جائزہ لے رہی ہے کہ کتنی تعداد میں عازمین حج کو اجازت دی جائے۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ تعداد ایک ہزار بھی ہوسکتی ہے اور اس سے کم یا زیادہ بھی لیکن یہ واضح ہے کہ یہ تعداد دسیوں ہزار نہیں ہوسکتی ہے۔ سعودی حکومت نے اس بات کا اعلان کردیا ہے کہ کُل تعداد میں سے سعودی عرب کے لوگ تیس فی صد ہوں گے باقی ستر فی صد لوگ غیر ملکی عازمین حج ہوں گے۔ اس بار احتیاط کے باعث عازمین حج خانہ کعبہ کو نہیں چھو سکیں گے اور نہ ہی حجرا سود کو بوسہ دے پائیں گے۔ پیاس بجھانے کے لیے زم زم پینے کے لیے بھی حکومتی احتیاط اور احکامات کو مدِنظر رکھنا پڑے گا۔ کہا گیا ہے کہ منیٰ اور مزدلفہ میں قیام کے جو ٹینٹ لگائے جائیں گے ان کا پچاس میٹر کا ہونا ضروری ہے۔ منیٰ اور مزدلفہ جہاں بیک وقت لاکھوں عازمینِ حج موجود ہوتے تھے اب لازم ہے کہ ایک ٹینٹ میں دس سے زیادہ عازمین موجود نہ ہوں۔ رمی کے لیے جمرات میں ایک منزل پر صرف پچاس افراد رمی کرسکیں گے۔ اور ضروری ہے کہ اُن کے درمیان ڈیڑھ سے دو میٹر کا فاصلہ لازمی ہو۔ کنکریاں مارنے کے لیے حاجیوں کو پیکٹ میں کنکریاں دی جائیں گی جن پر جراثیم کش اسپرے کیا گیا ہوگا۔ حاجی انفرادی طور پر پینے کا پانی اور زم زم رکھ سکتے ہیں لیکن تمام مقامات سے پانی کے کولر ہٹادیے جائیں گے۔
سعودی عرب نے حج کے لوگو میں موجودہ حالات کے لحاظ سے دو الفاظ کا اضافہ کیا ہے وہ دو الفاظ ’’بسلام۔ آمنین‘‘ ہیں یہ سورہ الحجر کی آیت 46 سے ماخوذ ہیں۔ بسلام سے مراد سلامتی اور آمنین سے مراد امن کے ساتھ ہے یعنی اس سال حج سلامتی اور امن کے ساتھ ہوگا ان شاء اللہ۔ یوں تو حج کے علاوہ بھی عمرہ کی نیت سے سارے سال مسلمان سعودی عرب جاتے ہیں۔ حج کے دنوں میں پچھلے برسوں کے دوران حاجیوں کی تعداد نوے لاکھ سے زیادہ ہوگئی تھی۔ سعودی عرب کو اُمید تھی کہ آنے والے چار برسوں کے اندر ان کی تعداد ایک کروڑ بیس لاکھ تک ہوجائے گی۔ سعودی عرب کی معیشت کو حج سے بارہ سے پندرہ ارب ڈالر تک براہِ راست آمدنی ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ حجاج کرام وہاں جا کر علٰیحدہ سے جو رقم خرچ کرتے تھے وہ بھی پچیس ارب ڈالر سے زیادہ رقم ہوتی تھی۔ سعودی عرب کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ تیل ہے لیکن پچھلے برسوں میں تیل کی پیداوار کم کی گئی۔ پھر کورونا کے باعث اس کی پیداوار اور قیمت میں انتہائی کمی ہوگئی۔ جس کی وجہ سے سعودی عرب کے مرکزی بینک کو تقریباً 26 ارب ڈالر کا نقصان ہوا اور وہ بھی صرف ایک مارچ کے مہینے میں۔ سعودی عرب اور کویت جیسے ممالک جو ٹیکس فری مشہور تھے لیکن اب تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث ایسا نہیں ہے۔ عالمی وبا اور بین الاقوامی منڈیوں میں تیل کی طلب اور قیمتوں میں کمی کے باعث ان ممالک کی آمدنی میں کمی ہوئی ہے۔ سعودی عرب میں دو سال پہلے وی اے ٹی (ویلیو ایڈڈ ٹیکس) متعارف کرایا گیا تھا۔ اس کو اب پانچ فی صد سے بڑھا کر پندرہ فی صد کردیا گیا ہے۔ اس سے سعودی عرب کی اضافی آمدنی ہوگی یہ لیکن آمدنی میں اضافہ تو کرے گی لیکن یہ اقدامات پیداوار بڑھانے کے لیے نہیں ہوں گے۔
کویت جیسا امیر ملک قرض مانگنے کی حالت میں آپہنچا ہے جہاں ایسی قانون سازی کی جارہی ہے کہ وہ قرض کے لیے بین الاقوامی منڈی کا در کھٹکھٹا سکے۔ سعودی عرب کی معاشی پریشانیوں کا باعث ہمسایہ ملک یمن کے ساتھ مسلسل پانچ سال کی جنگ بھی ہے اس جنگ نے نہ صرف سعودی عرب کی نیک نامی کو متاثر کیا بلکہ سعودی عرب کے خزانے کو بے فائدہ مقاصد کے لیے نچوڑ کر رکھ دیا۔ بادشاہت میں اقتدار کا تسلسل عوام کی ضروریات کو پورا کرنے اور انہیں نوازتے رہنے میں ہے۔ دیکھا جائے تو اس وقت تیل کی قیمتوں اور وبا کے باعث یہ سب آسان نہیں۔ اس وقت خرچ آمدنی سے دوگنا ہے لہٰذا بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ریزرو فنڈ استعمال کرنا پڑیں گے جو چار سال کے بعد ختم ہوجائیں گے پھر بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے قرض لینا ہوگا۔ قرض ایک ایسا سلسلہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا کیوں کہ اس پر عاید سود اس کو ناقابل واپسی بنارہا ہوتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ یہ ایسا کمبل ہوتا ہے جس کو اگر ایک بار اوڑھ لیا جائے تو اس سے جان چھڑانی مشکل ہوتی ہے۔ دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں کہ کوئی ملک قرض حاصل کرکے اپنی معیشت کو اوپر لانے میں کامیاب ہوا ہو۔ پھر سعودی عرب کے لیے کورونا وائرس زیادہ پریشانی کا باعث ہوا ہے۔ جہاں حج کو محدود کرنے کے فیصلے سے سعودی معیشت کو زبردست دھچکا لگا ہے۔ مالی پریشانیاں سیاسی بحران کو جنم دیتی ہیں۔ سعودی ولی عہد کے ویژن 2030ء نے نوجوانوں کی آنکھ میں سنہری خواب جگائے تھے لیکن اس قسم کے حالات اُس پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہاں کے عوام کو ہمیشہ ایک پُرآسائش زندگی فراہم کرنے پر توجہ مرکوز رکھی گئی اور کاموں کے سلسلے میں غیر ملکیوں پر انحصار کیا گیا۔ اس سوچ نے عوام کو مشکل حالات سے گزرنے کے لیے تیار نہیں ہونے دیا۔ اب اگر ان حالات کے باعث عوام کو بلند معیار زندگی فراہم کرنے کی ضرورت تیل سے پوری نہیں ہوسکتی تو قرض لے کر پوری کرنا مناسب ہے؟ کیوں کہ آج اگر قرض کی رقم کم ہے تو کل سود کے ساتھ وہ بڑھتی چلی جائے گی۔ جس سے نکلنا ناممکن ہوگا۔