سائیکل سوار بھی کراچی ٹریفک پولیس کی زیادتیوں کا شکار بننے لگے

437

کراچی: شہر قائد میں ٹریفک پولیس کی زیادتیوں کا اب سائیکل سوار بھی نشانہ بننے لگے، ٹریفک پولیس دن بھر دھوپ اور گرمی میں کھڑے رہنے کے بعد 500 روپے کماتے ہیں، انہیں چالان دے کرفاقہ کشی پرمجبور کرنے لگی۔

پہلے تو موٹر سائیکل سوار، رکشہ اور لوڈر گاڑیوں کے ڈرائیور ٹریفک پولیس کی کارروائیوں کا ہدف تھے، لیکن اب ٹریفک پولیس نے غریب ٹھیلہ لگانے والوں اور سائیکل سواروں کو بھی پانچ پانچ سو روپے کے چالان تھمانے شروع کردیے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں کلفٹن ٹریفک سیکشن کا ٹریفک پولیس اہلکار غلام علی سائیکل پر بچوں کا سامان بیچ کر اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کی کوشش کرنے والے سائیکل سوار کو 500 کا چالان زبردستی تھمارہا ہے، کیونکہ سائیکل کا چالان نہیں ہتا تو ٹریفک پولیس اہلکار نے گاڑی کے نام کی جگہ پر 70cc موٹر سائیکل لکھ دیا۔

سائیکل سوار منت سماجت کررہا ہے کہ میرے گھر میں آٹا بھی نہیں، میں یہ چالان کیسے بھروں گا، لیکن گاڑی میں موجود ٹریفک پولیس اہلکار نے ایک نہ سنی اور چالان پھینک کر چلتے بنے۔

پاک سرزمین پارٹی کے رہنما رضا ہارون نے بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ کراچی کے علاقے کلفٹن میں پولیس اہلکار ایک “بڑے سرمایہ دار” کا اپنی “قیمتی سواری” سڑک کی رانگ سائڈ چلانے پر ٹریفک چالان کر رہا ہے، انہوں نے اس اقدام پر طنزیہ مزاج میں پولیس اہلکار کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ اس فرض شناسی پر! پولیس اہلکار کو تمغہ دینا تو بنتا ہے۔

۔