آسیہ اندرابی تہاڑ جیل کے ‘سزا وارڈ ‘ منتقل

394

مقبوضہ کشمیر:حریت رہنماء اور دختران ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی کو دو ساتھی خواتین کے سمیت بدنام زمانہ تہاڑ جیل  کے ‘سزا وارڈ ‘میں منتقل کردیا۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں خواتین مزاحمتی تحریک کی رہنماء  آسیہ اندرابی کو دو خواتین ساتھیوں ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی سمیت تہاڑ جیل کے ‘سزا وارڈ’ میں منتقل کردیا جبکہ بھارتی تحقیقاتی ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے عسکریت پسندوں کو مالی معاونت کی۔ بھارتی ایجنسی نے انہیں  کالے قانون یو اے پی اے ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا۔

دوسری جانب آسیہ اندرابی کے بیٹے احمد بن قاسم نے ٹویٹ کرکے بتایا کہ “میری ماں اور انکی دو خاتون ساتھیوں کو تہاڑ جیل کے سزا وارڈ منتقل کیا گیا ہے، میری ماں کی عمر 60 برس ہے جبکہ ناہیدہ نسرین 54 برس اور فہمیدہ صوفی 32 برس کی ہیں  اور تینوں خواتین مختلف امراض میں مبتلا ہیں۔

آسیہ اندرابی مقبوضہ کشمیر کی پاکستان سے الحاق کی حامی ہیں، وہ زندگی کا بڑا حصہ صرف بھارتی جیلوں میں گزار چکی ہیں، آسیہ اندرابی کشمیری خواتین کی تنظیم دختران ملت کی بانی ہیں۔ آسیہ اندرابی کشمیر علیحدگی پسند خواتین میں سب سے اہم ہیں۔ ان کے حامی انہیں آئرن لیڈی کہتے ہیں، آسیہ کے شوہر ڈاکٹر قاسم فکتو کو بھی جیل میں قید ہوئے 28 برس ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ دختران ملت کی چیئرپرسن سیدہ آسیہ اندرابی 2017 سے دہلی میں قید ہیں، انہیں مودی سرکار نے پاکستان کا پرچم اٹھانے اور پاکستان زندہ باز کے نعرے لگانے کے جرم میں غداری کا مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا ہوا ہے،25 مارچ 2015 کو آسیہ اندرابی نے کشمیر میں پاکستان کا قومی ترانہ گاتے ہوئے پاکستانی پرچم لہرایا۔

بعد ازاں اسی سال پاکستان کے یوم آزادی پر دختران ملت کی چیئرپرسن نے ایک تقریب میں پاکستانی پرچم لہرایا، 12 ستمبر 2015 کو حریت پسند رہنما سیدہ آسیہ اندرابی نے ایک گائے ذبح کر کے اس کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں گائے کا گوشت فروخت کرنے کی پابندی پر احتجاج کیا تھا، آسیہ اندرابی کے شوہر ڈاکٹر قاسم فکتو بھی عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

حریت رہنما مسرت عالم 2010 سے جیل میں ہیں، انہیں عدالتی حکم کے باوجود رہا نہیں کیا جاتا، یاسین ملک کو 22 فروری کو گرفتار کر کے پولیس تھانہ کوٹھی باغ میں بند کردیا گیاتھا۔