پورٹ لینڈ میں مظاہرین کی سرکاری عمارتوں پر قبضے کی کوشش

162
پورٹ لینڈ: مظاہرین وفاقی عدالت کے احاطے کا جنگلا گرانے کی کوشش کررہے ہیں‘ شہریوں کو منتشر کرنے کے لیے فوج طاقت کا استعمال کر رہی ہے

پورٹ لینڈ (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا کے شہر پورٹ لینڈ میں احتجاجی مظاہروں میں شدت روز بہ روز برھتی جارہی ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب مظاہرین نے احتجاج کرتے گزاری، جب کہ صبح سویرے صدر ٹرمپ کے بھیجے گئے وفاقی دستوں اور مشتعل مظاہرین کے درمیان جھڑپیں تیز ہوگئیں۔ مظاہرین رات بھر وفاقی عدالتی احاطے اور پولیس اسٹیشن کا جنگلا گرا کر عمارتوں میں داخلے کی کوشش کرتے رہے۔ اس دوران پولیس اور فوجی اہل کاروں نے بند سڑکوں اور دیگر راستوں کو کھلوانے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور مظاہرین پرمرچوں کے اسپرے کیے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2ماہ قبل ریاست منی سوٹا کے شہر منیا پولس میں سیاہ فام شہری جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے بعد نسل پرستی کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج اب حکومت مخالف مظاہروں میں تبدیل ہو چکا ہے اور اس صورت حال کو بگاڑنے میں صدر ٹرمپ کا کلیدی کردار رہا کیوں کہ انہوں نے کئی شہروںمیں فوج بھیج کر مظاہرین کو مزید اشتعال دلا دیا ہے۔ دوسری جانب وفاقی عدالت کے ایک جج نے ٹرمپ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دے دیا۔ ضلعی عدالت کے جج میشیل سائمن نے مظاہرین پر سیکورٹی اہل کاروں کے تشدد کو روکنے اور گرفتار شہریوں کو فی الفور رہا کرنے کا حکم دیا۔ فیصلے میں حکم دیا گیا ہے کہ مظاہروں کی میڈیا کوریج کے لیے تصویر یا وڈیو بنانے اور آوازیں ریکارڈنگ کرنے والوں کو ان کے کام سے نہ روکا جائے۔ اسی طرح صحافیوں کو مظاہرین کے قریب جانے کے لیے خصوصی اجازت نامے بھی فراہم کیے جائیں۔