بحیرہ روم میں تیل کی تلاش پر فرانس نے ترکی کیخلاف محاذ بنالیا

221
بحیرۂ روم/ ایتھنز/ پیرس: ترکی کا جہاز تیل کی تلاش کے لیے کھدائی کررہا ہے‘ چھوٹی تصاویر معاملے پر یونانی رہنماؤں اور فرانسیسی وقبرصی صدور کی ملاقاتوں کی ہیں

پیرس/ انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) بحیرۂ روم میں تیل کی تلاش کے لیے کھدائی کرنے پر ترکی کے خلاف فرانس نے محاذ کھڑا کردیا ہے۔ فرانس نے ترکی پر سمندری حدود میں تجاوز کا الزام لگاتے ہوئے یورپی یونین کے رکن ممالک سے انقرہ کے خلاف پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے، تاہم ترکی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے دائرے میں ہے۔ فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں نے ترکی کے خلاف پابندیوں کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یوروپی یونین کے کسی بھی رکن ملک کے سمندری علاقوں کی خلاف ورزی یا پھر اس بارے میں دھمکی قابل قبول نہیں ہے۔ ترکی نے یورپی یونین کے دعوؤں کو یکسر مستر کرتے ہوئے کہا ہے کہ توانائی سے متعلق ہماری سرگرمیاں اپنی سمندری حدود میں ہیں اور قبرص یا یونان کے سمندری علاقوں میں کوئی دراندازی نہیں کی گئی ہے۔ تُرک حکومت کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں جن علاقوں پر قبرص یا پھر یونان کا دعویٰ ہے، وہ در اصل ترکی کے علاقے ہیں اور ان پانیوں میں ترکی کی سرگرمیاں اس کے اپنے حقوق کے دائرے میں ہیں۔ تُرک صدر کے ترجمان ابراہیم قالن نے ایک بیان میں کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ مشرقی بحیرۂ روم میں پائے جانے والے تمام قدرتی وسائل کو منصفانہ طریقے سے تقسیم کیا جائے۔ ہم کبھی اس طرح کی دھمکی یا پابندیوں کو تسلیم نہیں کریں گے۔ ہمارے لیے یونان کی زیادہ حقوق لینے کی کوشش قابل قبول نہیں ہے۔ ترکی کا سمندری جہاز اورک ریز، جو بحیرۂ روم کے پانیوں میں قدرتی گیس دریافت کرنے کے مشن پر ہے، درست اور مؤثر طریقے سے اپنی مہم میں مصروف ہے۔